خودکشی کا رجحان

تحریر:اسما حسن۔۔
آج کل خودکشی کا رجحان بہت دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی بہت ساری وجوہات ہیں- معاشی حالات ہیں’ ذہنی ٹینشن ہیں- سکون کی کمی ہے اور سب سے بڑھ کر دین سے دوری ہے- پچھلے دنوں کچھ واقعات ہوئے جس نے مجھے لکھنے پر مجبور کیا-

کیونکہ آج کل کے بچوں خاص طور پر نوجوان نسل میں خودکشی کا رجحان بہت زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے-
جس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ نمبر نہ آنے پر دلبرداشتہ ہو کر بچے اپنی جان دے دیتے ہیں-
یا کسی سے محبت میں انتہا تک پہنچ جاتے ہیں اور محبت نہ ملنے پر خودکشی کرلیتے ہیں
یا کوشش کرتے ہیں کچھ کامیاب ہو جاتے ہیں اور کچھ کی زندگی لکھی ھوتی ہے تو بچ جاتے ہیں-

میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا ان کو حق حاصل ہے کہ وہ اس طرح اپنی جان قربان کریں یا ضائع کریں؟
آپ کی جان پر سب سے زیادہ ان ماں باپ کا حق ہے جو آپ کو اس دنیا میں لے کر آئے-
جنہوں نے دعائیں مانگی سجدوں میں گڑگڑا کر رب سے آپ کو مانگا-
ساری ساری رات جاگ کر آپ کو پالا-

وہ وقت بھول گئے جب آپ بستر گیلا کرتے تھے
تو ماں خود گیلی جگہ پر لیٹ جاتی اور آپ کو خشک جگہ پر سلا دیتی تھی-
کیا آپ ماں کی ایک رات کا حساب دے سکتے ہیں ؟

نہیں! تو آپ کون ہوتے ہیں اپنی جان دینے کا فیصلہ کرنے والے-
آپ کے والد نے نہ جانے کس طرح دن رات محنت و مزدوری کر کے
اپنا پیٹ کاٹ کر آپ کی ضروریات کو پورا کیا اور آپ کو اس مقام تک پہنچایا-
کیا ایک دن اور ایک رات کا حساب دے سکتے ہیں؟

سب سے بڑھ کر ہماری جان اللہ کی امانت ہے-

جب اللہ تعالی نے فرما دیا کہ خودکشی حرام ہے تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ
ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایسا سوچ سکیں- تو پھر مسلمان ہونے پر بھی خودکشی کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟
آپ کون ہوتے ہیں اپنی جان کو ختم کرنے والے؟ اگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے فیل ہو گئے ہیں یا نمبر کم آئے ہیں
تو اس میں کونسا بڑا مسلئہ ہے’ آگے محنت کر لیں-

اگر ڈاکٹر یا انجینئیر نہیں بن سکے تو کیا ہوا اب تو اور بہت سارے شعبے ہیں
جو آپ اپنی مرضی اور اپنی دلچسپی کے مطابق رکھ سکتے ہیں
اور محنت کر کے اس فیلڈ میں اپنا نام بنا سکتے ہیں-
ضروری نہیں جیسا ہم سوچتے ہیں یا چاہتے ہیں ویسا ہی ہو-
اللہ نے ہمارے لیے بہتر فیصلہ کیا ہوتا ہے-

ہم گناہ گار لوگ ہیں ہمیں نہیں پتہ کہ کیا ہمارے لیے بہتر ہے اور کیا نہیں-
بس اپنی طرف سے پوری محنت کریں اور نتائیج اللہ پر چھوڑ دیں-
اگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو خندہ پیشانی سے سامنا کریں
اور دلبرداشتہ ہونے کی بجائے متبادل تلاش کریں-
اور سوچیں کہ اب کیا کرنا ہے-

آرام سے ٹھنڈے دماغ سے سوچیں گے تو بہت سی گرہیں کھلتی جائیں گی-
اور راہیں صاف ہوتی جائیں گی- دھندلاہٹ ہٹتی جائے گی-
جب دھند ہٹے گی تو صاف نظر آنا شروع ہو جائے گا-

اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں جس کی وجہ سے ناکامی ملی اور مستقبل میں اس غلطی کو نہ دہرایئں-

بہتر حکمتِ عملی سے کام لیں خودکشی مسلے کا حل نہیں ہے-
پریشانیاں’ دکھ’ تکلیف مسلئے مسائل ناکامیاں اور کامیابیاں سب زندگی کا حصہ ہیں-
اور انھی سے خوبصورتی بھی ہے-
اگر ناکامیاں نہیں ہونگی تو ہمیں خود کو جانچنے کا موقع کیسےملے گا-
خود کو سنوارنے کا موقع کیسے ملے گا-

ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ سب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے-
ہمارا ایمان اتنا کمزور کیوں ہوتا جا رہا ہے-
جب سب اللہ کی طرف سے ہے تو ہم کیوں نہیں سوچتے کہ اللہ نے ہمارے لیے بہتر سوچا ہو گا-
ہر کام میں اس ذات کی بہتری ہوتی ہے-

اگر ڈپریشن کا شکار ہیں تو کسی کھلے مقام پر تنہا اپنے ساتھ وقت گزاریں-

اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیں-
اللہ کی عطاکردہ نعمتوں کا سوچیں اور ہر حال میں مثبت سوچیں-
کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے ماں’ باپ’ بہن بھائیوں
اور اپنے سے جڑے ہر رشتے کے بارے میں سوچیں
جو آپ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں- جن کے آپ عمر بھر کا سہارا ہیں-
ان کا سہارا چھیننے کی بجائے ان کا مضبوط سہارا بنیں-

یہ بھی پڑھیں: چھوٹی سی نیکی

کچھ واقعات صرف ہمیں سبق سکھانے کے لیے رونما ہوتے ہیں-
کیونکہ کچھ چیزیں ہم ٹھوکر کھانے کے بعد سیکھتے ہیں-
اس لیے ٹھوکر کھانے کے بعد کپڑے جھاڑیں سیدھے کھڑے ہوں
اور شکر ادا کریں کہ اللہ نے آپ کو اس قابل سمجھا اور بڑی مشکل سے بچا لیا-
اور اس سوچ کے ساتھ آگے کی حکمت عملی تیار کریں-

یہ بھی پڑھیں: لازوال محبت

اللہ تعالی نے ایک ناکامی کے بعد ہزار کامیابیاں آپ کے نصیب میں لکھی ہوں گی-
وہ اپنے بندے کا کبھی غلط نہیں سوچتا-
یہ ہم انسان ہی ہیں جو اپنے رب سے دور ہوتے جا رہے ہیں-
اور گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں-
بات صرف غور کرنے اور سوچنے کی ہے-
جتنی مثبت سوچ ہوگی ہماری زندگی اتنی ہی آسان اور خوشگوار ہو گی- انشااللہ

 

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ 2020:گیند بلا امن کا ہلا!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.