زینب کیس ، سپریم کورٹ کا ملزم کو سخت سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم،سماعت 29 جنوری تک ملتوی

120

اسلام آباد (نیوز نا مہ) زینب قتل کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملزم عمران کو سخت سکیورتی فراہم کرنے کا حکم دیدیا جے آئی ٹی کو صحافی کی معلومات پر عدالت نے تحقیقات کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تحقیقاتی ٹیم دو روز میں تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے۔ ملزم پولیس کی حراست میں ہے سکیورٹی کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے۔ جوڈیشل ریمانڈ پر سکیورٹی کی ذمہ داری آئی جی جیل خانہ جات کی ہوگی۔ سکیورٹی میں کوتاہی ہوئی تو دونوں آئی جیز ذمہ دار ہوں گے۔ عدالتی نوٹس پر صحافی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے ملزم عمران سے متعلق نئی معلومات دی ہیں صحافی نے عدالت میں بیان دیا کہ ملزم عمران علی عالمی مافیا کا متحرک رکن ہے ملزم عمران کو اعلیٰ شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے ملزم کی پشت پناہی میں وفاقی وزیر اور اعلیٰ شخصیت ملوث ہے۔ صحافی نے ملزم عمران کے سینتیس بینک اکاؤنٹس کی فہرست عدالت میں پیش کردی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وفاقی وزیر اور اعلیٰ شخصیت کا نام چٹ پر لکھ کر دیں۔ صحافی نے چیف جسٹس کو دونوں افراد کے نام کاغذ پر لکھ کر دیئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں نام ہماری تحویل میں رہیں گے کسی کو اس کا علم نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیٹی میں آئی بی اور اسٹیٹ بینک کے افسران شامل ہیں۔ زینب قتل کیس میں بتدریج سچ تک پہنچیں گے۔ قصور واقعے پر پوری قوم پریشان ہے۔ سچ سامنے آنے پر قوم کی پریشانی حل ہوجائے گی کیس کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.