فریب کا سحر

2,458

تحریر:آئمہ محمود۔۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ریاست کے بادشاہ اور ملکہ کے ہاں بہت منتوں و مرادوں کے بعد بیٹی کی پیدائش ہوئی ۔ اس خوشی میں عالیشان دعوت کا اہتمام کیا گیاامرء کے ساتھ ساتھ جادوگر ، جنوں اور پریوں کو بھی مدعو کیا گیا۔ لیکن ایک بہت بڑئے جادوگر کو بلانا بھول گئے ( یقینا کسی حاسد وزیر ، مشیر کی سازش ہو گئی) جب جادوگر کو پتہ چلا تو اپنی بے عزتی کے احساس پر تلملا اٹھا اسکی غبارے جیسی پھولی انا کو ٹھیس لگی وہ بن بلائے دعوت میں پہنچ گیا اور شہزادی پر جادو پھونک دیا کہ وہ اپنی سولہیویں سالگرہ پر مر جائے گی ۔والدین یہ سن کر سکتے میں آگئے ، بہت روئے دھوئے ، معافی مانگی ، جادوگر کی منت سماجت کی لیکن وہ ٹھس سے مس نہ ہوا ،بادشاہ کی بادشاہت ، جنوں پریوں سے دوستی بھی کسی کا م نہ آئی ۔ والدین کی حالت زار دیکھ کر ایک نیک دل پری نے کہا کہ وہ اتنا کر سکتی ہے کہ شہزادی اپنی سالگرہ پر مرئے نہیں بلکہ سوسال تک سو جائے۔ کہنے کو تو ایک فر ضی کہانی ہے لیکن اپنے آس پاس کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ کرداروں کے ردوبدل کیساتھ ہم اسی دینا میں جی رہے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ بادشاہ کی جگہ عوام ہیں بظاہر جو طاقت کا سرچشمہ تو ہیں لیکن حالات و واقعات کو تبدیل کرنے کی قوت کہیں اور ہے۔ کہانی میں ایک جادوگر تھا جسکی انا زخمی ہوگئی تھی لیکن آج ذاتی غرض اور انا پرستی سے بے حال و بے قابو بااختیار لوگ مقامی ، ملکی اور عالمی سطح پر حیلہ سازیوں ، سازشوں اور انتقامی کا روائیوں میں مصروف ہیں اور یہ سب کچھ ملک و قوم کے بہترین مفاد کے نام پر ہو رہا ہے ۔ کرپشن کوجڑ سے اکھاڑنا ، نیا پاکستان بنانا، اسلام کا بچانا ، یہودی سازشوں کو بے نقاب کرنا ، پردے کے پیچھے رازوں کی ٹھوہ لگانا،محب وطن اور غداروں کی نشاندہی کرنا، سب کچھ قوم کی غمغواری میں کیا جا رہا ہے۔ دور کیوں جائیں ابھی حال ہی میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی کو اپنے علاقے کے دکھوں اور محرومیوں کا احساس اس شدت سے ہوا کہ انھوں نے اسمبلی سے جس کی مدت ختم ہونے میں چند مہنیے رہ گئے ہیں استعفے دے دئیے نہ صرف اسمبلی کو خیر باد کہا بلکہ اس جماعت کو الوادع کہہ دیا جس سے گذشتہ پانچ سال سے وابستگی کا دعوی رکھتے تھے کیا قربانی ہے ؟ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ اقتدار کے ثمرات سے لطف اندوز ہونے کے بعد ایک دن اچانک وہ نیند سے جاگتے ہیں اپنے ووٹر کی محرومی و پسماندگی کی دہائی دینے لگتے ہیں بظاہر یہ صورتحال کسی فرضی کہانی کا حصہ معلوم ہوتی ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سرعام فریب و مکر سے کام لینے والوں کو کسی جوابدہی یا گرفت کا احساس نہ ہو ؟ ذاتی مفادات کو عوامی مفادات جتاتے ہو ئے کو ئی پشمانی یا شرمندگی نہ ہو۔ بدقسمتی سے یہ آج کی حقیقت ہے۔ جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی کے اس گروپ کو کیونکر جوابدہی کا احساس ہو گا جب کہ ان سے بڑے عہدوں پر فائز لوگ اپنے فیصلوں اور اعمال کا کوئی حساب دینے کو تیار نہیں۔اب اسی کو دیکھیں کہ ایک بہت ہی ،،ــ آئیڈیل رہنما،، گذشتہ پانچ سال سے صرف ان کو ششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ کسی طرح وزیر اعظم بن جائیں ۔اس کیلیے انھوں نے کیا کیا نہیں کیا ؟ دھمکیاں دیں ، للکارا ، دھرنے دئیے،تحریک چلائیں اور تو اور دو دفعہ شادیاں بھی رچائیں سب کچھ کیا ، عوام کی بھلائی میں ۔ ایک اور عالی مقام اپنی ساری ٹرم میںاپنی پوزیشن کو بچانے میں مصروف رہے لیکن چوتھے سال میں وقت کے ساحر کے ہاتھوں مات کھا گئے
