سپریم کورٹ کا ناقص پانی فروخت کرنیوالی کمپنیوں کو بند کرنے کا حکم

لاہور (نیوز نا مہ) سپریم کورٹ نے بوتلوں میں بند ناقص پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کو بند کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے مضر صحت ہونے کی بناء پر اجینو موتو کی فروخت پر پابندی عائد کر دی، اجینو موتو اور استعمال شدہ تیل کے خلاف ازخود کیس میں عدالتی معاون مصطفی رمدے کے پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ناقص پانی، دودھ اور مرغیوں کے گوشت سے متعلق از خود کیسز کی سماعت کی، ڈی جی فوڈ پنجاب نورالامین مینگل نے جواب جمع کراتے ہوئے بتایا کہ پنجاب بھر میں 1150 بوتل بنانے والی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں، 1053 کام کر رہی تھیں ،97 کمپنیاں بند ہو چکی ہیں، 135 کمپنیوں کے پانی کے نمونوں کی رپورٹس آنے کا انتظار ہے، 578 کمپنیوں کے رزلٹ ٹھیک آئے ہیں،340 کمپنیاں معیار پر نہیں اترتیں جنہیں بند کر دیا گیا ہے،چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ناقص پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں بند کر دیں جائیں، تمام کمپنیوں کے پانی کے معیار کو ہر تین ماہ بعد چیک کیا جائے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو ناقص پانی پینے کی اجازت نہیں دے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.