دنیا بھر میں زندہ دلانِ لاہور کے کھانے اپنی مثال آپ

یہ لاہوریوں کا ہی نہیں بلکہ لاہوری سیاحوں کا بھی دلعزیز ناشتہ ہے

348

تحریر:عشرت جاوید۔۔

صبح صبح کسی بھی اہم کام سے پہلے ایک چیز ایسی ہے جس پر لاہوری کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے،دن مصروفیت سے بھرپور ہو یا نا ہو ،زندہ دلان ِلاہور کی صبح مرغ چنے،پائے ،لسی ،حلوہ پوری اور چائے سے ہوتی ہے،ویسے بھی سارا دن کاموں کی گہما گہمی رہتی ہے ،انہی وجوہات کی وجہ سے اہلیان ِ لاہور دبنگ ناشتے کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہیں۔رات کے 3 بجے ناشتے کا وقت تو نہیں، لیکن یہ وقت لاہور میں ناشتے کے اہتمام کا ضرور ہوتا ہے۔اس وقت پرانی انار کلی کے مناظر دیدنی ہوتے ہیں جہاں بونگ پائے کی مشہور دکان ابھی کھلی بھی نہیں ہوتی، لیکن لوگ پہلے ہی پہنچ جاتے ہیں۔فجر کے وقت ہی اس قدر چہل پہل ہوتی ہے اگر کوئی سیاح اسے دیکھ لے تو وہ ایک لمحے کو سمجھے گا کہ جیسے جنگ کی سی صورت حال ہے ،جو لوگ اتنی جلدی اٹھ گئے ہیں،مگر جیسے ہی وہ لوگوں کے ہاتھوں میں برتن تھامے دیکھے گا اس کی حیرانی دیدنی ہو گی کیونکہ لاہوری انہماک سے سری پائے کھانے میں مصروف ہونگے ،ساتھ ہی اسے تسلی ہو جائے گی کہ یہ صبح خیری اس شہر کا معمول ہے اور اس کی وجہ حالات نہیں بلکہ ان کی خوش خوراکی ہے ۔لاہور زندہ دل والوں کا شہر کہلاتا ہے۔یہ اپنی تاریخی عمارات اور کھانوں کی روایات کی وجہ سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ملکی و غیر ملکی سیاح لاہور آ کر اس شہر کی سیر
کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔لاہور میں ایک چیز سب سے اہم ہے وہ ہے جدید و قدیم ثقافت کا امتزاج ،جو اسے باقی شہروں سے ممتاز کرتی ہے یہ امتزاج اسے محض فن تعمیر تک ہی محدود نہیں کرتا بلکہ یہ شہری زندگی سے بھی نمایاں ہوتا ہے۔لاہوری نت نئے طریقوںکو صرف اسی لیے اپنائے ہوئے ہیں تاکہ وہ اپنی روایات اور ثقافت کو فراموش نہ کر سکیں۔یہی وجہ ہے رہن سہن سے لے کر کھانے پینے تک میںثقافتی رنگ نظر آتا ہے۔ناصرف گھروں میں بلکہ گھروں سے باہر بھی لاہوری کھانا کھایا جاتا ہے۔اس بات کا اندازہ لاہور میں بڑھتے ہوئے ہوٹلوں کی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے۔لاہور کی اہم خصوصیات ،تاریخی عمارات،تفریخ گاہیں،مہمان نوازی اور کھانے سر فہرست ہیں۔اگر ہم یہ کہیں کہ روایتی اور جدید قسم کے کھانے پکانے اور کھانے کا شوق لاہوریوں کے رگ و پے میں موجود ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔

لاہوریئے کھابوں کے شوقین یونہی مشہورنہیں، عیدو شادی کی شاپنگ کے دوران بھی اگرتھک جائیں، یاکچھ سمجھ نا آرہا ہوکہ کیا خریدیں اور کیا چھوڑیں، توبھی انہیں ایک بات ضرور یاد رہتی ہے اور وہ یہ کہ کچھ کھا پی لیا جائے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق لاہوری اپنی آمدن کا 40فیصد حصہ کھانے پر لگا دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں شہر میں فوڈ سٹریٹس کی تعدادبڑھ گئی ہے۔ان فوڈ سٹریٹس میں نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں۔مختلف شہروں سے لوگ اواخر ہفتہ پر صرف کھانا کھانے کے لیے لاہور میں آتے ہیں۔کھانا کھانے کے لیے لاہور میں بے تحاشا جگہیں ہیں۔ ہر گلی نہیں تو ہر علاقے کی ضرور کوئی نہ کوئی خاصیت ہے۔ ہر کلاس کے لوگوں کے لیے جگہیں الگ الگ لیکن ذائقہ ایک سے بڑھ کر ایک۔ کبھی کبھی کسی ریڑھی والے سے لے کر کھائی ہوئی بریانی اتنی لذیذ ہوتی ہے کہ اس کا مقابلہ کسی بڑے ہوٹل کی بریانی بھی نہ کر پائے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں ’’جن نے لاہور نئیں تکیا او جمیا ای نئی،‘‘ اور ’’لاہور، لاہور اے،‘‘۔
لاہوری کھانوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جا تا ہے ۔ایک طرٖ ف ناشتہ ،جس کا اہتمام بڑی شان سے کیا جاتا ہے اور دوسری طرف دوپہر اور رات کے لیے مزے مزے کے کھانے۔لاہوریوں کے ناشتے کا اسٹائل دوسرے لوگوں سے بہت الگ ہوتا ہے۔اگر لاہور میں ناشتے کی مخصوص چیزوں کی بات کریں تو اس میں حلوہ پوری، شاہی پٹھورے، نان چنے، بونگ پائے اور سری پائے نان کے ساتھ، نہاری اور ایک گلاس لسی۔ یہ لاہوریوں کا ہی نہیں بلکہ لاہوری سیاحوں کا بھی دلعزیز ناشتہ ہے۔ لاہور شہر کے عموماً گھروں میں صبح اٹھتے ہی یہ ذکر شروع ہوجاتا ہے آج کس چیز کا ناشتہ کیا جائے۔حقیقت ہے کہ ناشتے کا انتخاب ایک مشکل کام ہے مگر اس سے بھی زیادہ مشکل یہ ہوتا ہے کہ ناشتہ کون سی جگہ سے لا کر کیا جائے۔ گھر کے ہر فرد کی اپنی چوائس ہوتی ہے ایک کا کہنا ہوتا ہے کہ آج نان چنے کا ناشتہ کیا جائے تو دوسرا کہتا ہے کہ حلوہ پوری کا جبکہ تیسرا سری پائے کی فرمائش کر بیٹھتا ہے اورکوئی کہے گا کہ بونگ کا ناشتہ کیا جائے وغیرہ۔ پھر کسی کو آلو کا پراٹھا پسند ہوتا ہے اور کوئی تازے نان کے ساتھ دہی کی بالائی کھانا چاہتا ہے۔ پراٹھے اور ڈبل روٹی کا ناشتہ بھی بہت شوق سے کیا جاتا ہے۔پھر اس کے بعد یہ انتخاب کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ناشتہ کون سی جگہ سے لا کر کیا جائے کیونکہ لاہور میں ناشتے کے لیے ایک سے بڑھ کے ایک اسپیشل دوکان ہے جیسا کہ پھجا سری پائے والا جس کی دکان اندرون لاہور شہر کے شاہی گیٹ میں ہے۔ اس کا ناشتہ بہت زیادہ مشہور ہے لاہور کے لوگ تواس کی دکان پر جاتے ہی ہیں لیکن لاہور سے باہر کے لوگ بھی اسپیشل ناشتے کے لیے اس کی دکان کا رخ کرتے ہیں۔اس کے علاوہ لاہور شہرمیں اندرون شیراں والے گیٹ میں صدیق ناشتے والا بہت مشہور ہے لوگ دور دور سے اس کی دکان پر ناشتے کے لیے آتے ہیں اس دکان کا شمار انیسویں صدی کے مشہور ناشتے کی دکانوں میں کیا جاتا تھا۔
