وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی

12

دنیا کے نامور دانشوروں نے کہا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست Failed State ہے مگر ریاست اس موقف پہ ڈٹی رہی کہ یہ متعصبانہ رائے ہے اور میں آپ ہاں میں ہاں ملاتے رہے، دنیا کے بڑے بڑے اخبارات میں آرٹیکلز شایع ہوے کہ ریاست پاکستان ایک ناکام ریاست ہے لیکن جواباً کہا گیا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں، الطاف حسین سے BLA اور منظور پشتین گروہ نے بیانیہ چلایا کہ پاکستان اب ناکام ملک بن کر رہ گیا ہے تو جذبہ حب الوطنی سے سرشار عوام نے انہیں غدار گردانا، لیکن آج لاہور کی صورتحال پر ریاست و ریاست چلانے والوں کے کردار، قانون و قانون نافذ کرنے والوں کے کردار سے یہ بات کھٹک نہیں رہی بلکہ ثابت ہورہی ہے کہ واقعی پاکستان ایک ناکام ریاست ہے، آج لاہور میں نام نہاد وکلاء نے دہشتگردی و غنڈہ گردی کی ساری حدیں پار کرلیں، دنیا کی تاریخ میں کبھی جنگوں کے ماحول میں بھی اسپتالوں پر یلغار نہیں کی، شام سے لیبیا اور یمن سے عراق و افغانستان تک خواہ کتنی ہی خانہ جنگی رہی مگر کسی جنگجو گروپ نے کبھی ہسپتال پہ چڑھائی نہ کی لیکن LLB کی ڈگری لے کر وکیل بن جانے والوں نے آج دنیا کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کردیا اور یہ باب بھی پاکستان ہی کے کھاتے میں آیا کہ پہلی بار ہسپتال پر اتنی شدید قسم کا بیرونی حملہ ہوا جوکہ وکلاء کی جانب سے کیا گیا، توڑ پھوڑ اور عملے و مریضوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا جس کے نتیجے میں متعدد مریض جاں بحق ہوگئے، وکلاء دہشتگردوں نے حساس وارڈوں کو بھی نہ بخشا، جسکے نتیجے میں درجن سے زائد مریض موقع پر جاں بحق ہوگئے مصدقہ اطلاعات کے مطابق آئی سی یو وارڈ میں موجود تمام مریض جاں بحق ہوگئے اس کے علاوہ آپریشن تھیٹر میں موجود مریض و دیگر بہت سے اللہ کو پیارے ہوے لیکن وکلاء دہشتگردوں کی صحت و سوچ پہ کوئی فرق نہ پڑا، وکلاء گردی کی ہی نہیں بلکہ دہشتگردی کی یہ دنیائے تاریخ کی سب سے بڑی دہشتگردی ہے لیکن نااہلیت، نااہلیت، نااہلیت کا بھی یہ دنیا کا سب سے بڑا واقعہ ہے تاریخ عالم میں اس سے پہلے نااہلیت کی اس سے بڑی مثال نہیں ملتی کہ پوری قوم وکلاء گردی پر غم و غصے کے عالم میں تھی، وکلا دہشتگردی کرتے رہے لیکن حکومت اپنی نااہلی کی روایت پہ قائم رہی، یقین جانئے جب یہ سب ہورہا تھا تو میرے زہن میں صرف ایک ہی بات آرہی تھی کہ بہت سے لوگ بیموت مارے گئے ہونگے، سینکڑوں بیقصور زخمی ہوے ہونگے، بہت سارے لوگوں کا نقصان بھی ہوگا، لاکھوں لوگ تکلیف کا سامنا کرینگے، میڈیا پر یہ سب دیکھ کر کروڑوں افراد ذہنی اذیت و مایوسی کا شکار بھی ہونگے، اس پر میرے زہن میں جو تھا بالکل وہی ہوا کہ اتنا سب کچھ ہوگا مگر وہی روایتی طور پر بیان آئیگا کہ وزیراعظم نے نوٹس لے لیا، وزیراعلیٰ کے حکم پر فلاں فلاں پہ مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی، وزیراعظم و وزیراعلیٰ نے رپورٹ طلب کرلی، بہت سے لوگ مذمت کرینگے، مختلف قسم کے القابات سے نوازا جائیگا، بیانات آئینگے کہ سخت ایکشن لیا جائیگا وغیرہ وغیرہ، بالکل ایسا ہی ہوا وزیراعظم نے نوٹس لیکر رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلیٰ نے کمیٹی بنادی، بہت سے مذمتی و ایکشن لینے کے بیانات بھی آتے رہے لیکن ایکشن نظر نہ آیا لاقانونیت، نااہلی، غنڈہ گردی اپنی جگہ قائم رہی، وکلا دہشتگرد وہاں سے منتشر ہوے تو سول سیکریٹریٹ کے سامنے جاکر سڑک بلاک کردی اور یوں پورا شہر جام ہوگیا، پولیس افسران نے