اقوام متحدہ، کشمیر اور بھارتی جعلسازی

26

لیگ آف نیشنز کے تسلسل میں 24 اکتوبر 1945 کو انجمن اقوام متحدہ وجود میں آئی جس کے اہم مقاصد جمہوریت کا فروغ و بحالی، عالمی امن و انصاف، غلامی کا خاتمہ، مساوات سرفہرست ہیں لیکن اقوام متحدہ کے دعووں اور نعروں کی نفی کا منہ بولتا ثبوت نہتے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و بربریت ہے، بہتر سالوں سے بھارت کشمیریوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوے ہے اور اقوام متحدہ کا کردار صرف کاغذ اور زبانی بیانات کی حد تک ہی محدود ہے، UNO کی اس سے بڑھ کر ناکامی کیا ہوگی کہ بہتر سالوں سے اپنی قراردادوں پر عمل کروانے میں مکمل ناکام رہی ہے اور دلچسپ بات یہ کہ بھارت نے نہ صرف داداگیری کا عملی مظاہرہ کیا بلکہ اقوام عالم سے دھوکہ دہی و جھوٹ سے کام لیتا آرہا ہے، بھارت کا یہ کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ اس نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے بھارت کی مکاری کی واضح مثال ریاست جونا گڑھ کے نواب کا الحاق پاکستان ہے جس پر بھارت نے شدید اعتراض کرتے ہوے اسے ماننے سے انکار کردیا اس ضمن میں جواہر لعل نہرو نے 30 ستمبر 1947 کے دن پاکستان کو مخاطب کرکے کہا کہ ”ہم جنگ کے خلاف ہیں اور ہر مسئلہ کا پرامن حل چاہتے ہیں، ریاستوں کا الحاق لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہئے پاکستان کو بھی لوگوں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوے انہیں استصواب رائے کے زریعے کسی بھی ریاست پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کا حق دینا چاہئے” اس کے جواب میں قائداعظم محمد علی جناح نے مثبت کردار کا مظاہرہ کیا اور جونا گڑھ جس کا راجہ مسلمان تھا لیکن اکثریت آبادی ہندو تھی اس بنا پہ جوناگڑھ کے باسیوں کو رائے دہی کا حق دیا اور فروری 1948 میں استصواب رائے کروایا جس کے نتیجے میں ریاست جونا گڑھ بھارت کا حصہ قرار پائی لیکن اس کے برعکس مکار بھارت نے کشمیریوں کو اس حق سے محروم رکھا اور اپنے ہی وعدوں سے منحرف ہوتے آئے، اکتوبر 1947 کے وسط میں قبائلی ردعمل سے پانچ روز قبل کشمیر میں RSS نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا تو کشمیر کے حالات خراب ہوگئے بھارتی مداخلت کے پیش نظر برطانوی وزیراعظم ایٹلی نے اس مسئلہ پر تشویش کا اظہار کیا جس کے جواب میں جواہر لعل نہرو نے ایٹلی کو ٹیلی گرام کے زریعے واضح کیا کہ بھارت لوگوں کی خواہشات کا احترام کرتا ہے نہرو کے الفاظ یہ تھے ””I should like to make it clear that ]the[ question of aiding Kpp0ashmir…is not designed in any way to influence the State to accede to India. Our view, which we have repeatedly made public, is that ]the[ question of accession in any disputed territory must be decided in accordance with the wishes of the people, and we adhere to this view” لیکن بھارت نے عملی طور پر اس کے برعکس کیا اور دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکتا آیا، بھارت نے کشمیر میں مداخلت کا جواز مہاراجہ کی مدد کی اپیل کو پیش کیا اور اس کے جواب میں بھارتی گورنر جنرل نے مہاراجہ ہری سنگھ کے نام خط میں واضح کیا کہ ”consistently with their policy that in the case of any State where the issue of accession has been the subject of dispute, the question of accession should be decided in accordance to the wishes of the people of the State, it is my Government’s wish that as soon as law and order have been restored in Kashmir and her soil cleared of the invader the question of the State’s
