انہونی ہونے کو ہے

141

تحریر:امتیاز احمد شاد۔۔
بس کوئی لمحہ بھر کی دیر ہے،انہونی ہونے کو ہے۔ایک دیہاتی اپنی بکری بیچنے منڈی پہنچا دن ڈھلنے کو آیا مگر کوئی خریدار بکری خریدنے کو تیار نہ تھا وجہ بہت سادہ سی تھی دیہاتی ہر آنے والے کو بکری کی خوبیوں کے ساتھ خامیوں کا بھی تذکرہ کرتاتنگ آکر واپس جانے لگا تو ایک بیوپاری سے سامنا ہو گیا اس کے پوچھنے پر دیہاتی نے سارا ماجرا سنایا بیوپاری بڑا تجربہ کار تھا اس سے طے ہوا کہ تم جس قیمت پر بکری بیچنا چاہتے ہو اس سے اوپر کے دام میرے معاہدہ طے پایا بیوپاری نے بکری کی وہ وہ خوبیاں بیاں کی کہ دیہاتی آنگشت بدنداں رہ گیا اور آخیر میں اس نے اس بکری کا سلسلہ نسب بی بی حلیمہ کی ان بکریوں سے ملایا جن کی دیکھ بھال نبی اکرمﷺ نے کی تھی لوگ اکٹھے ہوئے سب منہ مانگے دام دینے کو تیار،دیہاتی نے بیوپاری سے کہا یہ بکری میں نے نہیں بیچنی اگر ان خوبیوں کا مجھے اندازہ ہوتا تو میں اسے بازار میں ہی نہ لاتایہ سنتے ہی بیوپاری نے کہا حضور میرا حصہ مجھے دیجیے اور بکری لے جائیے،دیہاتی نے حسب وعدہ اسے منافع ادا کیا اور بکری لے کر گھر کی راہ لی۔ملک میں پاناما کا ہنگامہ برپا ہوا تو عمران خان نے اسے اپنا بیانیہ بنا کر اس انداز سے عوام کے سامنے رکھا کہ بچے بچے کے منہ سے ترانوں کی شکل میں سارا ٹبر چور ہے کی صدائیں بلند ہوئی ، پارلیمنٹ میں میاں نواز شریف نے خطاب کے دوران کہا کہ جو الزامات مجھ پر عائد کیے جا رہے ہیں اس حوالے سے میرے پاس وہ تمام ذرائع بشمول دستاویزات موجود ہیں جب بھی کوئی انصاف کا ادارہ طلب کرے گا میں پیش کر دوں گا،عدالت میں پیش نہ کرنے کے بعد معاملہ جے آئی ٹی کے سپرد ہوا ،رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہوئی ،مگر میاں صاحب کو فیصلہ پسند نہ آیاکچھ دیر کے لیےباہر گئے ملک میں چہ مگوئیاںہوئیں اسی دوران مشیروں نے عوامی عدالت لگانے کا مشورہ دیا میاں صاحب میدان میں اترے مریم نواز نے بیانیہ مرتب کر کے سب کے ہاتھ میں تھمایا جنہیں دام سے غرض تھی پیش پیش دکھائی دیئے میاں صاحب کی تعریفوں کے وہ راگ الاپے کہ بیس کروڑ عوام کے ساتھ خود میاں صاحب بھی حیران تھے کہ ان صفات کا تو انہیں بھی علم نہ تھاان خوبیوں سے آشنا ہونے کے بعد میاں صاحب نے خود کو اقتدار اعلی کا مالک تصور کر لیاجو کسی کو جوابدہ نہیں بلکہ سب اس کے سامنے جوابدہ ہیںخیالوں کی اس دنیا میں چلے گئے جہاں تارتاری سر زمیں کا تصور ان کے دماغ میں نقش ہو گیااور وہ دلوں کے وزیر اعظم بن کرفیصلہ کرنے والے جج صاحبان کو عوامی عدالت میں یوں پیش کرنے لگے جیسے انہوں نے ظلہ سبحانی کی شان میں کوئی ناقابل معافی خطا کر دی ہو۔تارتاری قبیلے کا سربراہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتا تھا جب تک خطاکار کو انجام تک نہ پہنچا دیتا۔
