بھارت مسئلہ کشمیر کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا:ناصرڈار

18

لاہور(نیوزنامہ)کشمیر دوایٹمی ممالک کے درمیان سرحدی تنازع ہی نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ عوام کے حق خودارادیت کامسئلہ ہے۔ بھارت کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر کو ختم کرنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ کشمیر ی پاکستان کو سیاسی و معاشی طور پر مضبوط و مستحکم دیکھنا چاہتے تھے ۔ مستحکم وترقی یافتہ پاکستان ہی بھارت کو گھٹنے ٹیکنے اور کشمیر کو آزاد کروانے میںکامیاب ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر ٹرانسپورٹ وائلڈ لائف و فشرز آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نا صر حسین ڈار نے جموں و کشمیر لبریشن سیل ریسرچ ونگ اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے منعقدہ خصوصی کشمیر سیمینار’’کشمیر بزنس کمیونٹی کا کردار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے سنیئر نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری حسام علی ‘ سیکرٹری جموں و کشمیر لبریشن سیل منصور قادرڈار، نائب صدر لاہورچیمبرمیاں زاہد جاوید، چیئرمین کشمیرکمیٹی لاہور چیمبر یوسف شاہ،فائونڈرممبر لاہور چیمبر رحمت اللہ جاوید، انچارج کشمیرلبریشن سیل ریسرچ ونگ سردار ساجد محمود ، وقار کرمانی اور میاںمحمد نواز نے بھی خطاب کیا۔ناصرحسین ڈار نے کہا کہ قانون تقسیم ہند کی رو سے بھارت نے مسلم ریاستوں حیدرآباد اور چونا گڑھ پر ہندو اکثریتی آبادی ہونے کی بنیاد پر قبضہ کر لیا۔اس قانون کے تحت کشمیر کو مسلم اکثریت آبادی ہونے کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونا چاہئے تھا لیکن بھارت نے اس پر بھی قبضہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کو مکمل طور پر ناکام بنانے کیلئے کشمیریوں کو معاشی و اقتصادی طور پر تباہ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ پانچ اگست کو بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے مسئلہ کشمیر ختم نہیں ہوا۔ حکومت آزاد کشمیر کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر ایک نئی حیثیت سے اجاگر ہوا ہے۔ بھارت کو خطرہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈائون ختم کرنے سے کشمیری احتجاج اور مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع کر دیں گے جس پر قابو پانا ناممکن ہو گا۔ انہوں نے کہ کہا کہ بھارت کی پوری کوشش ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ایجنڈا سے مسئلہ کشمیر کو نکلوا دے۔ انہوںنے کہا کہ حق خود ارادیت کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے جسے اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کر رکھا ہے۔ لیکن بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کے باوجود کشمیریوں کو یہ حق دینے پر تیار نہیں۔ناصر حسین ڈار نے مزید کہا کہ میرے دادا اور میرے قریبی عزیزوں سمیت خاندان کے کئی افرادنے کشمیرکی آزادی کیلئے قربانیاں دیں۔ کشمیریوں کی یہ قربانیاں صرف اپنی آزادی کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کی تکمیل کیلئے ہیں۔ انہوں نے کہ پاکستان کی تاجر برادری کو چاہئیے کہ وہ پاکستان کے معاشی و اقتصادی استحکام کیلئے دن رات کام کریں ۔ لاہور چیمبر میں کشمیر کمیٹی کا قیام نہایت احسن اقدام ہے۔ ملک کے دیگر چیمبر آف کامرس ‘ٹریڈ آرگنائزیشز اورایسوسی ایشنز کو چاہئیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں اپنے ہاں بھی کشمیر کمیٹیوں کا قیام عمل میں لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کے بیرون ملک جانے والے وفود بیرونی دنیا کو کشمیر کے اندر بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی زبردست خلاف ورزیوں سے روشناس کروانے میں کلیدی کرداراداکیاہے۔منصور قادر ڈار نے مسئلہ کشمیر ، تحریک آزادی، کشمیر کی تازہ ترین صورتحال ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں اور لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ و گولہ باری کے سلسلے میں تفصیلی بریفنگ دی ۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت ایک جانب مقبوضہ کشمیر میں کرفیو و لاک ڈائون جاری رکھے ہوئے اپنے قبضے کو مستحکم بنا رہا ہے اور دوسری جانب کنٹرول لائن پر آزاد کشمیر کے علاقے میں فائرنگ کر کے معصوم شہریوں کو زبر دست جانی و مالی نقصان پہنچا رہا ہے ۔ پچھلے ایک سال کے دوران اس بلا اشتعال گولہ باری سے 60سے زائد معصوم شہری شہید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو و لاک ڈائون کے باعث صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے ۔ پانچ اگست کے اقدام کے بعد بھارت نے 9 سے 12 سال تک کی عمر کے 7 ہزار سے زائد بچوں کو گرفتار کر رکھا ہے ۔حسام علی اصغر نے کہا کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کشمیریوں کی تحریک آزادی کی بھرپور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ لاہور چیمبر میں آنے والے غیر ملکی مندوبین کو کشمیر میں بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیرکی بھارت سے مکمل آزادی سمیت آزادکشمیر کے خطے کو خوشحال و ترقی یافتہ دیکھنا چاہتا ہے۔ آزاد کشمیر میںسیاحتی و صنعتی پو ٹینشل موجود ہے۔ اس سے استفادے اور اس کے فروغ کیلئے پاکستان کی بزنس کمیونٹی کی خدمات حاضر ہیں۔اس موقع پر شرکائے سیمینار کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی ڈاکیومنٹری بھی دکھائی گئی نیز9نکاتی متفقہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

اسے بھی پڑھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.