نظریہ پاکستان اورآج کے طلبا

279

تحریر:احمد قیوم ۔۔
یہ بزرگ زار وقطار رونے لگے۔۔۔ آنکھوں سے بہنے والے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔! ایسے جیسے میرے تاریخی سوال میں بہت سی داستانیں، درد، صعوبتیں، مشکلات اور شکوے چھپے تھے۔میں کچھ دیر تو دیکھتا رہا اور پھران بزرگ کو حوصلہ دیا ۔۔عمر 85سال کے لگ بھگ تھی۔اور میرا سوال ’’ تحریک پاکستان میں نوجوانوں کا کردار ‘‘کے متعلق تھا۔ انھوں نے میرے سوال کا جواب دینے کی ہمت کی اور بولے ’’ آج کے نوجوانوں کو کیا پتہ ہو کہ ہم نے پاکستان کیسے حاصل کیا‘‘۔اس جواب نے مجھ پر سکتہ طاری کر دیا اور سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اس بوڑھے بزرگ کے اس جواب میں آج کے نوجوانوں کیلئے بہت بڑا پیغام تھا۔ان بزرگ سے نارووال میں ملاقات ہوئی جو قیام پاکستان کے وقت موجودہ بھارتی شہر گرداسپور سے ہجرت کر کے پاکستان کے شہر نارووال میں آکر بس گئے۔اس موضوع پر مزید گفتگو ہوئی تو پتہ چلا کہ بزرگ خود بھی تحریک پاکستان میں شامل رہے اور سرگرم کارکن رہے۔ قیام پاکستان کے وقت ان کی عمر 14برس تھی اور وہ آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے۔بزرگ بتلانے لگے کہ اس وقت پاکستان حاصل کرنے کا جذبہ ہمارے سینوں میں پیوست ہو چکا تھا اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے آزادی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا ۔دوستوں کے ساتھ لے کر لوگوں کو ملتے اور ان کو الگ مسلم ریاست کا مطالبہ سمجھاتے۔ بالا آخر 14اگست1947کا وہ یادگار اور تاریخی دن آیا جب دیکھے ہوئے خواب کی تعبیر ہو ئی۔
یہ دو قومی نظریہ ہی تھا جس کی بدولت مسلمانان برصغیرہند کے گوشے گوشے اور قریے قریے میں الگ اسلامی ریاست کیلئے کھڑے ہوگئے۔انگریزوں کے متعصبانہ رویے اور ہندووں کے نہ ختم ہونے والے ظلم کے نتیجے میں مسلمان الگ ریاست کے مطالبے پر ڈٹ گئے۔تحریک آزادی میںمسلمانان ہند کے علماء و مشائخ، خواتین کے ساتھ ساتھ سب سے اہم کردارنوجوان طلبا کا تھا جن کی محنت کے بدولت شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے خواب کی تعبیر قائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔
تحریک آزادی پاکستان میں طلبا کے کردار کا آغاز 1930ء سے ہوتا ہے جب علامہ اقبال نے علیحدہ اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا۔اس تصور کو پیش کرنے کے بعد سے ہی نوجوانوں نے علیحدہ ریاست کے قیام کیلئے جدوجہد کا آغاز کر دیا تھا۔طلبا کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ1933میں مسلمانوں کی الگ ریاست کا نام ’’ پاکستان ‘‘ تجویز کرنے والے چوہدری رحمت علی بھی پنجاب کے طالب علم تھے جنہوں نے تحریک کا باقاعدہ آغاز انگلستان سے کیا تھا۔یوں نوجوان طلبا نے مسلم فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے الگ ریاست کیلئے جدوجہد کرنے لگے جو کہ1937میں قیام عمل میں آئی۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے قیام سے پہلے بھی نوجوان طلبا تحریک میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ مگر اس پلیٹ فارم کے قیام عمل کے بعد منتشر طلبا ایک لڑی میں پرو گئے اور متحد ہو کر،محنت و لگن سے تحریک کو مزید مضبوط بنانے کیلئے جدوجہد کو آگے بڑھانے لگے۔ جس کے نتیجے میں طلبا برصغیر کے کونے کونے میں پھیل گئے اور مسلم لیگ کے پیغام کو فرد فرد تک پہچانے لگے جس کی بدولت ہند میں تحریک پھیلتی گئی اور الگ ریاست کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے نوجوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
