انٹرنیشنل کشمیرسیمیناراورکشمیر کا لہو

9

تحریر:انعام الحسن کاشمیری ۔۔۔۔5اگست 2019کا دن نہ صرف جموں و کشمیر اور پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین دن کے طور پر ہمیشہ کے لیے یاد رکھا جائے گا ۔ اس دن بھارت نے اپنے دیرینہ منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی ایک صدی کے لگ بھگ پرانی حیثیت کو منسوخ کردیا۔ چنانچہ بھارتی آئین کی دفعات 370اور 35اے کے خاتمے سے جموں و کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے اور اس تنازع کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا۔بھارت کے اس اقدام کے خلاف نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ آزادکشمیر پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں نے سخت احتجاج کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں 5اگست سے تاحال جاری سخت ترین کرفیو اور لاک ڈائون کے باوجود غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر جناب راجہ فاروق حیدر اور صدر ریاست جموں و کشمیر سردارمسعود خان نے بھارت کے حالیہ اقدام کے خلاف نہ صرف ریاست بھر کی عوام کو زبردست طریقے سے متحرک کیا بلکہ بیرون دنیا خاص طور پر یورپ وغیرہ میں جا کر وہاں کی سیاسی اشرافیہ، مقتدرشخصیات اورعالمی سطح پر اہم کردار کی حامل شخصیات کو بھارت کے حالیہ اقدامات سے بخوبی آگاہ کرنے اور انہیں اس سلسلے میں خصوصی کردار اداکرنے کے ضمن میں متحرک کرنے کی کاوشوں بلند سطح پر کیں نیز یورپ کے اہم ترین بڑے شہروں میں بھارت مخالف اجتماعات منعقداور ریلیاں نکالتے ہوئے وہاں کی عوام کوبھی بھارت کے انسان دشمن اقدامات سے بخوبی آگاہی فراہم کی۔ علاوہ ازیں آزادکشمیر اور پاکستان میں بھی ریاستی حکومت کی جانب سے پانچ اگست کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں متعدد پروگرام، سیمینار، احتجاجی مظاہرے وغیرہ منعقد کیے گئے۔ یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ حال ہی مظفرآباد میں جموں وکشمیرلبریشن سیل پالیسی ریسرچ فورم اورانسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے اشتراک سے انٹرنیشنل کشمیر سیمینار منعقد کیا گیا جس میں اندرون و بیرون ملک سے نامور شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس کے مختلف سیشنز سے وزیراعظم جناب راجہ فاروق حیدرخان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل آزادکشمیر فرحت علی میر ، سیکرٹری کشمیر لبریشن سیل منصور قادر ڈار ،راجہ سجاد خان ،، خالد رحمان سمیت پاکستان اور بیرون ملک سے تشریف لائی ہوئی شخصیات نے خطاب کیا جن میں بھارت سے آئے ہوئے نامور صحافی اور کالم نگار افتخار گیلانی بھی شامل تھے نیزپروفیسر ڈاکٹر روگروان زوان برگ ، راگنر وین زوانے، ڈاکٹر عاصمہ خواجہ، پروفیسر یشپال ٹنڈن، ڈاکٹر اکس کلاٹزڈز، ڈاکٹر حالل ٹوکر، فرزانہ یعقوب، سید محمد علی، ڈاکٹر فضل ہادی وظیم، ڈاکٹر سید محمد انورنے اپنے اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارت کے ظلم وجبر، حقوق بشرپرسخت پابندیوں ، پانچ اگست سے مسلسل لاک ڈائون اور اس کے مضمرات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ تاریخ اس نوعیت کے غیرانسانی و غیراخلاقی اقدامات کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس پر جناب وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدرخان کے علاوہ شرکاء سیمینار نے دستخط ثبت کئے۔ اس اعلامیہ کے ذریعے دنیا کو آگاہ کیا گیا کہ کشمیر کی آزادی کی جنگ خود کشمیری لڑرہے ہیں اور یہ کہ حق خودارادیت کایہ معاملہ انسانی حقوق کے معاملے سے کہیں زیادہ اہم ہے گویا کشمیری ظلم وجبر، قتل وغارت سے نہیں گھبراتے انہیں بس آزادی چاہیے۔ اس کانفرنس کے ذریعے یہ سوچ بھی سامنے آئی کہ ہمیں صرف کشمیر میں کرفیو کے خاتمے اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے خلا ف ہی آواز بلند نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہمارا یہ مطالبہ سرفہرست ہونا چاہیے کہ کشمیریوں کو ان کا ازلی و ابدی حق، حق خودارادیت دیاجائے۔ قانون تقسیم ہند اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس حق کی مضبوط قانونی حیثیت ہے۔اعلامیہ کے مطابق بھارت کی ہندتوا پالیسی،بھارت حکمت عملی کے بارے میں ریسرچ اور مانیٹرنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ بھارتی پروپیگنڈے کا توڑ کیا جا سکے۔ مسئلہ کا حل جنوبی ایشیا کے امن کیلئے ناگزیر ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو اس خطہ کا امن کسی بھی وقت تباہ ہو سکتا ہے تاہم مقررین نے اس کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوںکو بہترین حل قرار دیا۔ کاش کے بھارت جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ دنیا کے امن کو تہہ وبالا کرنے کی پالیسیاں ترک کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کاحل اقوام متحدہ کے سپردکردے جو استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کے مستقبل کا تعین کرسکے۔ وزیراعظم جناب راجہ محمدفاروق حیدرخان ہمیشہ سے یہ موقف اختیارکیے ہوئے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے اور دنیا کو اس مسئلے کی جانب بہتر طریقے سے راغب کرنے کے لئے خود کشمیریوں کو کام کرنے کا موقع دینا چاہیے کیونکہ اس مسئلے کے سیاق وسباق اور اس کے مضمرات کے بارے میں ان سے بہتر کوئی مافی الضمیربیان نہیں کرسکتا چنانچہ اس کانفرنس کے اعلامیے میں بھی اس موقف کی تائید کی گئی ۔ اس طرح پاکستان کی ذمہ داری کافی ہلکی ہوجاتی ہے اور پھر بیرونی دنیا میں بھارت کا کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے حق میں دلائل ازخود کمزور او ربودے ہوجاتے ہیں۔ انٹرنیشنل کشمیر سیمینار کے شرکاء نے آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو مزید مضبوط کرنے ، اسے بھرپوراختیارات دینے کی کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا بخوبی کہنا تھا کہ آزادکشمیر اسمبلی میں اگر مقبوضہ کشمیر سے بھی اراکین شامل ہوجائیں تو پھر یہ پورے کشمیر کی نمائندہ اسمبلی بن کر عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا بہترین کردار اداکرسکتی ہے کیونکہ کشمیر کی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے دنیا اس کی بات سننے اور اس طرف توجہ دینے پر بھی مجبور ہوگی۔ انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کو قومی اور عالمی ذرائع ابلاغ نے بھرپورکوریج دی۔ اس کانفرنس نے حقیقی معنوں میں اہلیان کشمیر کی ترجمان ہونے کا حق ادا کیا ہے اور ان کی تمنائوں اور خواہشوں سے دنیا کو آگاہ کرنے میں کلیدی کرداراداکیاہے۔ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر کا قیام آزادیٔ کشمیر کے بیس کیمپ کی حکومت کے طور عمل میں لایا گیا تھا۔ آج جبکہ اس کی کارکردگی اور فعالیت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہورہی ہے تو جناب وزیراعظم ، جناب صدر ریاست اور دیگر ممتا ز شخصیات ایک دائرہ کار کے اندررہتے ہوئے اپنا اپنا کردار بخوبی اداکررہی ہیں۔آزادکشمیر کی عوام کے جذبات سخت برانگیختہ ہیں اور اسی طرح پاکستان کی عوام بھی مظلوم کشمیریوں کی کسک اور آہ کو براہ راست اپنے دلوں میں محسوس کرتی ہے۔ بھارت نے اگرچہ پانچ اگست کے اقدام سے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لئے سردخانے کی نذرکرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے لیکن اُسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مسئلہ ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی شدت اور تاب پہلے سے کہیں زیادہ دوچند ہوگئی ہے۔ حکومت پاکستان ، حکومت آزادکشمیر،اس ملک کے عوام اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تارکین وطن مظلوم کشمیریوں کی مدداور انہیں بھارت کے غاصبانہ قبضے سے آزادی دلانے کے سلسلے میں اپنے فرض اور اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔اب اگلی ذمہ داری عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو مجبور کرے تاکہ وہ اپنی منظورہ کردہ25 قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو استصواب رائے کاحق دینے کے اقدامات وانتظامات کرسکے۔٭٭

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.