مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے بعد مملکت کا چوتھا ستون میڈیا ہے۔محمد عامرناظم اعلیٰ جمعیت

154

لاہور(نیوزنامہ) اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے زیرِ اہتمام لاہور ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسیشن(LERA) کے زمہ داران کے اعزاز میںسیور فوڈز ریسٹورنٹ میں ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا جس میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلی محمد عامر،مرکزی ترجمان راجہ عمیر،مرکزی سیکرٹری اطلاعات جمعیت رانا عثمان اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔پروگرام میں لاہور ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسیشن کے صدر حافظ اعجاز سمیت تمام ایجوکیشن رپورٹرزنے بھی شرکت کی۔اس موقع پرناظم اعلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اہل علم کتابیں لکھنے کے ساتھ ساتھ اچھے انداز سے میڈیا میں اظہار خیال کریں،کالم ومضامین اورمعاشرتی مسائل پر فیچر زلکھیں تو نہ صرف زیادہ بڑا طبقہ مستفید ہوگا بلکہ لوگوں کے اندر تعلیمی شعور بھی بیدار ہوگا ۔حالیہ چندبرسوں میں میڈیاکی حیران کن ترقی،وسعت وہمہ گیری نے دنیاکوایک ’’گلوبل ویلیج‘‘بناکررکھ دیاہے۔یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ یہ میڈیاوارکادورہے،جس میں جنگیں بھی میڈیاکے ذریعے لڑی جارہی ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ میڈیا کی حیران کن ترقی نے دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی شدید متأثر کیا اور ہر معاشرے کی طرح ہمارے ہاں بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ میڈیا کے طاقت ور اثرات کے باعث معاشرتی رویے تبدیل ہوئے ہیں۔ اس موقع پر مرکزی ترجمان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے معاشرے پر بے پناہ اثرات کی وجہ سے ہی آج کے دور کو ذرائع ابلاغ کا دور کہا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں میڈیا کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے استعمال کرنے کا آغاز کئی دہائیاں پہلے ہو چکاتھا، تاہم چوں کہ ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ کی آمد کو ابھی چند سال ہی ہوئے ہیں،اس لیے اس حوالے سے کوئی پیشگی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ یہ ایک نیا چیلنج ہے، جس نے ہمارے معاشرے کے دیگر طبقات کی طرح دینی حلقوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ میڈیا کی روایتی پریکٹس اور تفریحی مواد کی زیادتی کے باعث اسے اسلام اور سماج مخالف سمجھ لیا گیا ہے اور بہت سے حلقے تو تمام تر’’برائیوں کی جڑ‘‘ اسے ہی قرار دینے پر منحصر ہیں، ایسا لگتا ہے کہ دینی حلقوں میں یہ بات سرایت کر چکی ہے کہ میڈیا ہمارے معاشرے میں الحاد، فحاشی، غیر اسلامی روایات اور ایسی ہی منفی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے تیار کردہ ایک سازش کا حصہ ہے اور اس سے صرف اور صرف وہی کام لیا جا سکتا ہے۔میڈیا اس کرئہ ارض کی سب سے بڑی طاقت ہے کیونکہ اس کے پاس ایسے اختیارات ہیں، جن کی بدولت یہ صحیح کو غلط اور غلط کوصحیح بنا سکتا ہے اور یہی اصل قوت ہے کیونکہ یہ عوام الناس کے اذہان پر دسترس رکھتا ہے۔ انکا آخر میں کہنا تھا کہ معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والے تمام افعال کے بارے میں عامیوں تک اطلاعات کی رسائی کے علاوہ یہ افراد کی ذہن سازی کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دیتا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے جدید معاشروں میں عوامی شعور کے بلند ترین سطح پر پہنچ جانے میں میڈیا نے ہی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔پروگرام کے اختتام پر رپورٹرز کو خوبصور کتابوں کے تحائف بھی دئیے گئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.