اقتدار کے دکھ!!

6,159

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔لفظ پاور سے ذہن میں سیاستدانوں یا امریکہ کا خیال آتا ہے لیکن زندگی کے کھیل میں اعلی سطح سے لے کر خاندان کی سطح تک شعوری اور لا شعوری طور پر ہر کوئی اس کے حصول کے لیے سرکرداں ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ دولت کی طرح پاور بھی کبھی کا فی نہیں ہوتی ، زیادہ سے زیادہ کی تمنا لگی رہتی ہے ۔ تاہم عام لوگوں کی زندگی جینے کی جدوجہد کبھی بھی طاقت کے زمرے میں نہیں آتی ۔ ہاں انکی جہد مشقت دوسروں کی تن آواری کی وجہ ضرور بنتی ہے کسی بھی معاشرتی ڈھانچے میں اہل اقتدار کو اپنے اختیارات کے استعمال کا قا نو نی حق حاصل ہوتا ہے جس کو پولیٹکل پاور کہہ سکتے ہیں ۔ سوشل سائنس کے مطابق لوگوں کے رویوں پر اثرانداز ہو کر نہ صرف انھیں کنٹرول کرنا بلکہ انھیں جزوی یا مکمل طور پر تبدیل کر دینے کی صلاحیت پولیٹکل پاور کہلاتی ہے یہ لازمی نہیں کہ حکومتوں کے پاس مکمل طاقت ہو معاشرے کے مختلف سکیٹرز کسی نہ کسی حد تک اپنی پاور کا استعمال کرتے ہیں ۔سیاسی و غیر سیاسی گروہ ، سرکاری و غیرسرکاری ادارے ، دینی جماعتیں اور میڈیا سب کے وجود کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگوں پر وہ کسقدر اثرانداز ہو کر اپنی اپنی طاقت و اہمیت کامظاہرہ کر سکتے ہیں اس دوڑ میں زیادہ کا میاب وہ رہتے ہیں جن کے پاس وسائل و زر کی فراوانی ہو تی ہے ۔
عوام کے خیالات ، پسند و نا پسند ، اچھے برے اورصحیح و غلط کے معیار بنانے اور بدلنے کیلئے کئی ہتکنھڈے استعمال کئے جاتے ہیں میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال جسمیں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔لوگوں کو Manipulate کرنا اور حقائق کو لٹو کی طرح گھما کر پیش کرنا پاور گیم میں کا میابی کی کنجی ہے۔ پاکستان میں طاقت کے حصول کی جاری جنگ میں عام لوگوں کی حیثیت شطرنج کے مہروں سے زیادہ نہیں لیکن چونکہ Manipulation کا زمانہ ہے اسی لیے جو زیادہ مہارت سے لوگوں کو یقین دلا دے کہ ان کی ترقی و کامرانی سے بڑھ کر ان کا کو ئی مطمع نظر نہیں ،اسکی واہ واہ ہے۔ یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں ؟ ان کے پاس کوئی عملی منصوبہ ہے ملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کا یا نہیں؟ پاکستانی سیاست میں لوگوں کے جذبات کو ابھار کر ، انھیںڈرا کر اور سبز باغ دکھا کر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کی کو شش کی جا تی ہے ۔ آمرانہ حکومت ہو تو سیاستدانوں کو نااہل اور کرپٹ قرار دے کر ملک اور اس کے لوگوں کو جمہوریت کے قابل بنانے کی کوشیشیںشروع ہو جا تی ہیں اور جب آمر صاحب کے زیر سایہ سیاستدان جمہوریت کا سبق پڑھ کر اس قابل ہو جاتے ہیں کہ جمہوریت کو گراس روٹ تک لے جائیں تو پھر چاروں طرف جمہوریت کا حسن اپنے جلولے دیکھانا شروع کر دیتا ہے۔ دھاندلی کا رونا، پنکچروں کے انکشاف، دھرنوں ، احتجاجوں ،جلسے جلوسوں کا تماشہ شروع ہوتاہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی! لگتا ہے کہ حکومت تب گئی کہ اب گئی۔ جب اس سے بات بنتی نظر نہیں آتی اور کوئی ہلچل نہیں ہو تی تو پھر کرپشن کا واویلا مچایا جاتا ۔ حکومت میں ہر کو ئی بدعنوان اور شیطان ، حکومت سے باہر ہر کوئی فرشتہ۔ انسان کہیں نہیں ۔ آخر کار خدا خدا کر تقریبا ساڑھے چار سال بعد نااہلی کی خبر سے مرجھائے چہروں پر رونق واپس آتی ہے تو پھر ایک اور احتجاجی صدا گونج اٹھتی ہے عوام کے مینڈیٹ کو رد کرنے کی۔ پھر عہدوں سے ہٹائے جانے والوں کو اچانک احساس ہوتا ہے ملک میں بہت کچھ آئین کے خلاف ہو رہاہے بہت سارئے فیکٹرز ریاست کے کنٹرول میں نہیں۔ ملک میں دہشت گردی کی وجہ بیرونی نہیں اندورنی ہے۔ ان کا کہنا بجا لیکن یہ کیا کہ چار سال سے زیادہ عرصہ حکومت میں سب سے اعلی منصب پر فائز رہنے کے دوران انھوں نے یہ سوال نہیں اٹھائے ۔کیا اس وقت یہ سب کچھ نہیں ہو رہا تھا اگر ہو رہا تھا تو وہ چپ کیوں رہے؟ اقتدار میں رہتے ہوئے جو سچ ہوتا ہے وہ اقتدار سے نکلتے ہی جھوٹ کیوں بن جاتا ہے؟ طاقت اور وہ بھی لامحدود طاقت پانے کی خواہش معاشرے میں مسلسل چپقلش اور محاصمت کی وجہ بنی رہتی ہے جسکا خمیازہ بالا آخر عوام کو ہی چکانا پڑتا ہے ایک بار کسی نے پنجاب کے سابقہ وزیر اعلی غلام حیدر وائیں صاحب سے پو چھا کہ وزارت اعلی تو آپکے پاس ہے لیکن فیصلے کو ئی اور کرتا ہے تو ایسی وزارت کا کیا فائدہ؟ وائیں صاحب نے سادگی سے جواب دیا کہ فیصلے چاہے کو ئی بھی کرئے ہوٹر تو میری گاڑی پر لگا ہے ۔ وائیں صاحب قناعت پسند آدمی تھے جو ہوٹر اور اس سے ملنے والے پروٹوکول پر مطمین ہو گئے اختیار کے اگلے درجوں تک پہنچنے کا حیلہ نہیں کیا ویسے بھی حکومتی رشتوں میں ایک پارٹنر زیادہ طاقت ور ہو تو دوسرے پارٹنر کی بہتر ی اسی میں ہوتی ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے اندر رہ کر کام کرئے۔
پاور گیم میں طے شدہ سے زیادہ وسائل یا اختیار کا مطالبہ گیم سے باہر کر دئیے جانے کا بھی سبب بن جاتا ہے تب عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اقتدار میں آنا بھی آپکے کسی کام نہیں آتا۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ حکمران اپنی ناکامیوں کے جواز میں کام نہ کرنے دئے جانے اور محدود اختیارات کا رونا روتے ہیں اور الزام نادیدہ قوتوں کو دیا جاتا ہے جو ملک میں جمہوریت کو مضبوط نہیں ہونے دیتی ۔ حکومت کا موقف درست بھی مان لیا جائے تو سوال یہ ہے اگر آپ اس قدر بے بس اور مجبور ہیں تو پھر ان نمائشی عہدوں سے کیوں چپکے ہوئے ہیں؟ حکومت کا حصول کیا صرف ذاتی جاہ وجلال کے لیے ہوتا ہے یا عوامی فلاح و بہبود اور جمہوریت کی مضبوطی بھی پیش نظر ہے؟ اگر عوام کا درد اور ملک کی ترقی مقصود ہے تو پھر ایسے بے اختیار عہدوں کو ٹھکرا کیوں نہیں دیا جاتا ۔ ایسے بے اختیار منصب سے فارغ ہونے پر اتنا دکھ اور احتجاج کس لیے؟ جواب ملتا ہے کہ جمہوریت کے تسلسل اور ترقی کے لیے۔ لیکن اگر جمہوریت چند نمائشی عوامی نمائندوں کا نام ہے تو ایسی جمہوریت سو سال کے تسلسل کے بعد بھی مستحکم اور پائیدار نہ ہو گی عوام کی حکومت اورحکمرانی تب ہی ممکن ہو گی جب پاور گیم میں صرف گاڑیوں پر ہوٹر اورپرٹوکول کی خواہش سے آگے نکل کر لوگوں کی خوشحالی اور ترقی ہی حقیقی منزل ہو گی ۔ جب سیاسی جماعتیں کٹھ پتلیوں کی بجائے اصولی سیاست کو اپنائیں گی۔ تمام طبقات کو نمائندگی دی جائے گی ۔ قانون سب کے لیے اور سب پر نافذ ہو گا ۔ کرپشن پر سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہوگا ورنہ کیوں نکالا سے شروع ہونے والا سوالات کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو گا اور جواب میں صرف نااہلی اور غداری کا طعنہ ملے گا۔ جالب کی ایک پرانی نظم ہے جو بالکل پرانی نہیں لگتی۔
اٹھا رہا ہے جو فتنے مری زمینوں میں وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں
کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہو گا جو پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے سینوں میں
یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں کہ اقتدار رہے ان کے جا نشینوں میں
یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لیے کھڑے رہو گے کہاں تک تماش بینوں میں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.