چونکہ نوجوان کسی بھی قوم کی طاقت ہوتے ہیں اور تحریکوں کو کامیاب بنانے میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے جس کو قائد اعظم بخوبی جانتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ قائداعظم محمد علی جناح نوجوان طلبا کے دئیے ہوئے مشوروں پر غور کیا کرتے تھے اور اپنی بھرپور مصروفیت میں سے بھی طلبا کو بھرپور وقت دیتے تھے جس کی مثال علی گڑھ یونیورسٹی کا دورہ ہے جس میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے قائداعظم کے وقت کو قیمتی سمجھتے ہوئے طلبا کو پاپند کیا کہ وہ 2منٹ سے زیادہ تقریر نہیں کرئے گے اور جب وقت پورا ہو جائے گا تو وہ گھنٹی بجا دے گے۔ پروگرام میں جب طلبا نے تقریر شروع کی تو وقت مکمل ہونے پر وائس چانسلر نے گھنٹی بجا کر طالبعلم کو مزید گفتگو کرنے سے روک دیا تو قائد اعظم نے طالب علم اپنی گفتگو کو جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ قائد اعظم کو اپنے نوجوانوں کی صلاحیتیوں پر مکمل یقین اور بھروسہ تھا۔ان نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’’نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انھوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلبا نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی‘‘۔قائد اعظم کو اپنے نوجوان طلبہ سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔قائد اعظم نے1937میں کلکتہ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ نئی نسل کے نوجوانوں، آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طہ کرکے اقبال اور جناح بنیں گے۔مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا‘‘۔
مسلم لیگ کے قائدین کی تقاریرنے نوجوان طلبا میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔انگریزوں سے آزادی اور ہندووں سے الگ ہونے کا جذبہ قابل دید تھا۔ نوجوان گلیوں، محلوں، چوکوں چراہوں اور شہراہوں پر ریلیاں نکالتے اور پرشگاف نعرے بلند کرتے ’’ لے کے رہے گے پاکستان‘‘ ’’مسلم لیگ کا پیغام اور پاکستان کا مطلب کیا؟، لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ‘‘نظر آتے۔ ان نعروں نے پیام تحریک پاکستان کو گلی گلی، نگر نگر ہرفرد تک پہنچا دیا جس سے تحریک پاکستان دن بدن مضبوط ہوتی چلی گئی۔ نوجوان طلبا پنجاب اور سندھ کے ریگزاروں اور صوبہ سرحد(خیبر پی کے) اور بلوچستان کے دشوار گزاراور پرخطر پہاڑی سلسلوںکو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے، اپنے سفر جاری رکھے ہوئے مسلم لیگ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچاتے رہے۔اس کٹھن وقت میں طلبا ہی نے تحریک کو پروان چڑھانے کیلئے اورپاکستان کے قیام کو ممکن بنانے کیلئے نشرواشاعت اور 1946-47کے الیکشن کو کامیاب بنانے کیلئے اپنے تعلیمی مصروفیت کو معطل کردیا۔انگریز اور ہندو افسران کی طرف قیدوبند کی دھمکیوں اور دیگر صعبتوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انتہائی محنت ولگن ،ایثار، اسلامی جذبے سے سرشار ہو کر ،نظم و ضبط اور صبروتحمل کے ساتھ اپنے اس مقدس مشن کو جاری رکھا۔
1946میں پنجاب کے طلبا نے قائداعظم کی اپیل پر مسلم لیگ کے حق میں راہ ہموار کرنے کیلئے صوبے بھر میں کئی ماہ مسلسل گشت کیا جس کے نتیجے میں مسلم لیگ نے ان انتخابات میں78نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ جبکہ 1937کے انتخابات میںمسلم لیگ کے امیدوار صرف 2نشستیں حاصل کر پائے تھے۔پنجاب میں تحریک پاکستان کو پھیلانے میںاسلامیہ کالج لاہور کے طلبا کا نمایا ں کردار رہا ہے۔اسلامیہ کالج لاہور کے ممتاز طلبارہنماوں میںچودھری رحمت علی، جسٹس انوارالحق، مولانا عبدالستار خان نیازی، حمید نظامی اور حکیم آفتاب احمد قریشی کے نام قابل ذکر ہیں۔1947کے ان انتخابات نے انگریزوں اور ہندووں پر گہرے اثرات چھوڑے اور تحریک میں نیارخ پیدا ہوا جس سے طویل جدوجہداور بے پناہ لازوال قربانیوں کے بعد قیام پاکستان ممکن ہوا۔
