کشمیرڈے،مہاتیر محمداور پاکستانی سیاستدان

6

تحریر:عتیق الرحمان خاں۔۔۔۔ملک میں جاری سیاسی کشیدگی نے نا صرف پاکستانیوں کو بلکہ پاکستان میں کاروبار کرنے والے انوسٹرز کو بھی پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ہر کسی کی نظر پاکستانی کی ڈگمگاتی سیاسی کشتیوں پر مرکوز ہے۔کیا بڑا کیا بچہ ہر کوئی خواہ وہ حکومتی حلقہ ہو یا کہ اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدانوںکے دائوپیچ پر حیران اور ششدر ہے کہ کل کے ایک دوسرے کی جائیدادوں اور حتی کہ ذاتیات پر بھی کیچڑ اچھالنے والے آج گھی شکر نظر آرہے ہیں کل جن کویہاں تک گوارہ نہیں تھا کہ دوسرے کو چپڑاسی رکھیں وہ ہی آج ان کی آنکھ کا تارا بنے بیٹھے ہیں۔دوسری طرف نظر اٹھائیں تو ایک دوسرے کو سڑکوں میں گھسیٹنے والوں کی محبت کی یہ حالت ہے کہ ان میں سے کوئی سوئی بھی نہیں گزر سکتی۔آج وہ ایک دوسرے کے مفادات ان کے انسانی حقوق کا تحفظ کرتے نظر آتے ہیں۔کل ایک دوسرے کو چور اور لٹیرے کہنے والے آج ایک دوسرے کی پارسائی کی قسمیں اٹھاتے نہیں تھک رہے ۔یہ اچانک سب کیا تبدیلیاں کہاں سے رونما ہو گئیںہیںچھوٹے بچے جب والدین کے پاس بیٹھ کے ٹی ٹاک شوز میں سابق اور اب کی چلتی فوٹجز کودیکھتے ہیں تو وہ پریشان ہو کر اپنے والدین یا پاس بیٹھے اپنے بڑوں سے برملا یہ سوال کرتے ہیں کہ ان کو بتایا جائے کہ یہ لوگ پہلے ٹھیک کہ رہے تھے یا آج جو بیانات دیئے جارہے ہیں وہ سچ ہیں ۔اس میں حقیقت کیا ہے اور افسانہ کیا ہے۔والدین بھی چونکہ اسی ملک کے باسی ہیں اور مسائل کی بھر مار کی وجہ سے ان کو خود بھی علم نہیں کہ کون سچ کہہ رہا ہے اور کون اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بول کر اپنے بیانیہ کو سچ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔آج یہ تاثر عام ہے کہ حکومت عوام کو ڈیلیور کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے کیونکہ عوام سابق حکومتوں سے مکمل طور پر تھک چکی تھی اور امید کر رہی تھی کہ روایتی پارٹیوں سے ہٹ کر اب کسی نئے کو آگے لاکر دیکھا جائے کہ شاید ان کی قسمت کے دن بھی پھر جائیں مگر ملک میںجاری مہنگائی کی رفتار نے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر کر رکھ دیا ہے کیا امیر کیا غریب ہر کوئی مہنگائی کے بے ہنگھم تھپیڑوں سے تلملا اٹھا ہے۔اور ناچاہتے ہوئے بھی ان کے منہ سے بے ساختہ نکلتا ہے کہ اس سے تو پہلے کی حکوتیں اچھی تھیں کم از کم اتنی مہنگائی تو نہیں تھی۔آج ہمارے ملک کی عوام کی حالت شاید انہی والدین کی طرح نظر آرہی ہے جس طرح کوئی بے اولادجوڑا بہت منتوں مرادوں سے اولاد کی دولت سے مستفید ہوتا ہے مگر جب اولاد کے سکھ دینے کا ٹائم آتا ہے تو اپنے نااہلی سے وہ والدین کو اتنا زیادہ پریشان کر دیتی ہے کہ نا چاہتے ہوئے بھی والدین اکتا کر کہتے ہیں کہ بیٹا آپ سے تو بہتر تھا کہ ہم بے اولاد ہی رہتے۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے یہ بات پاکستان کے بچے بچے کی زبان سے سنی جا سکتی ہے اور شہ رگ کٹ جائے تو کسی بھی جاندار کا زندہ رہنا ناممکن ہو جاتا ہے حکومت کی نااہلیاں اپنی جگہ مگر اگر کشمیر ایشو پر حکومت کی کامیابی اور وزیر اعظم کی جنرل اسمبلی میں دبنگ خطاب نے عوام کی سوچ کو کچھ دیر کیلئے مہنگائی کی دلدل میں خاموش ضرور کر دیا تھا نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر عمران خان کی کشمیر کاز پر گفتگو کو کافی سراہا گیا۔