شہر اقتدار میں اساتذہ کے ساتھ شرمناک سلوک

117

چند روز پہلے کی بات ہے رات دو بجے کے قریب وفاقی پولیس نے پارلیمنٹ بلڈنگ سے کچھ فاصلے پر ڈی چوک میں کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے احتجاج کے لئے دور دراز سے آئے مردو خواتین ٹیچرز پر ہلہ بول دیا،یہ آپریشن ارد گرد کی لائٹس بند کر کے کیا گیا جس میں خواتین ٹیچرزاور بچے آہ و پکار کرتے رہے مگر کسی نے کچھ نہ سنا اس موقع پر اساتذہ پر تشددکے ذریعے ان کی وہ درگت بنائی گئی جو بیان سے باہر ہے، وہاں سے کئی ٹیچرز وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے یا ہوئیں جنہوں نے رات کے وقت ڈر اور خوف کے مارے کئی کلومیٹر پیدل سفر کر کے خود کو حکومت گردی کے قہر سے بچایا ،پولیس نے 12سو کے قریب اساتذہ کے گرفتار کرتے ہوئے خواتین کو وویمن پولیس اسٹیشن اور مرد اساتذہ کو تھانہ آبپارہ،سیکرٹریٹ اور کوہسار میں بند کر دیا گیا،گرفتار اساتذہ کے خلاف مختلف دفعات 149.147.186.1888.341.353 کے تحت مقدمات درج کرنے کے بعد انہیں اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کر دیا گیا پولیس نے پہلے روزصرف212اساتذہ کی گرفتاری ظاہر کی حالانکہ تعداد کہیں زیادہ تھی ،ان اساتذہ کا تعلق بیسک ایجوکیشن پروگرام سے تھا جو غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے 1996میں ابتدائی طور پر محکمہ سوشل ویلفیئرکے ذریعے شروع ہوا،اس پالیسی کے تحت ایسے سکول شرح خواندگی کو بہتر بنانے اور پسمانگی کو کم کرنے اس اس علاقہ میں قائم کئے گئے جہاں پہلے سے دو کلومیٹر فاصلے میں کسی سرکاری سکول کی سہولت میسر نہیں تھی ،یہ کام چلتا رہا سکولز اور اساتذہ کی تعداد بڑھتی رہی،اس وقت 13300سکولز میں ہزار افراد اس شعبہ سے منسلک جبکہ لاکھوں طلباء و طالبات ان میں جماعت پنجم تک زیر تعلیم ہیں ،بتایا جاتا ہے کہ لیہ کی ایک فی میل ٹیچر کی گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی اس کی والدہ دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملی اور جن اساتذہ کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں ان کے لواحقین اپنے اپنے علاقوں سے وکلاء کو ساتھ لائے اور ضمانت کرائی ایک تنخواہ نہ ملی،دوسرا اپنے حقوق کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہوئے خاندان سے دوراحتجاجی مہم پر لاکھوں خرچ کئے ،ڈنڈے کھائے ،گالیاںسنیں،دھکے کھائے جیل کی یاترا کی اور پھر وکلاء کو فیس دے کر اپنی اپنی ضمانتیں کرائیں ابھی تک کئی ٹیچرز جیل میں ہی ہیں، ان اساتذہ کا قصوریہ تھا کہ وہ گذشتہ دس ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سراپا احتجاج کیوں تھے ؟حکومت ہر سال بجٹ میں سرکاری و پرائیویٹ ملازمین کی کم از کم تنخواہ کا اعلان کرتی ہے جو اس وقت16ہزار ہے مگران ٹیچرز کی تنخواہ صرف 8 ہزار روپے فی ماہ ہے یوں دیکھا تو تو ان کی تنخواہ 10نہیں بلکہ20ماہ کی حکومت کی جانب واجب الادا ہے ،حقیقت کی نظر سے دیکھاجائے تو دونوں باتیں حکومت کے لئے شرمناک ہیں ،جمیعت علمائے اسلام (فٌ) کا لانگ مارچ31کو اسلام آباد پہنچ رہا ہے مگر اس سے نبٹنے کے لئے ان قوم کے معماروں پر ریہرسل کی گئی ، ٹیچرز کے اس احتجاج کا حکومت کو بخوبی علم تھا