۱۵ رمضان المبارک ۔۔ یوم یتامیٰ

323

تحریر:محمد عبدالشکور۔۔چیئرمین پاکستان آرفن کئیر فورم، صدر، الخدمت فائونڈیشن پاکستان۔۔۔۔اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی(آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن) نے دسمبر2013 میں پہلی بار ترکی کی معروف سماجی مددگار تنظیم آئی ایچ ایچ کی تجویز پر تمام اسلامی ملکوں میں 15 رمضان کو یتیم بچوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا جسے دنیا بھر میں آرفن کیئر کا کام کرنے والے اداروں اور تنظیموں نے سراہا اور اس پر عمل کیا۔ پاکستان میں اس سلسلے میں آرفن کیئر کا کام کرنے والے سبھی اہم اداروں کے سربراہان کا اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا جہاں ایک بڑے فیصلہ میںملک بھر میں اس عظیم کام سے وابستہ تمام تنظیموں پر مشتمل پاکستان آرفن کیئر فورم تشکیل دے دیا گیا تاکہ اس سال پوری امت مسلمہ کے ساتھ مل کر زیادہ بڑے پیمانے پر 15 رمضان المبارک کو پاکستان بھر میں ان مظلوم اور بے سہارا ہو جانے والے یتیم بچوں کے ساتھ یک جہتی کے دن کے طور پر منایا جا سکے۔اِسی ضمن میں ’’پاکستان آرفن کیئر فورم‘‘ اس کوشش میں بھی سرکرداںرہی کہ اس دن کو سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ جس کام کو کچھ اداروں نے ملکر شروع کیا تھا حکومتی سرپرستی مل جانے کے بعد اس کے ثمرات ملک میں بسنے والے ہر ایک یتیم اور بے سہار ا تک پہنچائے جاسکیں۔اللہ کے فضل و کرم سے ایوانِ بالا (سینٹ)میں لاوارث و یتیم بچوں کی کفالت، بحالی وفلاح اور ہر سال15 رمضان المبارک کو لاوارث و یتیم بچوں کا دن منانے کا بل20 مئی 2016 ء کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ 15رمضان المبارک کو ملک بھر میں ’’یوم یتامیٰ‘‘ منا یا جائے گا۔ پاکستان آرفن کئیر فورم قائد ایوان کا مشکور ہے جن کی خصوصی کاوش کی وجہ سے اِس عظیم مقصد میں کامیابی نصیب ہوئی ۔پاکستان آرفن کئیر فورم میںالخدمت فائونڈیشن ، ہیلپنگ ہینڈ، مسلم ایڈ ، اسلامک ریلیف پاکستان،ہیومن اپیل، قطر چیرٹی ، ریڈ فائونڈیشن، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ، تعمیر ملت فائونڈیشن، ایدھی ہومز،انجمن فیض الاسلام،صراط الجنت ٹرسٹ، خبیب فائونڈیشن،سویٹ ہومز اور فائونڈیشن آف دی فیتھ فل شامل ہیں اور ہر وہ تنظیم اور ادارہ جو ملک میں یتیم بچوں کی کفا لت یا فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہا ہے وہ ’’پاکستان آرفن کئیر فورم‘‘ کا حصہ بن سکتا ہے۔ ان یتیم اور بے آسرا بچوں کے لئے جو اکثر اپنے خاندانوں کی سپورٹ سے بھی محروم ہوتے ہیں اور معاشرے کی ہمت افزائی سے بھی ۔یہ معاملہ یہاں تک ہی نہیں رہتا ،تعلیم وتربیت اور دینی و اخلاقی روح سے محرومی،محبت اور توجہ کی کمی کے نتیجے میں ان پر سے سوسائٹی کا اختیار ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اب وہ زندگی کی جس راہ پر چل پڑیں اُس راہ میں روک ٹوک کرنے والا کم ہی کوئی ہوتا ہے ،یوں ایک اہم ترین بچہ محرومی اور اکثر ظلم کا شکار ہو کر منفی ردعمل سے بھری زندگی بسر کرنے لگتا ہے ۔اس اہم قومی ایشو کی طرف قوم اور دنیا کے تما م اہل درد اور اہل دل کو متوجہ کیا جا نا لازم ہے کہ ایک اکیلے پاکستان میں والد کی شفقت سے محروم ہو کر زمانے کے تھپیڑے کھانے والے ایسے بچوں کی تعداد 42 لاکھ کے قریب ہے۔بے شک یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ اس قوم نے 22 لاکھ سے زیادہ ایسے بچوں کو ان کے اپنے خاندانوں میں نہ صرف پناہ دی ہوئی ہے بلکہ یہ خاندان ان کے ساتھ کھڑے ہیں،ان کی تعلیم و تربیت کا ایک عمل جاری رہتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یتیم بچوں پر وہ عذاب نہیں ٹوٹے جس کا انہیں امریکہ یا یورپ میں سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اقوام متحدہ کی ہی رپورٹ کے مطابق یورپ میں20 لاکھ یتیم بچوں کو جسم فروشی یعنی پراسٹی ٹیوشن کے عذاب میں جھونک دیا جاتا ہے۔