مگر پاکستان کے اندورونی سیاسی اختلافات نے اس کو ایک بار پھر پس پردہ دھکیل دیا ہے۔چونکہ اسلام نے ہر مسلمان کو بھائی بھائی بنا دیا تھاتواسی اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ملائشیاکے وزیر اعظم مہا تیر محمد نے کشمیری مسلمانوں پر بھارت کے جاری مظالم کیخلاف اور کشمیری مسلمانوں کے حق خود ارادیت کیلئے عالمی سطح پر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ یو نائیٹڈ نیشن اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے کو فوری حل کروائے۔ان کے اس بیان کوانڈیا کی عوام اور حکومت نے اپنے اندرونی معاملات کا بہانہ بنا کر ملائیشیا کے وزیر اعظم پر اپنا پریشر بڑھانے کیلئے اپنے تجارتی تعلقات کو محدود کرنے کی دھمکی دیدی۔مگر مہاتیر محمد اپنے بیان پر ڈٹ گئے اور انڈین لابی کو منہ کی کھانا پڑی ۔اپنی ناکامی کی شرمندگی کو چھپانے کیلئے بھارت نے گزشتہ روز ملائیشیا سے پام آئیل کی درآمد کو روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ چونکہ بھارت ملائیشیا سے پام آئیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جس سے ملائیشیا کی اکانومی کو کافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی تصور کیا جاتا ہے مگر سب نقصانات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملائیشیا کہ وزیر اعظم اپنے بیانیہ پر ڈٹ گئے ہیں اور انھوں نے انڈیا کی سب دھمکیوں کو رد کر دیا ہے۔مسلمان ہونے ہی کے ناطے ترقی کے طیب اردوان نے بھی کشمیریوں کے حق پر کھل کر بات کی۔کشمیر ڈے پر جہاں ضرورت تھی کہ کشمیر کاز کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیااور دنیا کو ساتھ ملا کر انڈیا پر پریشر بڑھا کر زور دیا جائے کہ وہ کشمیریوں پر جاری مظالم بند کرتے ہوئے کرفیو کو اٹھائے اور ان کو ان کے حق خود اردیت دیتے ہوئے ان کے درینہ مطالبہ کو پورا کیا جائے۔لیکن پاکستان میں جاری اقتدار کی رسہ کشی نے کشمیریوں کو سپورٹ کرنے کی بجائے بہت زیادہ مایوس کیا ہے۔بظاہر دیکھا جائے تو جس طرح سب جماعتیں اپنے اپنے مفادات کو عوامی مفاد کا نام دیتے ہوئے حکومت وقت کو ختم کرنے کیلئے ایک پیج پر متفق ہو گئیں ہیں تو اگر یہی اتحاد کشمیر یوں کو ان کے حق ارادیت کو دیکھانے کیلئے استعمال کیا جاتا اور کشمیر کے عالمی دن کے موقع پر حکومت کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر یونائیٹڈ نیشن اور عالمی طاقتوں سے بھر پور مطالبہ کیا جاتا کہ وہ بھارت کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ کشمیریوں پر جاری مظالم بند کرتے ہوئے کشمیر پر جاری کرفیوکو ختم کرتے ہوئے ان کو آزادی سے محروم رکھنے کی روش کو ختم کرے۔یہاں افسوس کیساتھ کچھ بھی نا ایسا کرنے کو یادیکھنے کو کچھ نہیں مل رہا ۔ہر پارٹی اپنی اپنی سیاسی دکانداری کو چمکانے اور اس کو بڑھاوا دینے میں مصروف عمل نظر آرہی ہے ۔خدا را سیاست سیاست کے کھیل سے باہر نکلتے ہوئے ان لاکھوں آپ کی مدد کے منتظرکشمیری بہن بھائیوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کام پر تو سب متفق ہوجائیں ۔آپس کے تمام اختلافات کو بھلا کر کم ازکم کشمیر کے ایشو پر سیاست کو بالائے طاق رکھ کراللہ کی رضا کیلئے کشمیریوں کا ساتھ دیں تاکہ وہ بھی غلامی سے نکل کر آزادی کی مسحور کن فضائوں میں سانس لے سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.