چونکہ روایتی ناشتہ لاہور کی پہچان ہے ،مگر اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اب یہ روایت کچھ کم ہو گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اندرون ِ لاہور میں اب رہائشی کم ہو گئے ہیں اور یہ علاقے کمرشلائز ہو گئے ہیں ،جن لوگوں کی دوکانیں یا پلازے ہیں وہ اب یہاں رہائش پذیر ہیں اور وہ ان روایات سے یا تو لا تعلق ہوتے ہیں یا وہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔اسی ناشتے کی مد میں لاہوریے گدھے اور کتے کا گوشت کھا چکے ہیں ۔
حلوہ پوری اور پراٹھا

حلوہ پوری، نان چنے کے بعد یہ سب سے زیادہ کھایا جانے والا کھانا ہے۔ اتوار کی صبح، ہر خاص و عام کی صبح، حلوہ پوری سے شروع ہوتی ہے۔کہنے کو تو یہ حلوہ پوری ہے مگر اس کے ساتھ،آپ کو آلو چنے اور اچار بھی ملتا ہے۔ یوں تو لاہور میں حلوہ پوری کی ہزاروں جگہیں ہیں،ہر مین بازار اور چوک میں حلوہ پوری کی دوکانیں ہیں جہاں سے آپ حلوہ پوری صبح 6 بجے سے لیکر10بجے تک لے سکتے ہیں مگر اتوار کوآپ حلوہ پوری12بجے دوپہر تک لے سکتے ہیں۔ حلوہ پوری کے مشہور مراکز گوالمنڈی،موچی گیٹ، گلبرگ،شاہی محلہ،بیڈن روڈ اور چوک یتم خانہ وغیرہ وغیرہ ہیں۔ پوری فرائڈ روٹی ہوتی ہے جو کہ میدہ کے علاوہ اچھے آٹے سے بھی بنائی جاتی ہے۔ اور حلوہ میں سوجی،گھی اور چینی بڑے اجزا ہوتے ہیں۔ شوقین لوگ جانتے ہیں کہ بہترین حلوہ پوری کیپری ریسٹوریٹ،رائل پارک،بٰیڈن روڈ اور تاج محل ریسٹورنٹ سے ملتی ہے۔لاہور میں پوری عام طور پر12سے25 روپے فی پوری کے مل جاتی ہیں،جس میں حلوہ،چنے اور اچار شامل ہوتا ہے اور ہزاروں لوگوں کا رزق اس پیشے سے منسلک ہیں۔ آپ حلوہ علیحدہ سے بھی لے سکتے ہیں۔ان تمام کھانوں کے علاوہ لاہور کے لوگ پراٹھوں کا ناشتہ بھی بہت پسند کرتے ہیں۔ پہلے کوئی دور تھے جب تمام لوگ اپنے اپنے گھروں میں پراٹھے تیار کیا کرتے تھے۔ لیکن آج کے دود میں پراٹھے بھی بازاروں میں آسانی مل جاتے ہیں۔ تقریباً ہر ناشتے کی دکان پر پراٹھے تیار کرنے والے آپ کو ضرور نظر آئیں گے اور ساتھ ہی ساتھ پراٹھا خریدنے والوں کا ڈھیر سارہ رش بھی نظر آئے گا۔ پراٹھے کا استعمال انڈا اور چائے کے ساتھ کیا جاتا ہے اور بعض لوگ بازاری چنے اور لسی کے ساتھ پراٹھا کھاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو پراٹھوں کے ساتھ اچار کھانا بہت پسند ہوتا ہے اور کچھ لوگ نمک والا پراٹھاصرف چائے کے ساتھ بہت شوق سے کھاتے ہیں۔
سری پائے

جب ہم سری پائے کی بات کرتے ہیں توایک ہی نام پھجے کے سری پائے کا سر فہرست ہے ۔سردیوں میں سری پائے کی فروخت کا کام عروج پر ہوتا ہے اور گرمیوں میں ذرا مندا۔ اب تو پھجے نے لاہور شہر میں اپنی فرنچائز بھی کھول لی ہیں،جہاں بعض جگہ خواتین کے بیٹھنے کا علیحدہ انتظام ہے۔
