سعودی عرب ترکی ایران پاکستان کے حکمران چاہیں تو کشمیر کو آزادی دنوں میں مل سکتی ہے:اشرف عاصمی

205

لاہور (نیوزنامہ )اقوام متحدہ کا ضمیر مُردہ ہوچکا ہے۔ سعودی عرب ترکی ایران پاکستان کے حکمران اگر چا ہیں تو کشمیر کو آزادی دنوں میں مل سکتی ہے۔اِن خیالات کا اظہار انسانی حقوق کے علمبردار صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے نوشاہی قران انسٹی ٹیوٹ اور کوجینٹ نیوز نیٹ ورک کے زیر اہتمام منعقدہ کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ اُمت مسلمہ کو اِس وقت سب سے بڑا چیلنج اِس بات کا ہے کہ اُن میں اتحاد نہیں ہے صرف اتحاد و اتفاق سے ہی کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دُنیا کے امن کی راہ میں حائل بہت سے عوامل کے ساتھ ساتھ کشمیر ی عوام کی غلامی بھی ہے۔ کشمیریوں کو بھارتی درندوں نے زبردستی ظلم اور غلامی کا طوق پہنا رکھا ہے۔ یوں کشمیر میں انسانی حقوق کی جس طرح سے پامالی ہو رہی ہے اور کشمیری عوام جس طرح گاجر اور مولیوں کی طرح کٹ رہے ہیں یہ سب کچھ موجودہ انسانی حقوق کے علمبردار ممالک کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔انسان کا بنیادی حق آزادی ہے ۔ سوچ اور فکر کی آزادی تو بہت بڑی نعمت ہے لیکن سب سے گھمبیر معاملہ یہ ہے کہ کشمیر ی مسلمان جسمانی طور پر بھی غلام ہیں کو ئی دن نہیں جاتاجب کشمیر میں خون کی ہولی نہ کھیلی جاتی ہو انسانی آزادیوں کی پامالی کے حوالے سے کشمیر لہو لہو ہے۔ اشرف عاصمی کا کہنا تھا کہ ڈوگرہ راج سے لے کر موجودہ بھارتی تسلط کی آزادی کے حوالے تک بین الاقوامی میڈیا و بین الاقوامی عدالتِ انصاف کا ٹریک ریکارڈ ماتم کدہ بن چُکا ہے۔ انسانی عقل و شعور کسی صورت بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اِس حد تک شرمناک سلوک انسانوں کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی معاشرئے پہ کشمیر میں ہونے والی کشمیریوں کی نسل کُشی کا بہت ہی گہرا اثر ہے۔پاکستانی عوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ ظلم وستم پہ نوحہ کناں ہے۔عالمی ضمیر کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں بے حس و حرکت پڑا ہے اور ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں روس سپر پاور تھا لیکن اُس کی تمام تر ہمدردیاں بھارت کے ساتھ تھیں۔اِسی طرح موجودہ دور میں انکل سام امریکہ بہادر سُپر پاور ہے لیکن امریکہ کا بھی جُھکائو بھارت کی جانب ہے۔کشمیری عوام کی نفسیات پر جو گہرئے اثرات بھارتی ظلم و ستم کی بناء پر مرتب ہورہے ہیں۔ اِس بناء پر کشمیریوں کی معاشی سماجی عمرانی حالات غیر موافق ہیں۔ جنوبی ایشاء کا امن اِس وقت دائو پہ لگا ہوا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ یوں ایٹمی طاقتیں ہونے کی بناء پر پورئے جنوبی اشیاء کا امن دائو پر لگا ہوا ہے۔ سیمینار سے حذیفہ نوشاہی، عمر اشرف نے بھی خطاب کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.