ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔!

170

تحریر:محسن علی ساجد۔۔آپ پاکستان کے کسی بھی علاقے، شہر،گائوںیا دور افتادہ علاقہ کے کسی بھی ننھے بچے سے سوال کریں کہ پاکستان کا مطلب کیا؟تو وہ بلا جھجھک اور بے ساختہ کہے گا لا الہ الااللہ۔وطن کی محبت پوری قوم کے خون میں رچی بسی ہے اور پاکستانی قوم ہر مشکل وقت میں اپنی چٹان صفت مسلح افواج کے شانہ بشانہ دکھائی دیتی ہے۔یہ ملک ،یہ خطہ فردوس بریں،یہ نور کا مسکن یونہی ہمیں نہیں مل گیا اِس وطن کو حاصل کرنے کیلئے ہمارے آبائو اجداد نے لاکھوں جانیں قربان کیں۔قیام پاکستان کے موقع پر اتنی مشکلات اور ہجرت کے باوجود ہر پاکستانی کی زبان پر بے ساختہ ایک ہی نعرہ تھا کہ لے کے رہیں گے پاکستان۔بن کے رہے گا پاکستان ۔انہی جذبوں نے اِس ملک کو پروان چڑھایا ،آج بھی پاکستانی قوم کاخاصا ہے کہ ملک کے کسی حصے میں کوئی بھی واقعہ ہو،دہشتگردی ہو،آفات ارضی وسماوی ہوں پوری قوم یکجان ایک قلب ہوجاتی ہے۔کچھ عرصہ سے پاکستان کے دُشمنوں کے ایجنٹ پاکستانی قوم کیخلاف مذموم کارروائیوں میں سرگرم ہیں اور وہ پاکستانی قوم میں انتشار پھیلانے کے درپے ہیں،لیکن ان عناصر کی یہ مذموم کارراوئیاں کبھی کامیاب نہیں ہونگیں ،کیونکہ پاکستانی قوم نے جس جذبے اور لگن سے دہشتگردی کو شکست دی وہ اِن دشمنوں کی مذموم حرکتوں سے بھی آگاہ ہے ۔جہاں پاکستان کے مختلف علاقوں کی عوام نے تعمیر وطن اور پرامن پاکستان کیلئے قربانیاں دیں وہاں پاکستان کے قبائلی عوام کی قربانیاں سب سے زیادہ اور لائق تحسین ہیں،دہشتگردی کیخلاف قبائلی علاقوں کے عوام نے نہ صرف اپنے گھروں کو چھوڑا بلکہ پاک فوج کے شانہ بشانہ دہشتگردوں کا مقابلہ بھی کیا۔آج پاکستان کی مسلح افواج اور موجودہ جمہوری حکومت کی کوششوں کے باعث قبائلی علاقوں میں امن بحال ہوچکا ہے ،آئی ڈی پیز ،ٹی ڈی پیز اپنے آبائی علاقوں میں خوشحال زندگی گزاررہے ہیں،حکومت کی جانب سے بھی آئی ڈی پیز اور ٹی ڈی پیز کیلئے مختلف مالی امداد کے پیکجز کا اعلان کیا گیا ،پاک فوج نے بھی دہشتگردی کی جنگ میں جن قبائلیوں کے گھروں کو نقصان پہنچا تھا اُن کی دوبارہ تعمیر کی ۔پاکستانی قوم کے یہی جذبے اُسے ہر میدان میں کامیاب وکامران کرتے ہیں۔گزشتہ دنوں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 137 ویں پی ایم اے لانگ کورس ، 8 ویں مجاہد کورس اور 26 ویں انٹیگریٹڈ کورس کی پاسنگ آئوٹ پریڈکا انعقاد کیا گیا،تقریب کے مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔ آرمی چیف نے اس موقع پرپریڈ کا معائنہ کیا اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنیوالے کیڈٹس میں انعامات تقسیم کئے ۔ شمشیر اعزاز اکیڈمی کے سینئر انڈر آفیسر سید حسنین علی (137 لانگ کورس )کو عطاء کی گئی جبکہ اوورسیز گولڈ میڈل سعودی عرب کے کیڈٹ سعود (137 لانگ کورس ) کو دیا گیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپہ سالار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ خلوص کے ساتھ یقین رکھتے ہیں کہ کشمیر کے بنیادی مسئلے سمیت پاکستان اور بھارت کے تنازعات کے پر امن حل کا راستہ جامع اور بامقصد مذاکرات ہیں ٗامن کی اس خواہش کو کسی بھی طرح سے کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے ٗافغانستان میں امن اور افغانستان کے اندر مفاہمت کی کوششوں کیلئے پرعزم ہیں ٗہم سمجھتے ہیں افغانستان میں امن نہیں ہوگا تو پاکستان میں بھی امن نہیں ہوگا ٗہماری بہادر مسلح افواج الحمداللہ کسی بھی طرح کے خطرے کا بھر پور جواب دینے کیلئے پوری طرح تیار ہیں ٗمقبوضہ کشمیر میں امن پسند معصوم شہریوں کو بد ترین ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔آرمی چیف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے بنیادی حق کی مکمل سیاسی اور اخلاقی حمایت کرتے ہیں ٗ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اپنی سرزمین سے آخری دہشتگرد کا خاتمہ نہیں کر دیتے ٗ اپنی سر زمین کسی بھی دوسرے ملک کیخلاف استعمال میں نہ دینے کیلئے پر عزم ہیں۔سپہ سالار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دوٹوک موقف سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور وہ عالمی سطح پر رونما ہونیوالی تبدیلیوں پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔دوسری جانب موجودہ جمہوری حکومت بھی اپنا ہدف مکمل کرنے کیلئے کوشاں ہے ،ملک بھر میں شروع کیئے گئے تعمیری وترقیاتی کام مکمل ہونے کو ہیں،حکومت کی یہی کوشش ہے کہ عام انتخابات سے قبل اِن منصوبوں کو بھی مکمل کیا جائے تاکہ عوام ان منصوبوں کے ثمرات حاصل کرسکیں۔عام انتخابات کے انعقاد کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں۔انشااللہ عام انتخابات کا مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے مکمل ہوگا۔آخر میں ایک شعر نذر قارئین کہ
خون دِل دے کر نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.