ڈاکٹر اشفاق احمد ۔پاکستانی جوہری پروگرام کے معمار

190

تحریر:صابر مغل ۔۔۔پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (پی اے ای سی)کے سابق چیر مین ڈاکٹر اشفاق احمد کو اسلام آباد کے 11۔H قبرستان میں سرکاری اور فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا،وہ طویل عرصہ سے علیل تھے،ان کی نماز جنازہ میں چیر مین جوائنٹس چیف آف آرمی سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے مسلح افواج کی نمائندگی کی ان کے علاوہ اسٹریجک پلاننگ ڈویژن،نیشنل کمانڈ اتھارٹی،نیول اسٹریجک فورس کمانڈ،نیسکوم،خان ریسرچ لیبارٹریز،پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن ،پاکستان نیو کلیر ریگولیٹری اتھارٹی ،نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزکس سے وابستہ اعلیٰ حکام ،فوجی حکام ،سیاستدانوں اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی اور پھول چڑھائے،ڈاکٹر اشفاق احمد نے 60برس کے دوران ملک کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام اہم اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے جن میں پاکستان نیوکلیر منرل سینئیر کے سربراہ ،پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیو کلیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر اورپی اے ای سی کے چیر مین نمایاں ہیں، ڈاکٹر اشفاق ملتان میں وزیر اعلیٰ کے اس تاریخی اجلاس میں شریک تھے جس میں بھٹو نے کہا تھا کہ انہیں تین برس کے اندر جوہری طاقت چاہئے اسی اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو نے منیر احمد خان کو پی اے ای سی کا چیر مین اور اشفاق احمد کو کمیشن کاچیر مین منتخب کیا گیا جہاں انہوں نے بیس برس تک خدمات انجام دیں،یہ ہدف تین سال میں تو پورا نہ ہو سکا تاہم پاکستانی سائنسدان اس کام میں مگن رہے،ڈاکٹر اشفاق احمد نے بطور سائنس دان ڈیرہ غازی خان میں کیمیکل پلانٹ کمپلیکس میں کام کیا جہاں یورینیم کی کان تعمیر کر ے بیکس نامی گیس بنانے کے لئے پلانٹ لگایا اور اس گیس میں یورینیم کو خان ریسرچ لیابرٹریز میں منتقل کیا جاتا رہا،1980میں جنرل ضیاء الحق منیر احمد خان کو بیکس گیس کی ترسیل کے حوالے سے ڈیڈ لائن دی اور پی اے ای سی کے چیرمین ڈاکٹر احمد خان کو سائنسدانوں کی مدد کے لئے بھیجا (بیکس گیس کو سلنڈرز میں بھر کر خان لیبارٹریز تک ٹرک میں پہنچایا جاتا جس کو صرف ڈاکٹر ثمر مبارک مند چلاتے تھے)،1986میں ڈاکٹر اشفاق احمد کی نگرانی میں ہی صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے پہاڑ میں ٹنل اورعمودی شافٹ کی تعمیرکا آغاز ہوا،اپریل1991میں وہ پی اے ای سی کے چیر مین بنائے گئے ان کا خاصہ تھا کہ انہوں نے پاکستان کے پہلے 300میگا واٹ نیوکلیر پاور پلانٹ کو داخلی اور خارجی مخالفت کے باوجود منطقی انجام تک پہنچایا،امریکہ کے دبائو پر جنرل (ر) پرویز مشرف نے فخر پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خان ریسرچ لیبارٹریز کی سربراہی سے سبکدوش کیا تو اسی دوران ڈاکٹر اشفاق احمد بھی اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے۔ ڈاکٹر اشفاق احمدقیام پاکستان سے قبل3نومبر1930کو گورداسپور کے ارائیں خاندان میںپیدا ہوئے ابتدائی تعلیم (لائل پور)فیصل آبادسے حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور،پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی فزکس پھر1951میں ایم ایس سی گولڈ میڈل کے ساتھ مکمل کی،1954میں کولمبو ایجوکیشن پلان کے تحت اسکالر شپ حاصل کرتے ہوئے کیوبا اور کینیڈا سے ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کی،واپس آکر گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر