محنت کش اور صدیوں کی مسافت

3,653

تحریر:آئمہ محمود ۔۔۔تقریبا پونے دو سوسال پہلے نہ صرف کیمونسٹ دستور تحریر ہو ا بلکہ پورے یورپ خصوصا فرانس میں بادشاہت کے خلاف ایک ایسی لہر اٹھی جس نے نہ صرف تاج و تخت اچھال دئیے بلکہ پس ماندہ اور افلاس زدہ لو گوں کو نئی ہمت اور شناخت دی۔ وہ تھی،، محنت کش طبقہ ،، کی شناخت ! فرانس انقلاب اگرچہ ناکام رہا لیکن ایک جمہوری دنیا کی تشکیل کی بنیاد ضرور رکھ گیا ۔ صنعتی انقلاب نے مزدوروں کی پہچان بحیثیت ایک طبقے کونئی جلا بخشی اور وہ بتدریج ایک مضبوط اور آزادنہ طاقت کے طور پر ظالمانہ قوتوں کو خلاف بر سر پیکار ہونے والی علامت بن گیا ۔ صنعتی انقلاب سے لیکر آزاد منڈی کی معیشت ، سرمائے کی گلوبلا ئزیشن ، نج کاری اور دنیا بھر کی اکنامی پر چند ملکوں اور انکے مالیاتی اداروں کی اجارہ داری کے آج کے دور میں مزدور تحریک ایک طویل مسافت اورکئی نشیب و فراز طے کر چکی ہے۔ مزدوروں کی جدوجہد جو اٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے شروع ہوئی وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچی کہ دنیا کا بڑا حصہ پرولتاری انقلاب کے زیر اثرآگیا۔
بیسویں صدی کے وسط تک ورکنگ کلاس سے تعلق باعث فخر تھا اور محنت کشوں کے اندر ایک طبقہ کا احساس کافی گہری جڑیں رکھتا تھا عالمی سطح پر مضبوط ٹریڈ یونینز کے ساتھ ساتھ عالمی ادارہ لیبر (ILO) محنت کشوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں سرگرم عمل تھے 1991میں سویت یونین کی تحلیل کے بعد وقت کا پہیہ ایک نئی ڈگر پر رواں دواں ہو گیاسرمایہ دارانہ نظام نے کاروبار، تجارت اور پروڈکشن کو نجکاری ، ٹھیکداری نظام، سرمائے کی آزادانہ نقل و حرکت ، فری ٹریڈ زون اور تجارتی معاہدوں کے ذریعے ایک ایسے پیچیدہ سسٹم کے تحت کر دیا کہ مزدوروں اور ان کی یو نینوں کے لیے اس کا مقابلہ ناممکن ہو گیانتیجہ یہ ہو ا کہ وہ حقوق جو محنت کشوں نے طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیے تھے مثلا 8 گھنٹے اوقات کار، اوور ٹائم، تنظیم سازی کا حق، اجتماعی سودا کاری، ملازمت کا تحفظ، پینشن،سوشل سکیورٹی وغیرہ کو سخت زد پہنچی ۔
پاکستا ن میں محنت کشوں کے حقوق اور انکے تحفظ کے حوالے سے جاری جدوجہد سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی مزدوروں نے بے انتہا سخت جانی کا مظاہرہ کیا ہے برابری ، مساوات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی سب کے لیے یقینی بنانا انکی تحریک کے بنیادی عناصر رہے ہیں قیام پاکستان سے لیکر آج تک مزدوروں کے حقوق کے حصول اور ان سے متعلقہ قوانین کو بنانے اور ان کے عملی نفاذ کے پیچھے ایک لمبی جدوجہد ہے۔ پاکستان میں رائج کئی قوانین محنت او رلیبر سے متعلقہ ادارے انگریزوں نے بنائے تھے جنھیں آزادی کے بعد بھی جوں کا توں رہنے دیا گیا البتہ کچھ ادارے 60 اور 70 کی دہائی میں بنائے گئے جن میں سوشل سکیورٹی اور اولڈ ایج بینفٹ انسٹٹیوٹ (EOBI)شامل ہیں ۔
وزارت لیبر و انسانی وسائل سے لے کر لیبر سیکرٹریٹ ، ڈائریکڑ جنرل آف لیبر ویلفیر ، ورکرز ویلفیر فنڈ،minimum wage board وغیرہ سب مزدوروں کے تحفظ اور بہتری کے لیے وجود میں آئے ۔ تمام اداروں کا بنیادی مقصد مزدوروں کے مفادات کو پروٹیکٹ اور صنعتی معاملات کو پر امن طریقے سے حل کرنا ہے اس کے علاوہ تنازعات کو طے کرنے کے لیے لیبر کورٹس اور وفاقی سطح پر( NIRC) نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن کا م کر رہے ہیں لیکن پاکستان کے محنت کشوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ورلڈبینک کے مطابق63.89 ملین لیبر فورس ہے اور لیبر فورس کے حوالے سے پاکستان دنیا کا نواں بڑا ملک ہے۔ 43% مزدور زراعت سے وابستہ ہیں (ان پر قوانین محنت کا اطلاق نہیں ہوتا) 20.3% صنعتی مزدور ہیں اور 36.6% دیگر سروسز سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 11 ملین بچے مزدور اور 28% خواتین لیبر فورس کا حصہ ہیں73% خواتین زرعی مزدور ہیں جو قانونی تحفظ سے محروم ہیں خاتون اور مرد مزدوروں میں معاوضہ کے فرق کے حوالے سے پاکستان 75 ممالک میں 66 نمبر پر ہے۔ 90% خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملک میں ٹریڈ یونینز کی تعداد میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن یونینز کے تحت منظم مزدوروں کی تعداد کم ہوئی جو کہ مزدور طبقے کی تقسیم در تقسیم کی نشاندہی کرتی ہے۔