وفاقی وزیر شہر یار آفریدی نے انہیں صرف طفل تسلیاں دیتے رہے ،حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ ایک جانب تو ہم قوم کو ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کے دعوے کرتے ہیں دوسری جانب اس حوالے سے قائم اداروں کی تباہی و بربادی بھی کرتے جا رہے ہیں ،لوگوں کو ان کا اصل حق (معاوضہ ) نہ دے کر ان خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کرتے جا رہے ہیں ،عوام کی تقدیر بدلنے والے وزیر اعظم عمران خان کی ناک نیچے ان کے با اختیاران کیا کر رہے ہیں ؟انہیں تک ایسی باتیں پہنچنے ہی نہیں دی جاتیں یا وہ بھی ایسی بد تر صورتحال پر آنکھیں موند لیتے ہیں ،وہ کون سی پالیسی ہے وہ کون سا ایجنڈا ہے جو شعبہ تعلیم کا ہی بیڑہ غرق کرنے پرفوکس ہے، دس ماہ تک تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور وہ بھی ٹیچرز کی،جس کا حجم بھی ہر لحاظ سے نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی ہے،صرف8ہزار ماہانہ ،در حقیقت ہر دور میں ایسے عناصر کی بہتات ہے جو کسی مچھر کی طرح حکومتی ایوانوںیا با اختیار عہدوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں پھر ان کے مشن ۔عوام دشمن پالیسی کا آغاز ہو جاتا ہے ۔وہ حکومتی چہیتے بھی ہوتے ہیں اور حکومت دشمن بھی ہوتے ہیں،مگر ہوتے بہت پیارے ،راج دلارے ہیں ان کے بغیر کسی حکومتی اجلاس کی رونق ہی نہیں رہتی ،کسی بھی حکومت میں حقیقی تبدیلی کا اصل چہرہ ایسے ہی کردار ہوتے ہیں جو جب تک عوام دشمنی پالیسیوں کوبام عروج تک نہ لے جائیں تب تک انہیں نہ چین نصیب ہوتا ہے نہ سکون حاصل ہوتا ہے،وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وہ ساتھی جو واقعی عوام کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتے ہیں وہ فوری اور ہنگامی طور پر اس حوالے سے مثبت کردار ادا کریں ،ساتذہ کو لاٹھی پر رکھنے والی ،ان کی تضحیک کرنے والی ،ان کی توہین کرنے والی ،انہیں رلانے والی،ان کے گھروں میں فاقہ کشی کرانے والی ،انہیں حوالاتوں و جیلوں میں ڈالنے والی قومیں کبھی ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتیں،وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر اعجاز شاہ جنہیں الراقم ذاتی طور بھی بہتر طور پر جانتا ہے انہیں اس اساتذہ کے ساتھ اس انتظامی و پولیس غنڈہ گردی کا فوری نوٹس لینا چاہئے ،شرم ناک تو بات یہ بھی یہ کہ1996سے قائم شدہ ادارہ کے اساتذہ کی تنخواہیں 23سال بعد تک صرف آٹھ ہزار تک پہنچی ہیں پہلے ان کی تنخواہ کتنی ہو گئی مگر وہ اساتذہ کرتے بھی کیا اس ریاست اسلامی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ عام اور غریب طبقے کے ساتھ ہی ہوتا ہے،جن سول آفیسر و پولیس آفیسر ز نے اس شرمناک آپریشن کی نگرانی کی جن اہلکاروں نے اساتذہ کو لاٹھیوں پر رکھا ،جنہوں نے گالیاں ،دھکے دئیے انہوں نے بھی تو تعلیم کسی استاد سے ہی حاصل کی ہو گی ،موجودہ حکومت پر کسی بھی ایسے بھونڈے اقدام اور وہ بھی شہر اقتدار میں توقع نہیں کی جاسکتی تھی مگر ہو کیا رہا ہے یہی بات سمجھ سے بالاتر ہے ۔
تحریر: صابر مغل۔۔۔۔ اسلام آباد 0300 6969277 …0344 6748477

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.