نہاری

نہاری کا ذائقہ ہی کچھ ایسا ہے کہ کھانے والے کو نوالہ لیتے ہی احساس ہو جاتا ہے کہ کتنی احتیاط اوردیکھ بھال سے اس کو تیار کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ دعویٰ کہ نہاری حکمت کے مطالعے سے اخذ کی گئی ہے، حیران کن نہیں لگتا اور ویسے بھی اس کا استعمال سانس کی نالیوں کی سوزش، عام نزلے اور دہلی اور لکھنؤ کی سردیوں میں بخار سے بچاؤ کے کام آتا ہے۔ اس کی مقبولیت اس وجہ سے بھی بڑھی کہ کھانے کے بعد، کڑاکے کی سردیوں میں جسم گرم رہتا ہے۔لاہور میں محمدی نہاری کا نام پہلے نمبر پر آتا ہے۔
نان چنے

نان چنے کاناشتہ ہر عام و خاص کا مقبول ناشتہ کہلاتا ہے۔سید میٹھا بازار میں سعید چنے والا دیسی گھی میں بنے چنے اور کوفتے کی وجہ سے پورے شہر میں مشہور ہے۔یہاں سے چنے لینے کے لیے فجر کے بعد لائن میں لگنا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ شادباغ میں جیلا نان چنے والا اور سبحان اللہ نان چنے
والا جس کے چنے کے سالن میں گھی بہت زیادہ اور مرچ بہت تیز ہوتی ہے جس کی وجہ سے لوگ خود بخود کھینچے چلے آتے ہیں۔ کچھ لوگ کالی مرچوں والے چنے بھی پسند کرتے ہیں یہ چنے صرف مرچیں ڈال کر تیار کیے جاتے ہیں۔باغبانپورہ میں200سال پرانی جیجہ ناشتے والے کی دکان ہے جس کی دکان پر صبح سویرے کی لائن لگ جاتی ہے۔ جب نان چنے کے ناشتے کی بات ہو رہی ہوچکڑ چنے کو کوئی کیسے بول سکتا ہے لاہور کے لوگ چکڑچنے کا ناشتہ بھی بہت شوق سے کرتے ہیں مصری شاہ ہائی سکول کے باہر منیرا چکڑ چنے والا بہت مشہور ہے۔ اس کے چکڑچنے بہت مزیدار ہوتے ہیں اور یہاں لوگ دور دور سے چکڑچنے کھانے کے لیے آتے ہیں۔نان چنے اور بونگ کے ناشتے کے بعد دہی کے ناشتے کا ذکر کرتے ہیں دودھ اور دہی کی دکانیں بھی لاہور میں بے شمار ہیں جن کے باہر صبح ناشتے کے وقت اتنا رش ہوتا ہے کہ جتنا گڑ کے ڈھیر پر مکھیوں کا رش۔اس حوالے سے گوالمنڈی کو گڑھ سمجھا جاتا ہے۔کوزی حلیم،داس کلچہ،نان خطائی،ماش کی دال کی کچوری،تلی ہوئی مچھلی،رنگ برنگی مٹھائیاں،باداموں والی خطائی وغیرہ،ایسی چیزیں ہیں جو نا صرف ملک بلکہ بیرون ملک سے آنے والے بھی بہت شوق سے کھانا پسند کرتے ہیں۔ہر ایک اپنے ذائقہ اور لذت کے باعث ہر عام و خاص میں مشہور ہے۔لکشمی چوک اور گوالمنڈی کھانوں کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنی تاریخی اہمیت ومقبولیت کی حامل ہیں۔بھارت سء آنے والے سکھوں کو کہنا ہے کہ ہم جب پاکستان آتے ہیں تو ان دونوں جگہ پر ضرور آتے ہیں اور یہاں آ کر ہمیں آج کو روایات زندہ نظر آتی ہیں۔لکشمی چوک میں پٹھان چائے والے کی دکان پر اس قدر رش دکھائی دیتا ہے جیسے یہاں چائے مفت دی جا رہی ہو۔