مقبوضہ کشمیر:قابض بھارتی فوجی درندوں نے مزید3کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا

158

سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع کولگام میں 3 اور کشمیری نوجوان شہید کر دیے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے ضلع کے علاقے کھڈونی میںوانی محلہ کے مقام پرمحاصرے اور تلاشی کی کاررئی کے دوران پر امن مظاہرین پر فائرنگ کر کے کم از کم 50 نوجوان زخمی کر دیے جن میں سے 3نوجوان 13سالہ بلال احمد ڈار، 28سالہ شرجیل احمد شیخ اور فیصل الہٰی بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ قابض فوجیوں نے آپریشن کے دوران چار رہائشی مکانات کو بھی آگ لگا دی۔ قبل ازیں اسی علاقے میں ایک جھڑپ میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ آخری اطلاعات تک علاقے میں فوجی آپریشن اور بھارت مخالف مظاہرے جاری تھے۔سرینگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق قابض بھارتی فوج نے کھڈ ونی وانی محلہ میں آپریشن کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ قابض انتظامیہ نے طلباء کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے کے لیے ضلع کولگام میں تمام تعلیمی ادارے بندکر دیے ہیں ۔ انتظامیہ نے لوگوں کو تازہ ترین صورت حال کے بارے میں ایک دوسرے کو معلومات کی فراہمی سے روکنے کیلئے سرینگر کے علاوہ جنوبی اضلاع میں انٹرنیٹ فون سروس معطل کر دی ہے جبکہ سرینگر اور بانیہال کے درمیان ریل سروسز بھی معطل کر دی گئی ہے۔ نوجوانوں کی شہادت پر شوپیاں اور پلوامہ اضلاع میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ادھر نوجوانوں کی شہادت پر طلباء ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔کشمیریونیورسٹی سرینگر اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ میں زبردست مظاپرے کیے گئے۔ سینکڑوں طلباء نے اپنے کیمپس میں احتجاجی مارچ کیا اور آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔ سوپور، بانڈی پورہ، ہندواڑہ اور دیگر مقامات پر بھی طلباء نے زبردست بھارت مخالف مظاہرے شروع کر دیے ۔ انتظامیہ نے مظاہروں کو بڑھنے سے روکنے کیلئے تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم جاری کر دیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.