ہسپتال پر حملہ،وکلاء کے خلاف مقدمات درج

10

لاہور(نیوز نامہ)پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے میں ملوث وکلاء کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔تفصیلات کے مطابق دل کے ہسپتال پر حملے کے بعد شادمان پولیس نے تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلا کے خلاف دو الگ الگ مقدمے درج کر لیے ہیں۔
پہلا مقدمہ ہسپتال کے عملے کے ایک رکن کی مدعیت میں 250 سے زائد وکلا کے خلاف قتلِ خطا، کارِ سرکار میں مداخلت، دہشت پھیلانے، ہوائی فائرنگ کرنے، زخمی اور بلوہ کرنے، لوٹ مار، عورتوں پر حملہ کرنے اور سرکاری مشینری اور نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہچانے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
مقدمے میں 21 وکلا، جن میں لاہور بار کے جنرل سیکرٹری اور نائب صدر بھی شامل ہیں، جبکہ باقی نامعلوم ہیں۔ دوسرا مقدمہ پولیس مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں پولیس وین کو جلانے، پولیس پر حملہ آور ہونے جیسے الزامات کے تحت دفعات لگائی گئی ہیں۔
گزشتہ روز پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ڈاکٹروں، انتظامیہ اور وکلا کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ہسپتال کی عمارت اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا تھا جبکہ پنجاب کی وزیر صحت نے ہنگامہ آرائی کے باعث تین مریضوں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی تھی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل چند وکلا نے ہسپتال میں علاج کے بعد ادویات کی مفت فراہمی کا مطالبہ کیا تھا وہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے وکلا اور ہسپتال انتظامیہ میں لڑائی ہوئی تھی۔ بدھ کو انتظامیہ اور وکلا کے درمیان مذاکرات ہونے تھے تاہم وکلا گروہ کی شکل میں ہسپتال آئے اور انھوں نے حملہ کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.