اے ٹی آئی کی ’’آل پارٹیز کانفرنس‘‘ ،طلبہ یونینز کی بحالی کیلئے ملک گیر احتجاجی تحریک کااعلان

لاہور(نیوزنامہ) انجمن طلبہ اسلام کے زیر اہتمام ملک بھر کی نمائندہ طلباء تنظیموں کی آل پارٹیز کا نفرنس مقامی ہوٹل میں ہوئی ۔اے پی سی کی صدارت انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر معظم شہزاد ساہی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مرکزی سیکریڑی اطلاعات عامر اسماعیل نے ادا کیے ۔آل پارٹیز کانفرنس سے اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی سیکریڑی جنرل عبدالرحمن چوہدری۔ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے مرکزی سیکریڑی جنرل چوہدری عبدالرحمن ضلج انقلابی ۔جعفریہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی نائب صدر وجاہت حسین ۔المحمدیہ سٹوڈنٹس کے مسئول وقار احمد ۔مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی سیکریڑی جنرل یاسر عباسی ۔انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی رہنمامحسن خالد چوہدری ۔مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ناظم عمومی سردار مظہر ۔پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب کے نائب صدر حافط عامر شہزاد ۔اہل حدیث سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی سیکریڑی جنرل ملک اویس اکبر اور دیگرنے خطاب کیا ۔

آل پارٹیز کانفرنس کے مہمان خصوصی سابق ممتاز طالب علم لیڈر محمد نواز کھرل تھے ۔اے پی سی میں کیے گئے اہم فیصلوں کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کیلئے ملک گیر احتجاجی تحریک کے اعلان کے ساتھ پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے حقوق طلبہ ریلی کا فیصلہ کیاگیا ۔ملک کے بڑی جامعات میں بحالی طلبہ یونین کنونشن کروائے جائیں ۔ 19فروری کو پنجاب یونیورسٹی لاہور اوریکم مارچ کو وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آبادسمیت کراچی ،پشاور ،ملتان ۔کشمیر اور دیگر بڑے شہروں کی جامعات میں کنونشنز کا انعقاد کیا جائے گا۔وزارت ہائیر ایجوکیشن پنجاب اوروائس چانسلر ز کانفرنس کی جانب سے یونینز پرپابندی کی حمایت اورسٹوڈنٹ سوسائٹی کی صورت میںمتبادل پلیٹ فارم کو یکسر مسترد کر دیاگیا ۔تعلیمی اداروں میںلسانی اور علاقائی بنیادوں پر قائم کونسلوں اور تنظیموں پرفوری پابندی عائد کی جائے ۔ نصاب میں تبدیلی اور تعلیمی بورڈ آغا خان گروپ کی سربراہی سے واپس لیا جائے ۔طلبہ یونینزکی بحالی کیلئے تمام طلبہ تنظیموں کے قائدین کا دستخط شدہ خط اعلی شخصیات کو ارسال کیا جائے گااور طلبہ وفد تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز سے ملاقاتیں کرے گا۔طلباء یونین کی بحالی کیلئے ورکنگ گروپ بھی قائم کر دیا گیا جس میں تمام طلبہ تنظیموں کے اہم نمائندے شامل ہوں گے ۔

طلبہ تنظیموں کا متبادل سٹوڈنٹس سوسائٹی نہیں ہوسکتی ہے ۔سینڈیکٹ کی خالی سیٹ آج بھی طلبہ نمائندے کی منتظر ہے ۔۔ اے پی سی میںمطالبہ کیا گیا کہ حکومت فلفور طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان کرکے انتخابات کا ٹائم فریم دے۔طلباء یونینز کی بحالی کیلئے اقدام کواب منطقی انجام تک پہنچائیںگے۔موجودہ حکمران طلبہ تنظیموں پر انتخابات کے بجائے صرف بیانات تک محدود ہیں ۔ حکومت طلباء برادری کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طلبہ یونین بحالی کے موقف کی حمایت خوش آئند ہے ۔ ملک بھر کے وائس چانسلرز اور طلباء تنظیموں کے قائدین کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے جس میں طلبا یونینز کا ضابطہ اخلاق طے کیا جائے۔تعلیمی بجٹ میں اضافہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔فیسوں میں اضافہ تعلیم دشمنی ہے۔ غریب اور امیر طلباء کو یکساں تعلیمی سہولتوں کے ساتھ ایک ہی نصاب ملک بھر میں پڑھانا ہو گا۔ ایچی سن کالج اور ٹاٹ سکول کا فرق ختم کیا جائے۔ طلباء کی نظریاتی و سیاسی تربیت کے لئے طلباء یونینز کی بحالی ضروری ہے۔حکومت طلباء کے جمہوری حقوق کا احترام کرتے ہوئے طلباء یونینز کے انتخابات کا اعلان کرے۔ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کو نظریاتی اور اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذکیا جائے ۔2020بحالی طلباء یونینز کا سال ہے، طبقاتی نظام تعلیم نے غریب طالبعلم سے تعلیم کا حق چھین لیا ہے۔ ملک میں طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرکے غریب اور امیر طلباء کیلئے یکساں تعلیمی سہولتوں کے ساتھ پورے پاکستان میں لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ اے پی سی کے اہم شرکاء میںانجمن طلبہ اسلام کے مرکزی سیکریڑی جنرل محمد اکرم رضوی ۔ رانا محمد عثمان۔مظہر اقبال ۔بلال ربانی ۔عمیر احمد مکی ۔آفتاب عالم آفتاب ۔سہیل بٹر ۔ناصر علی بھٹی ۔حافظ محمد عبدالحمید ۔محمد زید۔لقمان میئو ۔محمدنعمان ملک اور دیگر شامل تھے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.