اجلاس بلالیا اور معاملے کے حل کے لیے غور ہونے لگا، ڈھٹائی اور بیغیرتی خود حیران ہوکر رہ گء جب دوسرے شہروں میں وکلاء سڑکوں پہ آکر دہشتگردی کی حمایت میں احتجاج کرنے لگے، حکومتی افراد روایت کے مطابق رپورٹ کمیٹی اور بیانات و پریس کانفرنس کے دائرے تک محدود رہے اور نااہلی کی انتہا تو یہ ہے کہ وزیر قانون راجہ بشارت صاحب نے فرمایا کہ دونوں گروپوں میں صلح کروائی جائیگی جوکہ شرم کی بات ہے کہ یہ ریاست چلانے والوں کا حال ہے کہ داداگیری دندناتے پھر رہی ہے مگر حکومت چپ سادھے دیکھ رہی ہے، اگر پنجاب پولیس و حکومت سے وکلا کی غنڈہ گردی کنٹرول نہیں ہوتی تو میرا مشورہ ہے کہ سندھ رینجرز سے خدمات لے لیں اور قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ڈی جی رینجرز سندھ کو سونپ دیں تو گھنٹوں کے اندر اندر سب کچھ سامنے آجائیگا، وکلاء تو ایسے سیدھے ہونگے کہ رینجرز کو دیکھتے ہی مارے خوف کے اپنا کالا کوٹ اتار دیا کرینگے اور اگر اسکے پیچھے کسی کا ہاتھ یا سازش ہوگی تو وہ بھی سامنے آجائیگی، بات درحقیقت نیتوں کی ہوتی ہے اگر حکومت رٹ قائم کرنا چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا، بائیس اگست 2016 کا دن سب کے سامنے ہے MQM کے ورکرز نے مشتعل ہوکر ایک نجی چینل کی بلڈنگ میں توڑ پھوڑ کی تو ریاست حرکت میں آگئی کہ ایک ہی دن میں کئی سو چھاپے مارے گئے کئی سو متحدہ کارکنان گرفتار کرلیے گئے خواتین تک کو نہ بخشا گیا پھر کیا تھا کہ خوف کی فضا قائم ہوگئی وہی کراچی جو بدامنی و غنڈہ گردی کے طور پر صرف قومی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی شہرت رکھتا تھا دیکھتے ہی دیکھتے سارا شہر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کنٹرول میں آگیا، بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ریاست کے لیے MQM کو گھنٹوں میں زیر کرلینا کوئی بڑی بات ثابت نہیں ہوا جس کے پاس ہزاروں نہیں لاکھوں کارکنان بھی تھے لیکن یہ جو چند وکلا دہشتگرد ہیں کنٹرول نہیں ہوسکتے، بات وہی ہے کہ جب نیت کرنے کی نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا، آج وکلاء نے قانون کو ہاتھ میں لیا دہشتگردی کی وہ دراصل اس ملک میں رائج نظام کا حصہ بن چکا ہے معاشرتی جُز ہے کہ طاقتور کمزور کے لیے فرعون بنا ہوا ہے جس کے ہاتھ میں طاقت ہو وہ طاقت کے نشے میں غرق ہوکر کچھ بھی کرڈالتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہونا تو کچھ ہے ہی نہیں کیونکہ قانون یہاں مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے اور قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے ہی سارے مسائل پاکستان میں موجود ہیں، کسی بھی ریاست کی ناکامی صرف قانون کی کمزوری سے ہی مراد لی جاتی ہے، ریاست چلانے والے اگر چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی و خوشحالی کے ٹریک پہ رہے تو قانون کی بلاتفریق عملداری یقینی بنانا ہوگی، حکومت و اس کے ہمدرد اگر چاہتے ہیں کہ لوگ ان پہ نااہلی کا ٹھپہ نہ لگائیں تو یہ ایک سنہرا موقع ہے دہشتگرد وکلا کے خلاف صرف ایکشن نہ لیا جائے بلکہ فوری ایکشن لیکر اس معاملے کو دو چار دن میں ہی منطقی انجام تک پہچائے دہشتگرد وکلا کو ایسی سزا دی جائے کہ وہ عبرت بن جائے تب ہی قانون کی بحالی بھی ممکن ہے اور حکومت سے نااہلی کا ٹھپہ بھی ہٹ جائیگا ورنہ ابتک کی صورتحال سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی تو نہیں آئی کپتان صاحب خود تبدیل ہوکر روایت میں ضم ہوگئے ہیں۔
تحریر: انشال راؤ۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.