خیال کی پرواز

7,171

تحریر:آئمہ محمود۔۔
ٹی وی کے ایک ٹاک شو کے دوران پی ٹی آئی کے نعیم الحق کو ن لیگ کے دانیال عزیز کی کسی بات پر اتنا طیش آیا کہ انھوں نے دانیال عزیز کو گالی دیتے ہوئے تھپڑدے مارا۔ پی ٹی آئی کے چیر مین نے اس واقعہ کا فوراً نوٹس لیتے ہوئے نعیم الحق کو اپنے کئے پرمعذرت کرنے کو کہا ہے اور انھیں سخت وارنیگ دی ہے کہ آئندہ ایسی کسی حرکت کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انھوں نے کہا کہ نیا پاکستان بنانے کیلئے لازمی ہے کہ ہم سنجیدہ طور طریقے اختیار کریں اورخود کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہوئے تدبر، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں انھوں نے اپنے اراکین خصوصاً عہدداروں کو ہدایت کی کہ کوئی بات آپکو خواہ کتنی ہی ناگوار کیوں نہ لگے صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور سخت ترین بات کا جواب بھی شائستگی سے دیں۔ کسی پر ہاتھ اٹھانا یا نازیبازبان استعمال کرنے کی کبھی بھی اجازت نہیں دی جا سکتی آئندہ ایسا کرنے والوں کو پارٹی سے برخاست کر دیا جائے گا ۔ ہم جھوٹ ، بہتان اور کردارکشی کی سیاست کی بجائے ملکی اور عوامی مدوں پر Debate کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔چیرمین کے بیان کو ن لیگ کے سربراہ اور تمام رہنماوں نے سراہا اور اپنے ممبران اور عہد داروں کو الزام تراشیوں اور تنقید برائے تنقید سے پرہیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے باقاعدہ ایک کوڈ آف کنڈکٹ جاری کیا ہے جسکی پابندی ہر ایک پر ہر جگہ لازم ہو گی۔ دیگر سیاسی پارٹیوں نے بھی اپنے ورکرز اور رہنماوں کو آداب گفتگوسیکھانے شروع کرد یئے ہیں ۔مذہبی جماعتوں نے بھی اپنے پیروکاروں کو پہلے تولیں پھر بولیں کے اصول پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس development کو عوامی حلقے اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے اسکی تحسین کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ قدم دیر سے اٹھایا گیا ہے لیکن دیر آید درست آید ۔ تاہم خوشامد پرست ، موقع پرست اور آگ پر ہاتھ سیکنے والے حلقے شدید پریشانی کا شکار ہیں انھیں اپنی دکان بند ہوتی نظر آرہی ہے ٹی وی ٹاک شوز کے میزبان اور نیوز ریڈر بھی مایوس نظر آرہے ہیں اگر سیاسی پارٹیوں کے افراد ان کے پروگراموں میں Swear words کا استعمال نہیں کریں گے تو انکی rating کیسے آئے گی اور خبروں میں کونسے کلپ بار بار چلائیں جائیں گے ۔ عوامی اجتماعات میں سیاسی رہنما دوسری پارٹیوں کے سربراہوں کو للکاریں گے نہیں اور انھیں چور ڈاکوں جیسے خطابات نہیں دیں گے تو ایسے پھیکے اجتماعات میں کیا رہ جائے گا ؟ تمام چینلز نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے جسمیں سیاسی قیادتوں کے مہذب اور مصلحانہ طور طریقوں سے نپٹنے کیلئے تدابیر کی جائیں گی تاکہ گلشن کے کاروبارمیں کسی قسم کی مندی نہ ہو۔ ایک طرف تو یہ سب ہو رہاہے ساتھ ہی پتہ چلا کہ انڈیا کے خفیہ ادارے کے سابقہ سربراہ اے ایس دلت جنکا پورا نام امرجیت سنگھ دلت ہے اور پاکستانی خفیہ ادارے کے سابقہ سربراہ جنرل اسد درانی نے مل کر ایک کتاب ترتیب دی ہے جسکا عنوان ، سپائی کرونکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی ا لیوژن آف پیس، جب سے یہ خبر سامنے آئی ہے دونوں ملکوں کے ترقی پسندوں، شاعروں ، فنکاروں ، لکھاریوں ، ادیبوں اور امن کی خواہش رکھنے والے تمام افراد کو روشنی کی کرن نظر آنے لگی ہے بظاہر دو دشمن ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے چیفس خواہ وہ سابقہ ہی کیوں نہ ہوں مل کر کتاب کا پروجیکٹ مکمل کر سکتے ہیں ۔ اپنے تجربات اور ان سے اخذ کردہ نتائج کوشئیر کرتے ہوئے ایک page پر اکٹھے ہو سکتے ہیں تو کیا کچھ ممکن نہیں؟ ْ دونوں ممالک کے عوام کے باہمی میل جول اورآمدورفت کو آسان بناکر تجارت ، سیاحت، ٹیکنالوجی اور کاروبا ر کے پیدا ہونے والے نئے مواقعوں کو دونوں ملکوں کی ترقی و خوشحالی کا ذریعہ بنایاجاسکتا ہے۔ وہ لوگ جو سابقہ وزیراعظم کو بھارت کے ساتھ روابط کی وجہ سے غداری کا طعنہ دے رہے تھے اور جوپڑوسی ملک کے ساتھ دوستی کی فضا ء بنانے پر زور دینے والوں کو ملک دشمن گردانتے تھے تھے اب بغلیں جھانک رہے ہیں۔ مودی حکومت اور اس کی انتہا پسند آر ایس ایس کے کاری کرتا کے دل ٹوٹ گئے ہیں کہ اب لوگوں کو غداری کے میڈل دینے کے لیے کو نسے بہانے استعمال کریں گے ۔ پہلے تو وہ کسی کو بھی جسمیں کالج و یونیورسٹیوں کے لڑکے لڑکیاں بھی شامل ہیں اس بات پر قابل مذمت قرار دیتے تھے کہ وہ پاکستان کیساتھ جنگ نہ کرنے کی بات کرتے تھے اور وہ توڑ پھوڑ ، تشدد اور قتل و غارت سے بھٹکے ہووں کو وطن کی محبت کا پاٹ پڑھانے پر تل جاتے تھے ۔ اب یہ جواز کیونکر استعمال ہونگے! جب را کے سابقہ باس یہ کہتے ہیں کہ ریڈ کارپٹ بچھائیے اور پاکستانی جنرل کو دہلی بلائیے وہ نہ صرف آئی ایس آئی کی تعریف کرتے ہیں بلکہ دونوں ملکوں کو امن کی بحالی کیلئے بات چیت، پروازیں بڑھانے اور کرکٹ کے تعلقات میں اضافے کی تجویز بھی دیتے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے شرپسند عناصر نے سہ فریقی کانفرنس بلائی ہے جسمیں امریکی انتہا پسند گروپ اجلاس کو Facilitate کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں گے کہ کسطرح خفیہ اداروں کے سربراہوں کو دونوں ممالک کے لوگوں کو امن کی راہ دیکھانے سے باز رکھا جا ے تاکہ کسی سویلین کو ایسی بات کرنے کی جرات نہ ہو۔ ایسے حالات کیسے برقرار رکھے جائیں کہ جدید ترین جنگی ہتھیاروں کی خریداری کا جنون نہ صرف قائم رہے بلکہ اس میں اضافہ ہوتا رہے کیونکہ جنگ سے زیادہ نفع بخش بزنس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام کے ان جذبات کو کیسے فروغ دیا جائے کہ دوسرے سے نفرت ہی اپنے ملک سے محبت کی ضمانت ہے تغافت اور مذہب کی خلیج کو مذید گہرا اور وسیع کیا جائے۔ ہم اس حیرت انگیز ڈرامے کو ہکا بکا دیکھ ہی رہے تھے کہ سہری پر بجانے والے سائرن کی آواز کانوں میں پڑی اورہڑبڑا کر اٹھے تو پتہ چلا کہ جاگتی دنیا کے واقعات خواب کی دنیا میں شامل ہو گئے تھے ۔ جو حسرتیں کھلی آنکھوں سے تعبیر نہ بن پائیں وہ بند آنکھوں میں سپنے بن کر جلوہ افروز ہو جاتیں ہیں۔سیاست دان برداشت اوردور اندیشی کا مظاہرہ کریں ایسا شاید خواب میں ہی ممکن نظر آتا ہے کیونکہ گالی گلوچ یا کسی پر ہاتھ اٹھانے جیسی پستی جب ہیڈزآف پارٹینر کر رہے ہوں تو کو ئی بتائے کہ ہم کہیں کیا ؟ جہاں تک کتاب کا معاملہ ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اسمیں ایسا کچھ نیا انکشاف نہیں کیا گیا جس کے بارے میں پہلے ہی ملکی یا بین الاقوامی طور پر ذکر نہ ہو چکا ہو ۔ جنر ل مشرف نے اپنی کتاب ،ان دی لائن آف فائر، میں اس سے زیادہ تنقیدی معاملات کا خلاصہ کیا تھا تاہم جو بات Spy Chronicles کو مختلف بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اسمیں درج واقعات کو بیان کرنے والے جاسوسی اداروں کے باس رہے ہیں یہ وہ ادارے ہیں جن پر دونوں ملکوں میں ہونے والے ہر فساد اور تشدد کی ذمہ د اری ڈالی جاتی ہے ان اداروں کے سابقہ سربراہ امن کی بحالی کی بات کریں تو ہمارے نزدیک یہ خوش کن بات ہے اگرچہ امن وہ گاجر ہے جو دونوں ممالک کے باشندوں کو وقتاََ فوقتاََ فاصلے سے دیکھائی تو جاتی ہے لیکن اس چھونے کی اجازت کبھی نہیں دی جاتی۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.