سوچ کے دیکھیں!!

4,883

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔ایک امریکی جو ساری عمر ریپلکن پارٹی کا رکن رہا بستر مرگ پر پڑنے پر کہنے لگا کہ وہ ڈیموکریٹ پارٹی میں شامل ہونا چاہتا ہے (صرف دو پارٹیاں ہو نے کی وجۃ سے اس کے پاس کو اور چوائس نہ تھی ) اہل خانہ نے پو چھا آخری وقت میں پارٹی کیوں بدلنا چاہتے ہو؟ تو اس نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ ریپلکن کی بجائے ڈیمو کر یٹ کا ایک بندہ کم ہو۔
ہو تے اگر ہم تو ایک آدمی کی کمی کی بجائے پوری پارٹی کے خاتمے کے علاوہ اپنی عمر بھی دراز کرتے۔ ہم سے مختلف کو ئی رہے کیوں؟ جو سیا سی سوچ اور لیڈر ہما را ہے وہ سب کا ہو ۔ ہما را گھر ، کنبہ،ذات، نسل، علاقہ،زبان ہی اعلی باقی سب ہیچ ۔ خواہش اور ہربے امریکہ ، انگلینڈ،اور یو رپ میں رہنے کے لیکن ایسا نہ ہو سکے تو اپنا ملک ہی عظیم ،مغرب تو ہوا برائی کی جڑ۔ہمارے علاوہ نہ کسی کا عقیدہ سچا اور نہ کو ئی راہ راست پر۔ جب تک بس نہ چلے خون کے گھونٹ پی کر گمراہوں کو برداشت کرو اور جب بس چل جا ئے تو انھیں انہی کے خون میں نہلا کر اپنی آخرت سنوار و۔ بس جہاں کو ئی ہم سے مختلف سیاسی، معاشی یا مذہبی نظریہ رکھے وہیں ہمارا وجود خطرے میں پڑ جا تا ہے۔ دانشوری کا زعم ہو تو گفتگو اور دلائل سے دوسروں کا دماغی فتور ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں عالم فاضل ہو نے کی غلط فہمی ہو تو تا ریخ ، سا ئنس اور دیکھی ان دیکھی دنیاوں کی داستانوں سے اپنے کہے کو حتمی ثابت کرتے ہیں اس سے بات نہ بنے تو مار کٹائی اور دھمکیوں کا سہارا لیتے ہیں یا پھر اختیارات اور قانون کا ڈنڈا گھمایا جا تا ہے اور اگر پھر بھی اگلوں کی سمجھ پر تالے پڑئے رہیں تو بندوقوں ، بموں اور خودکش جیکٹوں کے ذریعے قصہ تمام۔
ہمارے احساس کمتری و برتر ی کایہ حال ہے غیر ممالک سے آنے والے لوگوں سے ہمارا مطالبہ ہو تا ہے کہ وہ یہاں کے رسم و رواج کا احترام کریں خاص طورپر خواتین پاکستا نی لباس پہنیں ۔ لیکن جب ہم دوسرے ملکوں میں جا ئیں تو وہاں کے رہن سہن پر لعنت ملامت کر نے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور تقاضا یہ ہو تا ہے کہ وہ ایسی فضا پیدا کریں کہ ہم اپنے لبا س ، طرز زندگی اور مذہبی آزادی سے لطف اندوز ہو سکیں ایسا نہ ہو تو فورا بنیادی انسانی حقوق کی دو ہا ئی دینے لگتے ہیں لیکن اپنے ملک میں دوسرے فرقوں یا اقلیتوں کو ہم سانس لینے کی بھی آزادی کے روادار نہیں ۔ انہی سوچوں میں میری نظر بین الاقوامی آزادی کے امریکی ادارے یو ایس سی ائی آر کی رپورٹ پر پڑی جس میں امریکی حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جہاں مبینہ طو ر پر مذہبی آزادیوں کی یا تو سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا جا تا ہے یا ان پر قدغنیں لگائی جا تی ہیں اس فہرست کو خاص تشویش کے ممالک یا countries of particular concern کہا جا تا ہے 1998 کے عالمی مذہبی آزادیوں کے قانون کے تحت بنایا گیا یہ ادارہ مختلف ممالک میں اقلیتوں کی صورتحال پر نظر رکھتے ہو ئے امریکی وزارت خارجہ کو تجاویز پیش کر تا ہے گذشتہ سال پا کستان کو سپیشل واچ لسٹ میں ڈالا گیا تھا مذہبی آزادی کے حوالے سے حالات بد سے بد تر ہو نے کی وجہ سے پاکستان کو شدید ترین لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے ایسا ہو نے پر یقینا پاکستان کو ملنے والی امداد کو زد پہنچ سکتی ہے۔