ملک کے نامور جرنلسٹ،وکیل،سیاست دان و دیگر اہم شخصیات یہاں چائے پینا پسند کرتے ہیں۔اس کے علاوہ مزنگ کے پراٹھے اور جٹے کی دال ،ماڈل ٹاؤن میں بی بے کے کباب،گوالمنڈی میں امرتسری ہریسہ اور دال چاول بہت شوق سے کھانا پسند کرتے ہیں۔لاہوری کھانے پینے کے نہایت شوقین ہیں اگر کسی کو کوئی کاروبار کرنا ہے یا اسے اپنے کاروبار میں نقصان ہو رہا ہے تو وہ کھانے بنا کر فروخت کر لے۔اس کا یہ کاروبار خوب چمکے گا کیونکہ پک اپ اور رکشہ میں بھی مزے دار اور لذیذ کھانے بیچتے دکھائی دیتے ہیں اور ریڑھیوں اور دکانوں پر بھی۔
داس کلچہ

داس کلچہ لاہو ر کا انوکھا اور روایتی ناشتہ ہے ۔اندرون لاہور کی اس خاص ناشتے کی ڈش کے بارے میں شہر کے باہر رہنے والے لوگ تو بہت ہی کم جانتے ہونگے۔اگر ان کے سامنے یہ داس کلچہ رکھ دیا جائے تو انکی حیرانی کی حد نہیں ہو گی کہ یہ کیسی ڈش ہے ؟ اور کیسے کھانی ہے ؟ داس کلچہ اندرون لاہور میں ایک ثقافتی کھانا ہے جو کہ زیادہ تر ناشتے میں کھایا جاتا ہے۔ لیکن عمو ما دوپہر تک کھانے میں ملتا ہے۔ داس کلچے کے کلچے دیکھنے میں عام کلچے کی مانند ہی تندور میں تیار ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا سائز قدرے چھوٹا ہوتا ہے اور یہ ذرا موٹے ہوتے تھے۔ یہ میدے کے خمیر سے تیار کئے جاتے ہیں۔ تیار ہو جانے کے بعد یہ شوارما بریڈ کی مانند نظر آتے ہیں۔ اسکے ساتھ کھانے کے لئے چٹ پٹے قسم کے چنے بنائے ہوتے ہیں جو کہ چکڑ چنے کی طرز پر تیار کئے جاتے ہیں۔ جبکہ ان چنوں کے ساتھ پکوڑوں کی طرح کی چند پکوڑیاں جسے’ لونچھڑے ‘کہا جاتا ہے جس کا سائز بڑی پکوڑی جتنا ہوتا ہے۔ اسکے ساتھ انار دانہ کی چٹنی ، اچار اور ساتھ باریک باریک سلاد دیا جاتا ہے جو کہ اسکی لذت دوبالا کر دیتا ہے۔ لوگوں کو کھاتا دیکھ کر منہ میں پانی آجاتا ہے۔ممکن ہے کہ پہلی مرتبہ کھانے میں کچھ دقت ہو کیونکہ کلچہ ذرا خشک ہوتا ہے۔اور چنے وغیرہ بھی قدرے خشک لیکن بعد ازاں آپ کو یقینا اچھے لگیں گے۔ داس کلچے کے بارے میں اندرون لاہور کے کچھ پرانے بزرگ بتاتے ہیں کہ یہ کھانہ امرتسر سے آئے ایک خاندان نے تقسیم سے پہلے شروع کیا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے تک صرف موچی دروازہ کے علاقہ چوہٹہ مفتی باقر میں ہی بنائے جاتے تھے بعد ازاں اس خاندان کی آنے والی نسلوں میں منتقل ہوا اور اب کاروباری سطح پر چونا منڈی چوک ،کشمیری بازار اور دیگر جگہوں پر بھی فرو خت ہونے لگا ہے۔اور اب تو لاہور کے بڑے بازاروں رنگ محل ، ڈبی بازار ، اعظم کلاتھ مارکیٹ ، موتی بازار ،اور دیگر تجارتی جگہوں میں کھانچہ اٹھائے بھی بیچتے نظر آئیں گیں۔ آپ جب بھی اندرون لاہور میں آئیں ایک بار ضرور داس کلچہ ضرور کھائیں۔ صدیق ناشتے فروش نے بتایا کہ ان کی دوکان 10سال سے اندرون لاہور میں موجود ہے۔نان چنے اور انڈا ان کی اہم مصنوعات ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی دوکان مارکیٹ میں ہے اس لیے مزدور پیشہ اور مارکیٹ کے لوگ ان کے ہاںناشتہ کرتے ہیں۔
