آوازوں کی بازگشت

4,101

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا معاشرتی نظام کو چلانے والی مشینر ی کا اہم پرزہ ہوتا ہے اور سماج کی ہیت ترکیبی کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے لیکن یہ بات اس وقت تک پوری حقیقت تھی جب تک سوشل میڈیا کا جن بوتل سے نہیں نکلا تھا۔ فروری 2004 میں جب امریکہ میں فیس بک ایک سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹ کے طور پر سامنے آئی تو بہت تیزی سے پوری دنیا میں مقبول ہو گئی گلوبلی کروڑوں لوگ اس کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت سوشل رابطے کی بے شمار ویب سائٹس کا استعمال ہو رہا ہے جن میں فیس بک کیساتھ انسٹا گرام ،ٹویٹر، سنیپ چیٹ وغیرہ نمایاں ہیں۔جب سوشل میڈیا متحرک ہوا تو اپنی سمجھ اور عقل پر ناز کرنے والوں نے پیشن گوئیاں شروع کر دیں کہ لوگوں کو آواز مل گئی ہے وہ آزادانہ اپنے خیالات، رائے اور تنقید کا اظہار کرکے اتھارٹیز کوچیلنج کر سکیں گے ۔ گلوبل ولیج میں ظلم ،زیادتی اور نا انصافی پر پردہ ڈالنا ناممکن ہو جائے گا مختصر یہ ہے کہ سب ہرا ہی ہرا ہونے والا ہے۔ ایسے ہی دعوے تب بھی ہوئے تھے جب پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز سامنے آئے تھے۔بحرحال پرائیویٹ چینلز کی طرح سوشل میڈیا کے چمتکار سب کے سامنے ہیں ۔سوشل میڈیا کے مثبت نتائج بھی ہیں لوگوں کے درمیان تیز رفتار باہمی رابطہ ممکن ہوا، بنا معاشی تفریق کے تمام طبقے اس سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ بظاہر اسکو مواصلاتی رابطے کا انقلاب کہا جا تا ہے اگرچہ یہ sites معاشی غلبے اور کاروبار کے بدلتے ہوئے ماڈلز کے آلہ کار ہیں تاہم یہ ایک اور موضوع ہے جو پھر کبھی زیر بحث ہو گا آج تو صرف میڈیا کے سماجی نتائج پر ایک نظر ڈالنی ہے
سوشل میڈیا کا مثبت پہلو ہی اسکا سب سے بڑا منفی پہلو بھی بن گیا ہے۔لوگ دور دراز کے لوگوں کے ساتھ تو رابطے میں ہیں لیکن اپنے آس پا س گھر میں اور اہل خاندان سے کٹتے جارہے ہیں سوشل میڈیا کا ایک اور بڑا نقصان یہ ہے کہ سنی سنائی باتوں کی تیز رفتار ترسیل ممکن ہے جس سے حقیقت اور افسانے کے درمیانی فرق کو ختم کر دیا گیا ہے جعلی خبروں اور داستانوں کو حقیقت کا رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے ہندوستان میں مودی کے دور حکومت میں اس کو ایک بہت ہی کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے انڈین تاریخ کو نئے سرے سے اپنی خواہش ،ارادوں اور ترجیحات کے مطابق بدلنے کی کوششیں کامیابی سے جاری ہیں۔ کسی بھی معاملے پر سوشل میڈیا کے ذریعے اس قدر شوروغل مچایا جاتا ہے کہ اصل مدعا کہیں بیچ میں گم ہو جاتا ہے اور لوگ اپنی ساری توانیاں غیر متعلقہ معاملات پر بحث ومباحثہ میں میں ضائع کر دیتے ہیں ۔تجربات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال ذہنی و جسمانی اورجذباتی صحت کے لیے بہت مضر ہے بنیائی اور اعصاب پر برا اثر تو پڑتا ہی ہے لوگوں میں احساس کمتر ی ،خوف، بے چینی اور اکیلے رہ جانے کے احساسات بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔آن لائن اختلاف رائے پر جو بدزبانی اور گالی گلوچ ہو رہی ہے وہ ذہنی بیماری کی نشاندہی کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اٹھائے جانے والے سنجیدہ سے سنجیدہ معاملات بھی بہت مختصر مدت تک لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں اور جس طرح اچانک ایک دن شروع ہوتے ہیں اسی طرح اچانک ختم بھی ہو جاتے ہیں ۔