accession should be settled by a reference to the people”
لیکن بھارت نے بہانے سے کشمیر میں فوج داخل کرکے اس پہ غاصبانہ قبضہ جمالیا اور کئی سال بعد مکارانہ طور پر 27 اکتوبر 1947 کو کیا گیا جعلی الحاق نامہ سامنے لے آیا جوکہ سراسر بیبنیاد اور جعلی ہے کیونکہ لارڈ ماونٹ بیٹن کے خط میں بھارتی موقف کا واضح اظہار موجود ہے جس کی توثیق نہرو نے بھی کی لیکن بعد میں بھارت نے ڈھٹائی سے موقف بدلا کہ وہ ماونٹ بیٹن کی ذاتی رائے تھی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا کشمیر پر موجودہ موقف جعلسازی اور فراڈ پہ مبنی ہے بھارت کا دعویدار ہے کہ مہاراجہ کشمیر نے اس کے ساتھ الحاق کیا لیکن حقیقتاً یہ ڈاکیومنٹس بھارت نے کئی سال بعد تیار کروائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ الحاق نامہ جعلی ہو کیونکہ 28 اکتوبر کو بھارت نے صرف مہاراجہ کی مدد کی اپیل اور لارڈماونٹ بیٹن کا خط ہی پبلش کیا تھا اگر ایسا کچھ ہوتا تو بھارت الحاق نامہ پبلش کرتا، اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر پر 28 اکتوبر تا 22 دسمبر تک پاک بھارت متعدد ملاقاتیں ہوئیں جس میں دونوں اطراف کے آفیشلز کے مابین، دونوں ریاستوں کے رہنماوں کے درمیان اور برطانیہ کی ثالثی میں بھی بہت سی ملاقاتیں ہوئیں لیکن ایسی کسی چیز کا زکر سامنے نہ آیا اور 8 نومبر 1947 کو وی پی مینن و چوہدری محمد علی کے درمیان جو اہم بات چیت ہوئی اس میں یہ طے پایا کہ neither Government ]of India or Pakistan[ would accept the accession of a State whose ruler was of a different religion to the majority of his subjects without resorting to a plebiscite” بھارت اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لیکر بھی گیا تو ایسی کوئی چیز کوئی ڈاکیومنٹ پیش نہیں کیا گیا اور مارچ 1948 کو انڈین پارلیمنٹ سے جاری شدہ وائٹ پیپر میں بھی کسی الحاق نامے کا وجود نہیں تھا بلکہ استصواب رائے کا زکر ہی تھا جس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ کم از کم مارچ 1948 تک کوئی الحاق نہیں ہوا تھا اگر ایسا کچھ ہوتا تو بھارت اسے ضرور پیش کرتا بلکہ کئی سالوں تک کسی الحاق کا زکر تک نہیں تھا، اقوام متحدہ کا ریکارڈ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ بھارتی موقف اور اٹوٹ انگ کا راگ بعد میں الاپا گیا، بھارت نے یہ موقفیقیناً سلہٹ اور فرنٹیئر پراونس کے رزلٹ کو مد نظر رکھ کر اپنایا، فرنٹئیر پراونس میں حکومت کانگریس کی تھی اور سلہٹ ہندو اکثریتی صوبے کا مسلم اکثریتی ضلع تھا جب استصواب رائے ہوا دونوں علاقوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا، بالکل اسی طرح بھارت کو یقین تھا اور ہے کہ اگر کشمیر میں رائے دہی کروائی گئی تو اس کا نتیجہ سو فیصد پاکستان کے حق میں ہی آنا ہے یہی وجہ ہے کہ مکار بھارت اپنے ہی موقف و پالیسیوں سے منحرف ہوگیا، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کے برخلاف پپٹ اسمبلی سے فیصلہ کرواکے اسے اپنا اٹوٹ انگ بنالیا جوکہ نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ کھلم کھلا بدمعاشی بھی ہے بھارت کی اس جعلسازی پر اقوام عالم کی خاموشی اور اس کی بدمعاشی کو نظرانداز کیے رکھنا انسانیت کی توہین، انسانی آزادی کے ساتھ کھلا مذاق اور اقوام متحدہ پر سوالیہ نشان ہے، پاکستان کو بھی چاہئے کہ بھارت کی جعلسازی اور دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکنے کو منظر عام پر لاکر بھارت کے مقروہ چہرے کو مزید بے نقاب کرے۔
تحریر: انشال راؤ۔۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.