ایک ناشتہ فروش محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ وہ چکڑ چنے اور نان کا ناشتہ فروخت کرتا ہوں ان کے 8سال سے کھولے اس ہوٹل میں تقریبا200افرادناشتہ کرتے ہیں۔جبکہ اتوار کو زیادہ تر خاندان ناشتہ کرنے آتے ہیں۔اس کے علاوہ جو لوگ باہر ناشتہ نہیں کرنے آتے وہ گھر میں منگوا لیتے ہیں۔ایک سویٹ شاپ کے محمد عارف کا کہنا ہے کہ حلوہ پوری کا نا شتہ پچھلے 30سال سے لگاتے ہیں ان کے مطابق لاہور کے لوگ میٹھا بہت شوق سے کھاتے ہیں اس لیے میٹھے میں حلوہ پوری ،میٹھے پوڑے بہت پسند کئے جاتے ہیں۔اتوار کو یہاںلوگوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے بلکہ 9بجے تک سارا ناشتہ فروخت ہو جاتا ہے۔
شوق دا کوئی مل نیی ہوندا
میاں نواز شریف لاہور کے پرانے اور مشہور دہی بھلے، کباب، سری پائے اور مرغ چنوں کے شوقین ہیں بلکہ ان کھانوں کے دکان دارنواز شریف کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہر آنے جانے والی گاڑی کو دیکھ کر انہیں یہی لگتا ہے کہ میاں صاحب آ گئے ہیں۔میاں نواز شریف اپنی سعودیہ عرب کی جلاوطنی کے دوران بھی پھجے کے پائیوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔رحمان ملک اپنی پسندیدہ نہاری لاہور سے جہاز کے ذ ریعہ اسلام آباد منگوایا کرتے تھے۔بات یہی ختم نہیں ہوتی آپ یہ سن کر ضرور حیران ہونگے کہ ہندوستان کے سابق وزیراعظم واجپائی بھی پھجے کے پائیوں کے شوقین نکلے۔
انٹر نیشنل ریسلر ٹائینی اپنے قد کاٹھ اور مخصوص اسٹائل کے باعث تمام ریسلرزمیں منفرد ہی نہیں، مقبولیت میں بھی آگے ہیں۔ 21 مئی 2017 کوانٹر نیشنل ریسلر ٹائینی لاہور آئے تھے اور مقامی ہوٹل میں روایتی لاہوری ناشتے سے لطف اندوز ہوتے رہے،انہوں نے ناشتے میں حلوہ پوری اور لسی شوق سے پی،10 انڈوں کا آملیٹ،بریڈ اور مکھن بھی کھایا ٹائینی نے حلوہ پوری کھائی تو انگلیاں چاٹنے پر مجبور ہوگئے،اور بے اختیار کہہ اْٹھے کہ ’’لاہوری حلوہ پوری کا مزا ہی کچھ اور ہے ‘‘اور لسی پینے کے بعدتوبے اختیار کہہ اْٹھے کہ ’’لاہور،لاہور اے‘‘۔ٹائینی کو لاہوری کھابے بھی بہت پسند آئے تھے۔
19مئی 2015کو جب زمبابوے کی کرکٹ ٹیم لاہور آئی تو فائیو اسٹار ہوٹل میں مقیم زمبابوے کی ٹیم کیلئے روایتی لاہوری ناشتے کا اہتمام کیا گیا۔ناشتے میں لاہور کی روایتی ڈشز پراٹھا ،آملیٹ ،نان چنے،حلوہ پوری،چکن نہاری،آلو کی بھجیارکھی گئیں۔ابلے ہوئے انڈے کیساتھ تربوز، مالٹے کا جوس اور چائے بھی ناشتے میں شامل تھی۔زمبابوے کرکٹ ٹیم کو روایتی لاہور ی ناشتہ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اپنی آمد کے دوسرے روز بھی لاہوری ناشتے کی فرمائش کردی تھی۔ ان کی فرمائش کو پورا کرتے ہوئے انہیں روایتی لاہوری ناشتہ کروایا گیا۔ ناشتے میں حلوہ پوری، نان چنے ، پٹھورے ، نہاری، پائے ، لسی، پراٹھے ، آملیٹ وغیرہ شامل تھے۔