ملک میں مذہبی عدم برداشت کے تشویش ناک حالات سے آگا ہی کیلئے اگر چہ کسی غیر ملکی ادارے کی رپورٹ کی ضرورت تو نہیں آئے روز مختلف فرقوں کے لو گوں کے جاں ومال پر حملے اور ان کے قتل وغارت کے بھیانک جرائم صورتحال کو بیان کرنے کیلئے کا فی ہیں ہماری عادت ہے کہ جب تک بیرونی حلقے خصوصا امریکی ہماری خامیوں و کو تاہیوں کی نشاندہی نہ کریں ہم حالات کی سنگینی کو زیا دہ سنجیدگی سے نہیں لیتے ۔ برائیاں تو برائیاں ہمیں تو اپنی اچھائیوں کی یقین دھانی بھی سمندر پار سے ہو تی ہے مذہبی آزادیوں کی سلبی کے علاوہ ایک اور آزادی جس کو محدود کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے وہ ہے اظہار رائے کی آزادی۔ بظاہر تو اس بات میں وزن نہیں لگتا کیونکہ بے شمار اخبارات، سینکڑوں مقامی اور قومی ٹی وی چینلز اور شتر بے مہار سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ اظہار رائے پر پا بندیا ں ہیں کچھ ہضم نہیں ہو تا لیکن کیا کریں اس با ت کی نشاندہی کرنے والے نہ صرف مقامی صحافی تنظیمیں ہیں بلکہ بین الاقوامی،،Reporter without borders،، کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستان میں صحافت کو مشکل بنا دیا گیا ہے میڈیا کی آزادی کی بین الاقوامی درجہ بندی میں پاکستان 139 نمبر پر ہے۔ ایشوز جن کا تعلق براہ راست لو گو ں کی زندگیوں سے ہے ان پر بات کرنے کی اجازت نہیں اور اگر کوئی کرئے تو قو می سلامتی کو نقصان پہچانے یا دہشت گردی جیسے الزامات لگاکر قیدوبند میں ڈال کر نہ صرف ان کی زبان بندی کر دی جاتی ہے بلکہ دوسروں کوبھی سیلف سنسر شپ کاسبق دیا جا تا ہے ۔ کئی ادارے ہیں جن پر بات کرنا بالکل ممنوع ہے حکومت کے علاوہ صحافیوں پر مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کا دبائو ہوتا ہے حسب منشاء کوریج نہ ملنے پر صحافیوں کو مارا پیٹا جاتا ہے ان کے Equipments کو نقصان پہنچایا جا تا ہے۔ خواتین صحافیوں کو بے شمار جسمانی و ذہنی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ تو وہ چلنجیزہیں جو صحافیوں کو فیلڈ میں درپیش ہیں اپنے اداروں میں بھی انھیں نہ تو ملازمت کا تحفظ ہے اور نہ ہی مناسب تنخوائیں دی جا تی ہیں۔ اول تو اجرتیں محدود ہیں اس پر مہینوں تنخواہ کے بغیر ہی کام کرنا پڑتا ہے کام کے دوران حادثے یا زخمی ہونے کی صورت میں انھیں ادارے کی طرف سے کسی قسم کی مالی مدد بھی میسرنہیں ہوتی ۔ موت کی صورت میں تو ویسے ہی قصہ پارینہ ہوگے ۔ یہ سب حالات ایک طرف اور دوسری طرف ٹی وی چینلوں کی چکا چوند، ٹی وی اینکروں کی بھاری بھرکم اجرتیں ، گھنٹوں تک چلنے والے ٹاک شوزجن میں دور دور کی باتوں کی گولہ باریاں۔
ایک طرف مذہب کا شدید رجحان اور دوسری طرف اسی مذہب کے نام پر لو گوں کو زندگیوں سے محروم کر دینا۔یوں لگتاہے مذہب اور اظہار رائے کی یہ آزادی دراصل می ٹو تحریک ہے جس کا شور شرابہ توبہت ہے لیکن Substance سے خالی ہے زندگی اور موت کے بہت سے مسائل کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ہم Me سے ذرا ہٹ کر ایک دن کیلئے کسی دوسرے کی سوچ اور believes کو اپنے دماغ میں سے گذارنے کا حوصلہ کریں ایسا کرنا آسان نہیں لیکن اس مشکل کام کو کرنے کے سوا ہمارے پاس اور کو ئی چارہ نہیں اگر ہم اپنے بچوں کے لیے عقیدے کی ، خیالات کے اظہار کی آزادی یقینی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ کرنا ہو گا کیو نکہ جس بندوق کی نالی دوسری طرف ہے اس کا رخ کبھی بھی پلٹ سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.