پاکستان میں غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے زرعی اور گھریلو مزدور لیبر فورس کا 50% سے زیادہ ہیں تنظیم سازی اور کم از کم تنخواہ جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں پنجاب میںسوشل سکیورٹی میں صرف 1ملین محنت کش رجسٹر ڈہیں ان میں سے بھی بڑی تعداد بہترطبی امداد سے فائدہ نہیں اٹھا پاتی کیونکہ سوشل سکیورٹی کے زیر انتظام اچھی ڈسپنسریاں اورہسپتال صرف چند بڑے شہروں میں ہیں۔ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے حوالے سے ملک میں کوئی الگ قانون نہیں۔فیکٹری ایکٹ 1934 کے تحت صرف کارخانوںمیں صحت و تحفظ کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے لیکن دیگر شعبوں مثلا زراعت وغیرہ میں اس حوالے سے کو ئی قانون موجود نہیں۔
اداروں کی کارکردگی کو دیکھیں تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لیبر سے متعلق ادارے فعال نہیں ہیں۔EOBI میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن اور 18 ویں ترمیم کے بعد ورکرز ویلفیر فنڈ کے معاملات کو طے نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی عدم دلچسپی اور نااہلی ملک میں مزدوروں کے استحصال کی اہم وجہ ہے۔ای او بی آئی، ورکرز ویلفیرفنڈ اور سوشل سکیورٹی یہ تمام ادارے اجر اور اجیر کی جانب سے دئیے گے کنٹری بیوشن سے چل رہے ہیں ای او بی آئی میں حکومت بھی کنٹری بیوٹ کرتی تھی لیکن 1995 سے حکومت نے اپنا حصہ نہیں دیا اور مزدوروں کے پیسے پر حکومتی ارکان اور افسران موج کر رہے ہیں۔
تنظیم سازی ، کم از کم تنخواہ ، ایک سے کام کا ایک سا معاوضہ، ہیلتھ اینڈ سیفٹی ،کام کے اوقات کار، سوشل سکیورٹی، ہراسگی سے تحفظ، ملازمت کا تحفظ ، پنشن جیسے بنیادی حقوق صرف ان اداروں کو فعال اور قانون کے موثر نفاذ کے ذریعے ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔ پالیسی ساز اداروں میں مزدور اور خاص طور پر محنت کش خواتین کی نمائندگی سے حالات میں فوری بہتری لائی جاسکتی ہے غیر رسمی شعبے پر قوانین کا اطلاق بھی محنت کشوں کو پروٹیکٹ کرئے گا۔ Punjab compulsory education act 1994 پر عمل درآمد کے ذریعے بچوں کو جبر ی مشقت سے بچایا جاسکتا۔ ٹریڈ یونینز کو اپنا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے زرعی اور گھریلو مزدور وںکو منظم کرنے کی ضرورت ہے خواتین کی یونینز میں شمولیت یونینز کو مضبوط بنائے گی۔ اجتماعی سودا کاری کا حق رکھنے والی یونینز کی نمائندگی میں خواتین کا کوٹہ ہونا چاہیے لیبر ڈپارٹمنٹ میں خواتین لیبر انسپکٹر کی تعداد میں اضافے کے ذریعے کام کی جگہ پر خواتین مسائل کو حل کیا جا سکتا۔
پاکستان میں محنت کشوں کے مسائل کو دور کرنے کے لیے ٹریڈ یونین کے متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ بہتر گورننس بھی لازمی ہے اور یہ تب ہی ہوگا جب آنے والی حکومت میں مزدوروں کی نمائندگی ہو اور حکومت ،مالکان اور محنت کشوں کے درمیان مشاورت کا عمل وقوع پذیرہو۔ اکیسویں صدی کے اس دور میں محنت کشوں کی شناخت کسی بھی ملک کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی صنعتی انقلاب کے دور میں تھی صنعتی انقلاب مزدوروں کے بغیر ممکن نہیں تھا اور آج ملکی خوشحالی محنت کش مرد اور عورتوں کی خوشحالی کے بغیر ممکن نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.