قارئین! ٓایک طرف وہ نوجوان طلبا تھے جنہوں نے اپنی محنتوں اور صلاحیتوں سے پاکستان کے تصورکو قیام عمل میں لاکر اپنااہم فریضہ سر انجام دیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دشمن کے اوچھے ہتھکنڈوں کو ناکام بنا کر اس پاکستان کا دفاع کیا جائے۔اور اس دفاع کی ذمہ داری بھی ریاست کے اداروں کے ساتھ ساتھ نوجوان طلبا پر عائد ہوتی ہے۔ ریاستی ادارے مثلا پاک فوج سرحدوں کا دفاع تو کرر ہی ہے مگر سرحدی دفاع کے ساتھ نظریاتی دفاع بھی ٖضروری ہے جس کی ذمہ داری طلبا پر ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے نوجوان طلبا اس عظیم اور پاکیزہ مقصد کی تکمیل کیلئے وہ کردار ادا نہیں کر پارہے جس طرح ادا کرنا چاہیے۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے نوجوان طلبا دشمن کی طرف سے ملک پاکستان پر مسلط کی گئی نفسیاتی جنگ کا شکار ہو گئے جس کے نتیجے میں وہ اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔بد قسمتی سے ہمارے یہی طلبا میڈیا کی اس جنگ میں پروپیگنڈے کی زد میں آگئے۔ جس کے نتیجے میں لسانیت،قومیت پرستی، تکفیریت ، سیکولرازم اور الحادجیسے فتنوں نے انہیں گھیر لیا۔ ہمارے جن طلبا نے اس پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع کرنا تھا وہ غیر دانستہ طور پر اندرونی اور بیرونی دشمن کے بچھائے ہو جال میں پھنس کر سیکولرازم کا شکار ہوکراپنی ذمہ داری سے غافل ہوگئے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن نے پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی۔انہی عناصر نے اداروں میں پڑھنے والے طلبا کوفتنہ تکفیرالجھا دیا جس سے ہمارے ذہین اور ہونہار طلبا دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال ہو گئے جس سے ملک بھر میں دہشتگردی کی فضا قائم ہوئی اور ہزاروں قیمیتی جانوں کا ضیاع ہونے کیساتھ ساتھ ملک کو اربوں ڈالرز کا نقصان بھی ہوا۔مکاردشمن کی چالوں کا خاتمہ یہی نہیں ہوتا بلکہ ملک کو مزید کمزور کرنے کیلئے یہاں لسانیت اور قومیت پرستی کو بھی بھرپور ہوا دی جس سے ہمارے نوجوان آپس میں ہی بٹ گئے اور مسلمان اور پاکستانی ہونے کے باوجود آپس ہی اختلافات پیداہو گئے۔ پنجابی،پشتون،بلوچی اور سندھی کی تقسیم نے ان کو پاکستانیت سے بلاتر کر دیا ۔ اسی وجہ سے اختلافات شدت اختیار کرتے گئے اور قومی مفاد کو لسانیت پر قربان کر دیا گیا جس سے یہ پیارا ملک ابھی تک مسائل میں گرا ہوا ہے۔
ان سب مسائل کے باوجود بھی پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا بھارتی ، اسرائیلی، امریکی پروپیگنڈہ ناکام ہو رہا ہے۔ بلکہ پاکستان کو مٹانے والے اپنے کھودے ہوئے گڑے میں خود گر رہے ہیں۔ مگر اس کو مکمل ناکام بنانے کیلئے نوجوان طلبا کے کردار کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بیرونی قوتوں نے پاکستان میں موجود کچھ مسائل کو منفی طور پر دنیا میں اجاگر کر کے ہمارے نوجوانوں کو مایوس کرنے کو کوشش کی۔ مگر ہمیں مایوس نہیں ہوناچاہیے۔ کیونکہ اللہ کے نبی نے مایوسی کو گناہ قرار دیا ہے۔مسلمان کبھی بھی کسی طرح کے حالات سے مایوس نہیںہوتا۔ہمیں دشمن کا چالوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کو سمجھ کر اس کا رد کرنا ہے اور اسکا بھرپور جواب دے کر ناکام بنانا ہے۔ جس طرح ہمارے بزرگوں نے لازوال قربانیاں دے کر پاکستان بنایا تھا۔اسی انداز میں ہم نے سیکولرازم، لسانیت اور دیگر منفی پروپیگنڈے کا رد کرتے ہوئے پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے کی حفاظت اور اس کا دفاع کرنا ہے۔کیونکہ مضبوط بنیاد ہی مضبوط عمارت کی ضامن ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے نظریے کا دفاع کر پائے گے تو پھر ہی پاکستان کو بچاپائیں گے اور یہی ہماری ذمہ داری ہے۔قائد اعظم کا فرمان ہے ’’ دنیا کی کوئی بھی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اتنی سازشوں اور پروپیگنڈے کے باوجود زندہ ہیںبلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی بھی کرتے چلے جارہے ہیں اور دشمنوں کی سازشیں دم توڑ رہی ہیں۔ آئیے اس 23مارچ کے موقع پر اس بات کا عزم کرئیں کہ جس طرح قربانیاں دیکر یہ وطن حاصل کیا تھا اسی انداز میں قربانیا ں دیتے ہوئے دشمن کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اپنے ملک پاکستان کا دفاع کرتے چلیںگے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.