ہمیشہ کی طرح اہل ملک کے ہاتھوں میں اختیار دینے کے نام پر نئے فر نٹ، پاکٹ و بٹوہ پارٹیاں اور آلائنس بنائے جا رہے ہیں تاکہ جو سب سے بھاری انا ہے اسکی تسکین ہو تی رہے ۔ اس ساری بازیگری میں ایک اہم کو شش یہ بھی ہے کہ ملکی عوام کو اس قابل نہ رہنے دیا جا ئے کہ وہ فریب اور بہکاوے کے چنگل سے نکلنے کی سوچیں یا اس کو چیلنج کرنے کے قابل بنیں۔ٹی وی چینلوں کے مباحثوں ، ٹاک شوز اور سوشل میڈیا کے ذریعے وہ شوروغل اور دھماچوکٹری مچا رکھی ہے کہ اس انتشار میں کسی کے لیے سچ جھوٹ ،صحیح غلط، انصاف بے انصافی ، اخلاص اور خود غرضی میں تفریق کرنا نا ممکن تو نہیں مشکل ضرور ہو گیاہے اور اگر کہیں ایسی آوازیںاٹھیں یا ایسا اجتماع ہو جس سے اندیشہ ہو کہ لوگوں کے حقیقی مسائل کو اجاگر کیا جانے لگا ہے یا جبر اور جبر کرنے والوں کی نشاندہی کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے تو ایسی آوازوں کو غدار اور دشمنوں کے ہاتھوں کھلونا قرار دے کر ٹی وی سکرینوں اور اخباروں سے غائب کر دیا جا تا ہے اس کے بر عکس بچوں ، عورتوں ، بیماروں ، طالب علموں اور مزدوروں کو دھرنوں اور ناکہ بندیوں کے ذریعے راستوں کو روک کر تعلیم ، علاج، روزگار اورگھروں تک نہ پہنچنے دینے والوں کی خوب تشہیر کی جا تی ہفتوں اور مہینوں تک ٹی وی کیمروں کا رخ ان سے نہیں ہٹا یا جا تا اسکو عوام کیلیے تبدیلی اور اسلام کے تحفظ کا تمغہ دیا جا تا ہے ۔
اگر کو ئی حو صلہ افزا بات ہو سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ ایسی کرامات صرف ہمارے ہاں نہیں دنیا میں اس کی کئی مثالیں ہیںمثلا ہمارے ایک قریب ترین حلیف ملک کے شہزادے کو اچانک محسوس ہوا کہ ملک میں بدعنوانی کا خاتمہ بہت ضروری ہے کیونکہ شاہی خاندان کے بہت سے افراد دن دوگنی رات چوگنی دولت کما رہے ہیں زیادہ دولت مطلب زیادہ پاور، لہذا ان سب کو کیانظر بند ، ہفتوں کی چھان پھٹک کے بعد شہزادے کو اس وقت بدعنوانی میں کا فی افاقہ محسوس ہوا جب قیدیوں نے دولت میں حصہ داری کے حوالے سے اس کی شرائط کو تسلیم کر لیا ۔بدعنوانی کا بندوبست کرنے کے بعد انھیں عورتوں کی حالت زار کا احساس بھی ہوا تو عورتوں کو ڈرائیونگ کا حق دے دیا گیا اور تو اور سائیکل اور موٹر سائیکل بھی چلانے کی اجازت مل گئی ابھی حال ہی میں وہاں خواتین کی سا ئیکل ریس ہوئی ہے جسکو خاصی پبلسٹی ملی۔مرد بمعہ عورتوں کو میوزک اور فلم دیکھنے کی اجازت دے دی گئی ۔35 سال کی پابندی کے بعدکچھ عرصہ پہلے ہی وہاںپھر سینما کا افتتاح کیا گیا ہے میوزک کنسرٹ اور فیشن شوز منقعد ہو رہے ہیں ۔ غرض وہاں انا کی تسکین کا نتیجہ عوام کی آزادی کی صورت میں نکل رہا ہے جو کہ کا فی خوش آئند بات ہے لیکن اس کے ساتھ یہ اندیشہ بھی کہ کون جا نے کل کے شہزادے کو کونسی باتیں پسند آئیں جو اس کے غرور اور نفس کو جلا بخشیں ۔عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئے جانے والے سب اقدامات اس کو اپنی ثقافت اور مذہب کے متضادم لگیں اور اسے اپنے اختیارات میں کمی کا احساس ہونے لگے تو پھر وہ سحر پھونک دے کہ جسمیں عورتیں جا گی تو رہیں لیکن ڈرائیونگ ،ووٹ، سائیکلینگ، میوزک اور سینما سے لطف اندوز ہونے کے قابل نہ رہیں ۔
دنیا بھر کے ساحروں کے فسوں کا توڑ اگر ہے توصرف اور صرف عام انسانوں کے ہاتھ میں ہے بشر طیکہ وہ اپنے گروہ ، پارٹی ، نظریہ ،مذہب کی پیروی اور احترام کے ساتھ دوسرے گرہوں ، پارٹیوں ،نظریوں اور مذاہب کا احترام کرتے ہو ئے اجتماعی مفادات کے لیے قدم اٹھائیں اور چندحیلہ بازیوں کے چنگل میں نہ پھنسے رہ جا ئیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.