17سال سے لاپتہ نوجوان کے مقدمے کا چالان پیش نہ کرنے پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا اظہار برہمی

173

لاہور (کورٹ رپورٹر) 17 سال سے لا پتہ نوجوان کے مقدمہ کی سماعت ، محکمہ پولیس کی روائتی ہڈدھرمی تاحال مقدمے کے چالان پیش نہ کیا جا سکا ، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی عدالت کے باہر مغوی کی ماں رو رو کر پولیس دہائی دیتی رہی ، لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی 17 سال سے مقدے کا چالان جمع نہ کروانے پرپولیس آفیسر سے اظہار برہمی کرتے ہوئے متعلقہ ڈویژن کے ایس پی کو کیس کا تمام ریکارڈ لے کر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ 17سال قبل ندیم قیصر جوکہ سیکو فیکٹری میں بطور ملازمت کام کر رہا تھا ڈیوٹی کے واپسی پر گھر پہنچا ہی تھا کہ واپسی پر اسکے ساتھی حنیف اور ندیم اسکوبلانے کیلئے آگئے کہ فیکٹری کا مالک آپکو دوبارہ بلا رہا ہے جوکہ اپنے مالک سے ملنے گیا اور تاحال واپس نہ آیا ایف آئی درج ہونے کے بعد 14 دن میںدرج ہونیوالا چالان پولیس کی عدم توجہ کے باعث تاحال عدالت میں جمع نہ کروایا جا سکا۔جس پر لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی 17 سال سے مقدے کا چالان جمع نہ کروانے پرپولیس آفیسر سے اظہار برہمی کرتے ہوئے اگلی سماعت میں متعلقہ ڈویژن کے ایس پی کو کیس کا تمام ریکارڈ لے کر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا۔ندیم قیصر کے مقدمے کی سماعت آج صبح تک کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.