رہے پھر یونیورسٹی آف مانٹر یال چلے گئے اس مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے ان کے تھیسز انگلش اور فرنچ زبان میں لکھے ہوتے تھے،واپس پاکستان آکر پاکستان جوہری توانائی کمیشن میں شمولیت اختیار کی، نیشنل مگر اس عظیم سائنسدان کیابھی علمی و تحقیقی تشفی نہیں ہوئی تھی ،وہ1960سے1970تک سرن(CERN)میں بطور سینئیر سائنسدان کام کیا جس سے ان میں مزید نکھار آگیا،CERN جوہری تحقیق کے لئے یورپی تنظیم کے زیر اہتمام یورپین آگنائزیشن فور نیو کلیر ریسرچ ادارہ ہے دنیا کی سب سے بڑی ذراتی طبیعات کی یہ تجربہ گاہ1954 جینیوا کے شمال مغربی مضافاتی علاقے میں فرانس سوئس سرحد پر قائم کی گئی اس کے 21رکن ممالک میں اسرائیل پہلا اور اب تک کا واحد غیر یورپی ملک ہے جسے مکمل رکنیت دی گئی ہے جبکہ اسلامی دنیا کے دو ممالک پاکستان اور ترکی چند سال قبل سے معاون رکن ہیں،1960میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو جوائن کیااسی ادارے کے ڈائریکٹر رہے،1971سے1976تک ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نیلور اسلام آباد رہے، 1971کی پاک بھارت جنگ اور پاکستان کے دو لخت ہو جانے کے بعد پاکستان میں سست رفتار جوہری پروگرام میں تیزی لائی گئی تب ڈاکٹر محمد اشفاق کو پاکستان میں موجود ایک اعلیٰ ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا جہاں انہوں نے پہلے نہ صرف جوہری ہتھیار کا نمونہ بنایا بلکہ ہتھیاروں کی فاضل کمیت کی طبیعات اور ریاضی کے حساب کتاب اور ان میں دھماکہ خیز مواد کے طریقہ کار پر بنیادی کردار ادا کیا،سائنس میں نئی جدت کے پیش نظر دو نئے مراکز گلوبل چینج ایمپیکٹ سٹڈی سنٹر(GCISC)،سنٹر آف ارتھ کوئیک (CES) قائم کئے جو نیشنل سنٹر فارفزکس اسلام آباد سے منسلک ہیں،بطور ایڈ منسٹریشن اور سائنسدان ان کی صلاحیتوں کی بدولت اپنی مثال آپ تھے ،وزیر مملکت و وزیر اعظم کے بطور سائنسی مشیر برائے حکمت علی و کردار رہنے والے ڈاکٹر اشفاق جو جوہری ٹیکنالوجی کے پر امن استعمال کے زبردست حامی تھے اس وقت شہرت کی بلندیوں پر پہنچے جب بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد 28 مئی1998کو پاکستان کے جوہری تجربات کئے گئے جن کی نگرانی و ذمہ داری ڈاکٹر اشفاق احمد اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے ذمہ تھی ،اس وقت میاں نواز شریف نے انہیں ہی کہا تھا کہ دھماکہ کر دیں،پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے منتخب شدہ صدر اور لائف ٹائم چیرمین بورڈ آف گورنر دی نیشنل سنٹر آف فزکس(NCP) ،بورڈ آف ڈائریکٹر عبدالسلام سنٹر،بورڈ آف گورنر غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ برائے انجینرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ،فیلو اسلامک ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز،فیلو جوہری سوسائٹی پاکستان،اعزازی فیلو بین الاقوامی جوہری توانائی اکادمی اور رکن انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فور اپلائیڈ سسٹم انالسیس کو نشان امتیاز ،ہلال امتیاز،نشان امتیاز کے علاوہ گولڈ میڈلز آف اکیڈمی آف سائنسز،انسٹیٹیوٹ لیڈر شپ آف مینجمنٹ،جیوجیکل سوسائٹی،سوسائٹی آف انجینرنگ آف کراچی اور یونیورسٹی آج انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے انہیں نوازا گیا، بلاشبہ پاکستان ایسے ہی سپوتوں کی قابلیت ،صلاحیت اور محبت کے باعث پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پاکستان کی حفاظت کی ضامن بن گئی پوری قوم ایسی ہستیوں کی مقروض رہے گی،

صابر مغل۔۔ اسلام آباد 0300 6969277 …0344 6748477

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.