2017کے دوران اشیائے خوردونوش میں مہنگائی کی شرح بڑھی

99

کراچی(نیوزنامہ)سال2017کے دوران بھی اشیائے خورونوش میں بھی مہنگائی کا سلسلہ جاری رہا تاہم گزشتہ سالوں کی نسبت مہنگائی کی شرح سست رہی جس میں سب سے زیادہ اضافہ ٹماٹر ،پیاز،گوشت ،چاول اور خشک دودھ کی قیمتوں میں ریکارڈ کیا گیا۔مارکیٹ زرائع سے حاصل معلومات کے مطابق سال2017کے دوران دالوں میں ماش ،مونگ ،مسور کی قیمتوں میں کمی ہوئی جب کہ چنے کی دال اور سفید چنے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس میں ماش کی دال جو جنوری میں 135روپے فی کلو گرام میں دستیاب تھی دسمبر میں 93روپے اور مونگ کی دال اس عرصے میں 95روپے سے کم ہوکر85روپے فی کلو کی سطح پر آگئی اسی طرح مسور کی دال بھی 86روپے سے کم ہوکر77روپے فی کلو ہوگئی جب کہ چنے کی دال 75روپے فی کلو کرام سے بڑھ کر100روپے اور سفید چنا 116روپے سے بڑھ کر 140روپے ہوگئی۔چاول میں کرنل باسمتی 123روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 158روپے ،باسمتی386چال 56روپے سے بڑھ کر78روپے اری 9چاول 48روپے سے بڑھ کر61روپے اوراری9چاول 39روپے سے بڑھ کر45روپے ہوگئی ،گھی 146روپے فی کلو گرام سے بڑھ کر148روپے اور خوردنی تیل 148روپے سے بڑھ کر151روپے جب کہ کھلا گھی 131روپے سے بڑھ کر147روپے اور کھلا تیل 112سے بڑھ کر132روپے ہوگیا ۔گوشت میں بیف 440روپے فی کلو سے بڑھ کر480روپے فی کلو ،مٹن 750روپے سے بڑھ کر900روپے اور چکن 280روپے سے بڑھ کر 330روپے ہوگیا ۔اسی طرح سال کے آغاز پر پیاز کی قیمت 28روپے فی کلوگرام تھی جو سال کے اختتام پر 56روپے ،آلو 31روپے سے بڑھ کر36روپے اور ٹماٹر 25روپے سے بڑھ کر70روپے کی سطح پر پہنچ گیا ۔سال 2017میںتازہ دودھ کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اور ٹیٹرا ملک میں 10روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ آٹے کی قیمت میں استحکام رہا جب کہ مصالحہ جات اور خشک میوہ جات میں معمولی اضافہ ہوا۔تاجروں کا کہنا ہے کہ شہریوں کی قوت خرید میں کمی کے باعث مہنگائی کی شرح سال2017میں سست رہی تاہم روپے کی قدر میں کمی اورتیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر 2018میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.