شیخ زاید میڈیکل کمپلیکس لاہور میں فلیپ فار کینسر سرجری ورکشاپ 2018کا انعقاد

208

لاہور(نیوزنامہ)شیخ زاید ہسپتال لاہور میں پروفیسر ڈاکٹر فرید احمد خان چئیرمین اینڈ ڈین شیخ زاید میڈیکل کمپلیکس و سربراہ شعبہ پلاسٹک سرجری اور کینسر سرجری سوسائٹی کے بانی صدر پروفیسر محمد ارشد چیمہ کی زیر نگرانی 10ویں کینسر ایجوکیشن ویک 2018 کے سلسلہ میں کینسر کیلئے تعمیر نو آپریشن کے حوالے سے عملی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد ڈاکٹرز کو کینسر سرجری کیلئے فلیپس جدید طبی طریقہ کار کی تربیت فراہم کرنا اور تکنیکس سے روشناس کروانا تھا۔کورس کا آغاز پروفیسر ڈاکٹر ہارون جاوید مجید کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا، پروفیسر ڈاکٹر فرید احمد خان چئیرمین اینڈ ڈین اور دیگر ماہرین نے سرجن ڈاکٹرز کو ـــ”کینسر سرجری” کے حوالے سے سیر حاصل معلوماتی لیکچرز دیے گئے، بعد ازاں ڈاکٹرز کو آپریشن تھیٹرز میں لے جایا گیا جہاں انہیں عملی طور پر مریضوں پر براہ راست فلیپ فار کینسر سرجری سکھائی گئی جبکہ ڈاکٹرز کی بڑی تعداد کو آڈیٹوریم میں سکرین پرکینسر سرجری دکھا کر جدید ترین جراحی کی تکنیکس سے روشناس کروایا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر فرید احمد خان چئیرمین اینڈ ڈین کا کہنا تھا کہ کینسر کے وہ مریض جو صحتیاب نہیں ہوپاتے تھے ، اس کی وجہ کینسر زدہ حصہ کو سرجری کے ذریعے سے نکالنے کے بعد ہمارے پاس اسکی تعمیر نو کیلئے کوئی طریقہ علاج نہیں تھااس لئیے کہا جاتا تھا کہ یہ مرض لا علاج ہے۔اب پلاسٹک سرجری کی نئی شاخ ری کنسٹرکٹو سرجری یعنی تعمیر نو سرجری کے ذریعے سے ہم جسم کے کسی حصے سے کوئی بھی فلیپ لے کر کینسر سے متاثرہ حصے کو دوبارہ بنا سکتے ہیں۔ آج کا یہ کورس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ ہم نے کینسر کے مرض میں مبتلا مریضوں کے کینسر زدہ حصے کو نکال کر فلیپ کے ذریعے سے تعمیر نو کی ہے تاکہ اس کے بعد یہ مریض کیمو اور ریڈی ایشن سمیت اپنی زندگی کو نارمل شخص کی طرح گزار سکیں جبکہ اس ورکشاپ کے ذریعے سے ڈاکٹرز کی بڑی تعداد کو بھی اس جدید سرجری کی تکنیکس سے روشناس کروایا گیا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فرید احمد خان کا مزید کہنا تھاکہ کینسر اب لاعلاج مرض نہیں رہا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے جسم کے کسی حصے میں کوئی بھی گلٹی محسوس کرے یا کوئی بھی ایسی چیز جو طویل عرصے سے ہو، جس میں سے خون بہتا ہو اور خاص طور پر درد نہ ہو، ایسی صورت میں ضروری ہے کہ کسی مستند پلاسٹک سرجری یا ماہر معالج سے ضرور رابطہ کرکے مشورہ لیا جائے کیونکہ کینسر کی جلد تشخیص اس کے کامیاب علاج میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم شیخ زاید ہسپتال اور انمول ہسپتال کے مشترکہ تعاون سے ایسا یونٹ بھی بنانا چاہتے ہیں جہاں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا مریضوں کو ایک ہی چھت تلے علاج و معالجہ کی سہولیات میسر آسکیں تاکہ دکھی مریضوں کو در بدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں، ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی ورکشاپس کے انعقاد سے اس فیلڈ میں سپشلائزیشن کرنے والے ڈاکٹرز کے امتحانا ت کی تیاری میں بھی بھر پور مدد ملتی ہے ایسے کورسز کا انعقاد مستقبل میں بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہئیے۔اس موقع پر پروفیسر ہارون ڈار، پروفیسر ڈاکٹر ہارون جاوید مجید، پروفیسر فاروق افضل (لاہور جنرل ہسپتال)، پروفیسر وارث فاروقہ(سروسز ہسپتال لاہور)، ڈاکٹر محمد شفیع، ڈاکٹر عامر جمیل ، ڈاکٹر جنید آزاد، ڈاکٹر سید تیمور شاہ، ڈاکٹر وحید بھٹو، ڈاکٹر صوبیہ محمود، ڈاکٹر قدسیہ بانو اور ڈاکٹر بشری سمیت دیگر پروفیسر صاحبان اور ڈاکٹرز کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.