30 مارچ – عافیہ صدیقی کاتین بچوں سمیت اغواء کا دن – 15 سال مکمل – شرم والوں کیلئے ’’یوم ندامت ‘‘

214

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا خط۔۔۔
ظلم تجھ پر بڑا ظالموں نے کیا… ہاتھ سے کوئی موقع جانے نہ دیا
استقامت کو تیری سلام عافیہ… قید میں غیرکے اپنی عزت رہے
قوم کی ہوتی پامال حرمت رہے …شرم والوں کا سر شرم سے جھک گیا
امید ہے مزاج گرامی بخیرہونگے۔ میں آپ کی بے حد مشکور ہوں کہ میری بہن اور قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست سے رہائی اور وطن واپسی کی جدوجہد کے سلسلے میں ہر مرحلہ پر میرا بھرپور ساتھ دیا ہے جو کہ ہم تمام اہلخانہ کیلئے عافیہ کی رہائی کی کاوشوں کی کامیابی کیلئے حوصلہ، امید اور یقین کا باعث بنتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کوعافیہ جیسے مظلوموں کا مددگار بننے پر اپنی ان بے پناہ رحمتوں اور برکتوں سے نوازے جن کے آپ پر نزول کی میں دعا گو رہتی ہوں۔
میں آپ سے ایک مرتبہ پھر اس لئے رابطہ کررہی ہوں کہ جرم بے گناہی کی پاداش میں عافیہ کے قید تنہائی میں 15 سال مکمل ہونے والے ہیں اب تو ہم سے ہر ایک کو شرم آنی چاہئے!!۔ 30مارچ، 2003 ء پاکستان کا ہی نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کا وہ افسوسناک دن ہے جب عافیہ کو اس کے تین کمسن بچوں سمیت کراچی سے اٹھا کرکے امریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ان 15 سالوں میں یہ تیسری اسمبلی ہے جو کہ اپنی مدت مکمل کرنے جارہی ہے اس کا مطلب ہوا کہ تین حکومتوں نے ایک بے گناہ پاکستانی خاتون شہری کی رہائی اور اسے وطن واپس لانے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ عافیہ کے اغواء سے پہلے جو حالات تھے آج اگر تجزیہ کریں توملک اس سے بھی بدترین حالات سے گذررہا ہے ۔ہمیں مل کر پیارے پاکستان کو اس مشکل حالات سے نکالنا ہے۔ بہرحال عوام اور عافیہ کو ریلیف دینے کا فریضہ حکومت پاکستان، اراکین پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کو ہی اداکرنا ہے۔ عوام کی جان ، مال ، عزت و آبروکے تحفظ کا فریضہ حکومت، پارلیمنٹ اور سرکاری حکام ادا نہیں کریں گے تو پھر یہ فریضہ آخر کون ادا کرے گا؟ اور اس کیلئے ہم سب کو مل کر کوششیں کرنا ہیں۔
مہذب معاشروں میںخواتین کا احترام کیا جاتا ہے، انہیں بیچا نہیں جاتا ہے۔ کسی بھی قوم کی غیرت اور حمیت کی پہچان ان کے معاشرے میں ماں ، بہن اور بیٹی کے مقام سے ہوتی ہے مگر افسوس ہم 21 ویں صدی کے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں پستی کی سمت میں سفر کررہے ہیں۔ عافیہ کی واپسی کچھ بھی مشکل نہیں ہے بس اس کیلئے غیرتمند قومی قیادت کی ضرورت ہے جس کی تلاش میں عافیہ کے ساتھ ساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ہے۔جس اللہ نے امریکی فوجیوں کی گولیوں سے چھلنی اور بدترین انسانیت سوز تشدد کے بعد بھی عافیہ کوزندگی دی، میرا ایمان ہے وہی اللہ عافیہ کو مکمل عافیت کے ساتھ بہت جلد اپنے گھر واپس لائے گا۔ ان شاء اللہ
میری گذارش ہے کہ 30 مارچ کے حوالے سے اپنے قلم کے توسط سے حکمرانوں، ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری حکام کو ان کا دینی، قومی اور آئینہ فریضہ ایک مرتبہ پھر یاد دلائیںاورعوام کی مسلسل رہنمائی فرماتے رہیں تاکہ آئندہ ایسی پارلیمنٹ معرض وجود میں نہ آئے جسے عوام کے مسائل یہاں تک ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کی بھی کوئی پرواہ نہ ہو۔ عافیہ مومنٹ کا مشن قوم کی تمام عافیائوں کا تحفظ ہے۔ انتہائی پرامید ہونے کے ساتھ آپ کے جواب اورعملی تعاون کی منتظر۔
آپ کی بہن

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.