آرگن مافیا کے ہاتھوں بربادہونے اور موت کے گھاٹ اترنے وا لے یتیم بچوں کی تعداد بھی 15 لاکھ سے زیادہ ہے جن کو ہیومن ٹریفکنگ کے بعد اپنے جسموں کے قیمتی اعضا سے محروم کر کے پوری بے رحمی کے ساتھ تڑپ تڑپ کے مرنے دیا جاتا ہے ۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی پاکستان میں ایسی شرمناک صورتحال نہیں اور اللہ اور اس کے رسول کو ماننے والے اہلِ دل اور اہلِ درد ہزاروں بچوں کو پال رہے ہیں ان کی تعلیم کے اخراجات اٹھا رہے ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ یہ قوم اس مسئلے کہ طرف زیادہ منصوبہ بندی اور دلشوزی کے ساتھ توجہ دے اور یوم یتامیٰ نے یہ موقع فراہم کردیا ہے۔
مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ ہمارے ملک کے مخیر حضرات کے تعاون سے فلاحی ادارے اور تنظیمیںیتیم بچوں کی فلاح و بہبود اور کفالت کے حوالے سے خاطر خواہ خدمات سر انجام دے رہی ہیںبلکہ یتیم بچوں کی فلاح و بہبود اور کفالت کے لئے سر گرم ادارے گزشتہ سال سے 15 رمضان المبارک کو ملک بھر میں آرفن ڈے یا یوم یتامیٰ کے طور پر بھی منا رہے ہیں تاکہ سبھی اہل خیر اس حوالے سے آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری نبھائیں ۔رسول اللہ ﷺ کی اِس حدیث کے مصداق ہو نا یقینا َ عزت اور قسمت کا معاملہ ہے کہ جو کوئی اپنے آس پاس کسی یتیم بچے کی کفالت اور مدد کر ے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے دو انگلیاںیعنی کفا لت یتیم سے جنت کا حصول بھی اور رفاقت رسول بھی ممکن ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس سال ہم سب مل کر ان لاکھوںغیر محفوظ یتیم بچوں کے لئے ایک بہتر اور محفوظ معاشرے کی تعمیر کے سوچنے کا آغاز کریں گے جو فی الوقت ہماری توجہ کے منتظر ہیں۔یتیم بچے اس لئے بھی زیادہ توجہ کے مستحق ہوتے ہیں کہ اکثر ان کے قریبی عزیز ان کو لاوارث جان کر ان کے گھر ،جائیداد پر قابض ہوجاتے ہیں وراثت سے انہیں ظالمانہ طور پر محروم کردیا جاتا ہے ۔میں سمجھتا ہوں قوم کو اس طرف بھی توجہ کرنی ہوگی تاکہ اپنے ہی بچوں پر ظلم کر کے اپنی عاقبت کو تباہ ہونے سے بھی بچایا جا سکے ۔
UNICEF کی موجودہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں اس وقت13 کروڑ20 لاکھ بچے ایسے ہیں جو کہ اپنے ماں باپ (والدین) کو کھوکر زندگی گزاررہے ہیں۔ایشیاء میں بھی 6 کروڑبچے یتیم ہیں۔پاکستان 19 کروڑ آبادی کا ملک جس کی آبادی میں نوجوانوں اور بچوں کا تناسب بہت زیادہ ہے ۔پاکستان میں صرف 5 کروڑ بچے ہیںاور ان میں سے 42 لاکھ بچے یتیم ہیں،یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ والدین کی شفقت سے محروم بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس معاشرے کے اہل خیر کی توجہ کی منتظر ہے ۔جنگوں ،آفتوں اور قدرتی طوفانوں کی وجہ سے والدین سے محروم ہونے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد کی مشکلات کا ہم بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں ، چونکہ ہم نے یہ مشکل وقت اپنے زلزلہ زدہ علاقوں اور کشمیر میں ایسے بے شمار یتیم بچوں اور بچیوں پر آتے خود دیکھاہے جن کے والدین زلزلے کی نذر ہوگئے تھے اور جو دیکھتے ہی دیکھتے دنیا میں بے یارومددگار رہ گئے۔
میری آرزو ہے کہ ہم سب جن کو ہمارے عظیم رب نے مالی آسودگی دی ہوئی ہے ،آگے آئیں او رنہ صرف دودو چار چار بچوں کی تعلیم اور تربیت کا ذمہ اٹھا لیں بلکہ جہاںجہاں ممکن ہو ایسے بڑے ادارے خود بھی قائم کریں تاکہ اپنے وطن میں یتیم بچوں کی اتنی بڑی تعداد کو اس معاشرے کا کار آمد شہری اور فرد بنانے میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.