آب گراں

5,231

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔غضب کا کہرا اور سردی ایسے کڑاکے کی کہ دانت بج رہے ہیں لیکن اطمینان بخش بات یہ ہے کہ گھر کے ہر کمرے میں گیس ہیڑ گرما ہٹ کا ذریعہ ہے کچن میں گیس کا چولہا تب بند ہوتا جب سب سونے چلے جاتے۔ کنال روڈ اپنی نہر ، درختوں اور سبزے کی وجہ سے لاہور کی خوبصورت ترین سڑکوں میں سے ایک ۔ ہلکی بارشوں میں سڑک گردی کرتے ہوئے طراوت آنکھوں سے ہوتی ہوئی قلب و روح تک محسوس ہوتی۔بچے بچیاں اپنی گاڑیوں ، بسوں یا پیدل بلا خوف تعلیمی اداروں تک جاتے۔ دودھ، دہی ، مکھن اور گھی کاذائقہ خالص۔ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ ہوتی لیکن یہ نہیں کہ بکرے کا کہہ کر گدھے کا گوشت کھلاوئ۔ راوی بہتا دریا ہے۔ نلکوں سے خوب پانی آتا ہے اگرچہ یہ موٹر کا کمال ہے لیکن پانی صاف ستھرا ، بلا جھجک پیو اور کھانا پکانے میں استعمال کروئ۔
شہروں میں ہر گھر میں بجلی ، آندھی طوفان میںچلی بھی جا تی لیکن ایسا نہیں کہ روزانہ گھنٹوں غائب رہ کر لوگوں کا صبر آزمائے۔ جرائم، دشمن داریاں اور شریکے بازیاں بھی ہیں لیکن ایسا نہیں کہ موت زندگی پرغالب آ جائے ۔غربت ہے لیکن گلیمراز نہیں ہوئی، دکھ ، محرومیاں اور بے بسیاں ہیں لیکن ہر وقت ان کا سیاپانہیں ۔ حکومتوں سے گلے شکوے ، شکایات ہیں لیکن انھیں گلے کا ڈھول نہیں بنالیا گیا۔ ہماری ایک سینئر دوست بیتے دنوں کی باتیں کر رہی تھیں تو خیال آیا کب اور کیوں انسان پیچھے مڑ مڑ کر دیکھنے لگتاہے؟ اوربعض اوقات تو ماضی سے آتی صدائیں اسے منجمد کردیتی ہیں ۔ کہتے ہیں جب آگے اندھیرا نظر آے تو گئے دنوں کی یادوں کے جگنووں سے حال کو روشن کرنے اور مستقبل کے لیے امید کا سامان کیا جاتا ہے گذرے وقت کی خوبیوں کو بیان کرنا ایسا فرض منصبی ہے جو ہر جنریشن صدق دل سے ادا کرتی ہے وقت کو گزرتی عمرسے ناپا جاتاہے جب ہم بچے سے بڑے اور مذید بڑے ہو رہے ہیں تونہ صرف ہم بدل رہے بلکہ آس پاس بھی تبدیل ہو رہاہے انسانی رویے، بول چال، رہن سہن کے طریقے ، باہمی میل جول ، رسومات، رشتے، پہناوے وغیرہ سب بدل ر ہے ہیں کچھ Changesہمیں پسند آتی ہیں کچھ ہماری طبیعت پر گراں گذرتی ہیںکچھ باتوں کو ہم ترقی سے تعبیر کرتے ہیں تو کئی پستی کی طرف لے جاتی محسوس ہوتی ہیں بدلتے رویوں کی ایک مثال پچھلے دنوں جاپانی وزیراعظم شنزو آبے صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر عشائیے پر مدعو تھے تو انھیں ڈیزرٹ جوتے میں پیش کیا گیا ۔ اسرائیل کے معروف شیف جو وزیراعظم کے ذاتی باورچی بھی ہیں انھوں نے عشائیے کے آخر میں دھات سے بنے جوتوں میں شیریں خوان پیش کیا جسمیں منتخب چاکلیٹ رکھے گئے تھے خبر کے مطابق جاپانی وزیراعظم نے اس میٹھے کو تناول کیا ۔ سمجھنا مشکل ہے کہ اس وقت وہ کیا سوچ رہے ہو نگے کیونکہ جاپا نی کلچر میں جوتے کی حیثیت بہت ناچیز کی ہے گھروں میں جوتا لے کے آنا بالکل منع ہے۔ وزیر اعظم صاحب اور انکا سٹاف تو اپنے دفاتر میں بھی جوتے اتار کر جاتے ہیں۔ہمارا خیال ہے کہ وزیراعظم نے یہ سوچ کہ میٹھا کھا لیا ہو گا کہ کل کو اسرائیل کے پرائم منسٹر صاحب پاور پوائنٹ، سی ڈیز اور فائلز سے بھرے بکسوں سے تیار رپورٹ سے یہ ثابت کرنے کی کو شش نہ کریں کہ جاپان بھی ایران کے نیوکلیر پروگرام میں شمولیت کا سوچ رہا ہے ۔ خیر یہ تو مذاق کی بات تھی نتن باہو صاحب کی کیا بات ہے کالے تختے پر سفید چاک سے بھی لکھ کر دوسرے ملکوں کے رازوں سے پردہ اٹھائیں تو کو ئی کیا کرسکتا ہے آخر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کے یار خاص ہیں۔ بہر حال بات ہو رہی تھی گزرے پلوں کی اور بدلتی اقدار کی ، ہماری اقدار اور جینے کے ڈھنگ تو اسقدر بدل گئے ہیں کہ راوی کا پانی بخارات بن کر اڑ چکاہے اب صرف گندہ نالہ رہ گیا ہے شہر کے درخت تو پلوں ، انڈر پاسوں اور اورنج ٹرین کے منصوبوں کی نظر ہو چکے ہیں زرعی زمین پر رہائشی کالونیاں بن گئیں ۔ ہیٹروں میں تو دور کی بات چولہوں میں گیس نہیں رہی کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ پر کچھ کہنا سراسر وقت کا ضیاںلگتا ہے اور نلکوں کے پانی میں آلودگی کا یہ حال ہے کہ وہ اگرچہ قطعا پینے کے قابل نہیں لیکن لاہور کی 80 فیصد آبادی اسی آلودہ پانی کو پینے پر مجبور ہے ۔ ایک کروڑ سے زائد آبادی کے اس شہر میں جہاں تیزی سے بڑھتی آبادی کا دباوء اور موسمی تبدیلیوں کے باعث بارشوں میں سالانہ کمی سے پانی کازیر زمین ذخیرہ تیزی سے سکڑ رہا ہے ماہرین آبپاشی اور زراعت کے مطابق پاکستان کا گنجان آباد اور زرعی پیداوار کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کو پانی کی قلت کا سامناہے اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ پنجاب کے مرکزلاہور میں اگلے دس برس میں پینے کا پانی ختم ہو سکتا ہے۔
پنجاب اریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق لاہور میں زیرزمین پانی کی سطح سالانہ اڑھائی فٹ نیچے جا رہی ہے کئی مقامات پر پانی سطح سات سو فٹ سے بھی نیچے جاچکی ہے جو کہ قدرتی حد سے کم ہے اور یہ پانی پینے کے قابل نہیں۔پینے کے پانی کے لیے زمین میں پانچ سے سات سو فٹ تک بورنگ یا کھدائی کی جا رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی صرف 1000 فٹ تک موجود ہے یہ صورتحال اسقدر سنگین ہے لیکن مجال ہے کہ کسی سیاستدان ، حکومت کے نمائندے ، اہل اقتدار ، اپوزیشن اور میڈیا نے کبھی اس ایشو پر کبھی کو ئی stand لیا ہو نہ اس ایشو پر ٹاک شو ہوتے ہیں اور نہ ہی ملک کی so called جوان قیادت اس پر دھرنے دیتی ہے۔
بے حسی کا یہ عالم ہے کہ آئندہ انتخابات میں بھی کسی پارٹی کے پروگرام میں پانی کے بحران کی نشاندہی نہیں ہے تو اس حوالے سے کو ئی لائحہ عمل کیا ہو گا۔ پچھلے پانچ سالوں میں کرپشن کرپشن کا کھیل اسقدر زوروشور سے کھیلا گیا کہ گیس، بجلی اور خصوصا پانی کی قلت پر نظر ڈالنے کی کسی کو کوئی توفیق نہیں ہوئی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ سب عوام کے مسائل ہیں یہاں کی elite کلاس کے لیے یہ کو ئی مسلہ نہیں ،نہ ہی انھیں کبھی پینے کے پانی کی کمی ہو گئی اور نہ ہی ان کے محلوں کے باغات کے لیے پانی کم ہو گا ۔
یہ ہمارا فرض اور ذمہ داری ہے کہ نیا پاکستان بنانے والے یا لاہور کو پرس کی شکل دینے کے دعویداروں سے پوچھا جائے کہ ملک خصوصا پنجاب میں پانی کے بحران کے حوالے سے پروگرام ،طریقہ کاراور اس کے لیے فنڈز کے بارے میںان کا کیامنشور ہے اگر ان کے پاس اس کاکو ئی جواب نہیں تو یہ طے ہے کہ اگلے پانچ سال بھی احتساب احتساب کی گردان میں نکلنے والے ہیں اور نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم پانچ دس سال بعد کہہ رہے ہونگے اچھا وقت تھا وہ کہ پینے کا پانی تو خریدنا پڑتا تھا پر گھریلو استعمال کا پانی موٹرکھینچ لیتی تھی پانی کے کنٹینر زکے لیے مافیا کو فیس بمہ رشوت نہیں دینا پڑتی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.