اس تمہید کا مقصد سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی me too کمپین کا ذکر کرنا ہے جسکا مقصد خواتین کو حوصلہ دلانا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کے خلاف بات کریں اور اسکو چھپائے نا۔ پاکستان میں بھی شو بز نس سے تعلق رکھنے والی میشا شفیع نے ،می ٹو، کی تحریک کا حصہ بنتے ہوئے اپنے ہی شعبے کے علی ظفر پر جنسی ہراسگی کا الزام لگایا ہے جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے کئی لوگ ان کی حمایت میں اور کئی مخالفت میں اپنے اپنے فونز اور لیپ ٹاپ کی سکرینوں کے سامنے کمر بستہ ہو گئے ہیں۔پاکستان میں اگر ہم خواتین کے حالات ، انکے حقوق کے تحفظ کے معاملے پرسرسری نظر ڈالیں تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود صورتحال میں بہتری ہوئی ہے اور ہمارا معاشرہ یقینا آگے کی طرف بڑھا ہے ۔صنفی تفریق اور استحصال کے خاتمے کی منزل بلاشبہ ابھی بہت دور ہے لیکن ہم اگرچہ سست رفتاری ہی سے سہی مگر قدم بہ قدم اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس ارتقائی عمل میں معاشی ، سماجی سیاسی اور نظریاتی محرکات کے علاوہ بنیادی عنصر ہے خواتین کا اپنے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کوتمام تر رکاوٹوں کے باوجود ہمیشہ جاری و ساری رکھنا۔ فوجی آمریت ہو یا بے بس جمہوری حکومتیں ، خواتین نے مساوات ، انصاف کے حصول اور منفی رویوں کے خاتمے کیلیے نہ صرف اپنی آواز بلند رکھی بلکہ عملی میدان میں بھی ثابت قدم رہی ہیں ۔ لاٹھیاں ، تھانے ،کچہریاں اور جیلوں کی صوبتیں اور بدنامیاں بھی انکی آوازوں کو نہیں دبا سکیں ۔ انھی انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج خواتین کے مسائل پر نہ صرف آزادی سے بات کی جا سکتی ہے بلکہ تشدد اور جنسی ہراساں کرنے کے خلاف کسی نہ کسی حد تک قانون سازی بھی ہوئی ہے اگرچہ اس قانون میں بہتری کی بہت زیادہ ضرورت ہے خاص طور پر اس کے نفاذ کے حوالے سے ۔
یہ مسلسل جد وجہدکا نتیجہ ہے کہ جنسی ہراساں جیسا لفظ بنا کسی ہچکچاہٹ اور تکلف کے مسلسل ٹی وی چینلز اور مباحثوں کا حصہ ہے۔کسی بھی زیادتی ، اخلاقی گراوٹ اور جرم کے خلاف آواز بلند کرنا بیشک اہم ترین اور بنیادی قدم ہے لیکن اس بات کو بھی مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ یہ آواز محض وقتی شوربن کر نہ رہ جائے ۔
سوشل میڈیا ایک پلیٹ فارم تو ہو سکتا ہے یہ آوازبلند کرنے کا ،لیکن یہی میڈیا زبان بندی کا سبب بھی بن جاتا ہے اور بن رہاہے یہاں اس بات کا احساس اور ذمہ داری بہت ضروری ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم پر بات کرتے ہوئے ہم معاشرے کو immunize نہ کر دیں کہ وہ اس کو اس طرح deal نہ کرنے لگے کہ یہ تو روز کا معاملہ ہے۔ کسی بھی ایشو خصو صا جنسی تشدد یا ہراسگی جیسے جرم کے خاتمے کی حقیقی کوشش تبھی ہو گی جب اس میں سے چکا چوند نکال کر صرف ایک انسانی ایشو کے طور پر سامنے لایا جائے اور اس کے خاتمے کے لیے ٹھوس سفارشات کی نشاندہی کی جائے اور ان کے نفاذ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جیسے ویمن پروٹیکشن اور Law against Harassment کے مطابق تمام اداروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ ایسی کمیٹیا ں بنائیں جہاں ہراسگی کے معاملے پر شکایت کی جائے۔ اس بات کی Monitoring ہونی چاہیے کہ تمام اداروں میں یہ کمیٹیاں ہیںاگر نہیں ہیں تو کیوں نہیں ہیںان کی تشکیل کو یقینی بنایا جائے اور ان تک رسائی سب کے لیے آسان ہو اوران کا طریقہ کار شفاف ہو۔ یہ بھی لازمی ہے کہ ان باڈیز کو مضبوط بنایا جائے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ آواز کی طاقت کو دانش مندی ، حوصلے اور شعور کے بغیر استعمال کرنا ایسا ہی ہے جیسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر گول دائرے میں گھومنا اور سمجھنا کہ ہم منازل طے کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.