ایوانوں سے نکل کر خیالی سر زمیں کے چوکوں چوراہوں اور میدانوں سے ہوتی ہوئی ظلہ سبحانی کی یہ سوچ ایک مرتبہ پھر ایوان اقتدار میں وزیر اعظم کی زباں سے نکل کرآخری معرکے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں منصفوں کو جھکانے اور میاں صاحب کا سیاسی شجرہ نصب وطن عزیز کی بقاء کے ساتھ ملانے کی منصوبہ بندی کی جا چکی،طبل جنگ بجا دیا گیا۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر کوئی نواز شریف کو سزا دینے پر بضد ہے تو پھر ہم بھی جنگ پر تیار ہیں،عدالتوں میں منتخب نمائندوں کو کبھی چور کبھی ڈاکو کبھی گارڈفادر کہا جاتا ہے ہر روز حکومتی نمائندوں کو عدالتوں میں بے عزت کیا جاتا ہے آخر یہ سب کب تک چلے گا؟
میاں صاحب کو مطلق العنانی کے اس خواب سے اگر کوئی خیرخواہ بیدار کر سکتا ہے تو انہیں یقینا یہ بتائے کہ دام وصول کرنے والوں کا کچھ نہیں جانا انہیں اپنے دام سے غرض ہے دیہاتی کی بکری بک گئی تو بھی ٹھیک نہ بکی تو بھی انہیں دونوں صورتوں میں وصولی ہو ہی جانی ہے ،میاں صاحب تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں عدلیہ کیخلاف اس حد تک جانا دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی کے لیئے سود مند ثابت نہیں ہوا،یاد رکھیں جس قوم نے آپ کو سر کا تاج بنایا وہی قوم جب آپ مشرف دور میں قید کیئے گئے اور پھر جلا وطن ایک لمحے کے لیئے بھی آپ کے ساتھ نہیں چلی آپ کی حکومت اب چند دنوں کی مہمان ہے اس کے جاتے ہی قوم اپنے تیور بدل لے گی اور آپکو اپنی ہی بکری کے دام دے کر روانہ ہونا پڑے گا۔ جب مشرف عدلیہ کے خلاف میدان حشر برپا کیئے ہوئے تھا ذرا ذہن پر زور ڈالیئے انہی مشیروں میں سے اکثریت اس کے ساتھ تھی جج قید بھی ہوئے مگر نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔سب اچھا کی صدائیں دینے والے آج بھی وہی ہیں جو اس وقت پیش پیش تھے،آپ کہہ رہے ہیں کہ سب آپ کے دشمن بن گئے ہیں سب آپ کو بے عزت کرنا چاہتے ہیں جناب والا ججوں کو نطام عدل کو اور مقام انصاف آپ خود للکار رہے ہیں صف دشمناں میں تو کوئی بھی ان کے خلاف بات نہیں کر رہا۔کبھی غور کریں آپ کے ہمدردوں میں سے کون ہے جو آپ کے بیانیے کو اس انداز سے آگے بڑھا رہا ہے جس طرح آپ کے دام وصولنے والے تمام حدیں پھلانگ کر آپ کے لیئے مذید سامان تنگی فراہم کررہے ہیں۔آپ جہاں دیدہ شخص ہیں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ قبضہ پر آئے اشتہاری اپنا کام دکھا کر معاوضہ وصول کر کے نکل جاتے ہیں جس کے بلاوے پر آتے ہیں وقتی طور پر تو اس کی بھلے بھلے یا واہ واہ ہو جاتی ہے مگر منظر بدلتے ہی سب اسے بھگتنا پڑتا ہے جس نے انہیں بلایا ہوتا ہے۔ابھی وقت ہے سب ٹھیک ہو سکتا ہے وگرنہ کوئی لمحہ بھر کی دیر ہے،انہونی ہونے کو ہے

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.