تنویر حسین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ لاہور کے کھانے دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں یہ کہنا ہے ۔اور جب بات ہو ناشتے کی تو لاہور کے باسی خاص طور پر حلوہ پوری، پٹھورے، نان چنے، سری پائے، بونگ، نہاری اور بہت سی ذائقے دار روایتی ڈشز اپنے گھر والوں کے ساتھ خوب اہتمام سے نوش فرماتے ہیں۔ لاہوری ناشتوں میں سری پائے، زبان اور کھد کا ناشتہ ایک ایساناشتہ ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی یاکمزور معدے کا شخص انہیں سونگھ بھی لے توشاید یہ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری ناشتہ ہومگر لاہوریوں کی زندہ دلی اور وسیع القلمی اس حدتک قابل داد ہے کہ وہ نہ صرف گائے بیل بھینس اور بکریوں کا گوشت ذوق وشوق سے کھاتے ہیں بلکہ وہ ان جانوروں کے سپیئر پارٹس آنکھیں بند کر کے کھاجاتے ہیں خاص کرگائے کا گوشت اتنی رضاورغبت سے کھاتے ہیں کہ اس کی زبان تک نہیں چھوڑتے حتیٰ کہ اس’’ خمیرہ گاؤزبان‘‘ بنالیتے ہیں۔لاہور کا ایک مقبول ومعروف ناشتہ’’ نان چنے‘‘ ہے۔ لاہور کے چپے چپے پر نان چنوں کی ریڑھیاں اور دکانیں دیکھ کریوں لگتا ہے جیسے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے گندم کی بجائے چنوں کی بدولت نکالا گیا تھا جس طرح قومی ترانہ ٹیکسٹ بک بورڈ کی ہر کتاب کی پشت کامقدر بن چکا ہے۔ اس طرح’’ نان چنے‘‘ بھی لاہوریوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔لاہوری ناشتوں میں ایک ناشتہ ایسا بھی ہے جسے دیکھ کر چھڑوں کی قسمت پر رشک آنے لگتا ہے کیونکہ پراٹھے بھی پک رہے ہوتے ہیں اور ان کی آگ بھی جل رہی ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ ایک شخص فٹ پاتھ پر چولہا اور توارکھے’’تمہوڑی‘‘ رنگ کے آلوؤں والے پراٹھے بنارہاہوتا ہے۔ اس کے پراٹھے کھا کر تو شایدنانی یادآتی ہوگی۔ بہرحال اسے دیکھ کریوں محسوس ہوتا ہے جیسے نیر سلطانہ کسی پنجابی فلم میں ماں کاکردارادا کررہی ہے۔لیکن لاہور کے کھانوں اور خصوصاً گوالمنڈی پر میرے دوست سردار جی کی پیار سے پلائی ہوئی ڈانٹ کا کچھ اثر نہیں ہوا بلکہ اگر ہوا بھی تو وہ بھی الٹ۔ اب ماشا اللہ گوالمنڈی میں روایتی کھانوں کا بازار تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ اب باقاعدہ فوڈ سٹریٹ بھی لگنی شروع ہو گئی ہے اور روز ہی وہاں اتنا رش ہوتا ہے جیسے آج ہی یہ سٹریٹ کھلی ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.