پیما جیسی تنظیمیں رائے عامہ کو صحت سے متعلق شعور فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں:سائرہ افضل تارڑ

141

لاہور(نیوزنامہ)وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کے تعاون کے بغیر صحت عامہ، ہیلتھ ایجوکیشن کی صورتحال کو بہتراور پی ایم ڈی سی میں شفافیت کو ممکن نہیں بنایا جا سکتا۔ پیما جیسی تنظیمیں رائے عامہ کو صحت سے متعلق شعور فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان اقبال میں پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے دو روزہ ڈاکٹرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے CPSPکے پروفیسر خالد مسعود گوندل، آغاخان میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر واسع شاکر، شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی کے پروفیسر محمد اقبال خان ، ڈین فکلیٹی آف میڈیسن پنجاب یونیورسٹی پروفیسر سید محمد اویس اور ڈاکٹر عبداللہ متقی نے بھی خطاب کیا۔ سائرہ افضل تارڑنے کہا کہ ہیلتھ منسٹری نے گزشتہ پانچ سال میں نمایاں کام کیے ہیں، ہم نے شفافیت کو فروغ دیا ہے اور ملک و قوم کے مفاد میں بہترین فیصلے کیے ہیں۔ خواتین میڈیکل سٹوڈنٹس کا عملی شعبے میں نہ آنا بہت اہم مسئلہ ہے، اس کی جزئیات جان کر، وجوہات کے تعین اور اس کے تدارک کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت نے پولیو کے خاتمے، سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بیماریوں کی رجسٹری سے متعلق اعدادوشمار کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے لیے نجی شعبے کو حکومت کی معاونت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیسن ایک سنجیدہ شعبہ ہے، بدقسمتی سے پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں پیسوں کے لیے میرٹ کے قتل عام نے ان کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بعد انہیں کسی ضابطے کا پابند بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کی فعالیت اور شفافیت ہم سب کی اجتماعی ضرورت ہے، بدقسمتی سے اس بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔ ڈاکٹرز اس ادارے کی بنیادی اکائی ہیں اس لیے آپ لوگوں کو اس ضمن میں پہل کرنی چاہیے اور اصلاحات کے عمل میں شریک ہونا چاہیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.