بابا فرید ؒ کی چلہ کشی

27

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔۔۔۔پیکر ِ خاکی حضرت انسان حقیقتاً تو مشتِ غبار ہے لیکن جب اِس کی خصوصیات اور بدلتے مزاجوں کو دیکھیں تو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ عقل دانتوں تلے انگلی دبا لیتی ہے اربوں انسان کے اِس روپ کا اگر آپ مشاہدہ کریں تو ہر انسان دوسرے سے مختلف نظر آتا ہے یہاں تک کہ کو چہ تصوف اولیا ء اللہ اِس دھرتی کے سب سے معصوم ‘ خدمت خلق انسانوں سے حقیقی محبت کر نے والے ہیں مگرمنکرین روحانیت ہاتھ میں پتھر لے کر اِن نفوس قدسیہ کو دن رات لہو لہا ن کر نے میں لگے رہتے ہیں منکرین روحانیت اپنی نفرت میں یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ صرف اور صرف اِس پور ی کائنات میں حق تعالیٰ سے عشق کے بعد رب تعالیٰ کی بنائی ہو ئی ہر چیز سے محبت کر تے ہیں یہ عظیم لوگ نفرت کینہ بغض ظلم زیادتی حق تلفی قتل و غارت سے بلکل پاک ہو تے ہیں یہ صرف اور صرف پیار امن محبت اخوت بھائی چار ہ درگزر عاجزی انکساری کے پیکر ہو تے ہیں پو ری دنیا کے انسان مادیت پرستی کے سمندر میں غوطے مارتے نظر آتے ہیں لیکن ابراہیم بن ادم ؒ اور مہاتما بدھ جیسے انسانیت کے حقیقی علمبردار دولت تاج و تخت کو ٹھوکر مار کر شاہی ایوانوں کو چھوڑ کر تلاشِ حق کے لیے جنگلو ںبیابانوں کا رخ کر تے ہیں انسان ایک سرکش گھوڑا ہے ایک ظالم درندہ جو اپنی جھوٹی انا کی تسکین کے لیے لاکھوں انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح پائوں تلے روند دیتا ہے اپنے نفس کی اِس درندگی اورسرکشی کو اہل تصوف روند کر انسان کو امن بھلائی کا پیکر بنادیتے ہیں تزکیہ نفس کے لیے اِس سرکش گھوڑے پر عبادت ریاضت مجاہدے کم سونا کم کھانا اپنی خواہشات کو مارنا اِس کی سرکشی اور بربر یت کو ختم کر نے کے لیے مرشد اپنے مریدوں کو تزکیہ نفس اور سخت مجاہدوں اور چلوں سے گزار کر کثافت سے لطافت میں ڈھالتے ہیں پھر یہ کثافتی الائشوں سے پاک ہو کر نوری پیکر بن کر انسانوں کی راہنمائی کا فریضہ ادا کر تے ہیں جوان بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ دنیا جہاں کے علوم سیکھ کر اب اپنے مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے در پر آگئے تھے اب مرشد نے اپنے لاڈلے مرید کو تذکیہ نفس کے پل صراط سے گزارنے کے لیے ’’طے کا روزہ‘‘ رکھنے کا حکم دیا اپنے مرشد کے حکم پر آنے والے وقتوں کا عظیم سلسلہ چشت کا چراغ غزنی کے دروازے کے قریب ایک برج میںخلوت گزین ہو گیا تزکیہ نفس کے لیے اہل تصوف میں اِس روزے کو خاص مقام حاصل ہے بابا فرید ؒنے طے کا روزہ رکھ لیا جب تیسرے دن افطار کا وقت آیا تو افطار کے لیے پاس کچھ بھی نہیں تھا اتفاق سے پاس ہی کسی شخص کو پتہ لگ گیا کہ یہاں پر ایک جوان فقیر چلہ کشی کر رہا ہے تو اُس نے ثواب کی نیت سے اچھا سا کھانا تیار کر کے بابا فرید ؒ کے پاس لے آیا اور پھر بابا فریدؒ کی منت خوشامد کر نے لگا کہ وہ اُس کے کھانے سے افطاری کر لیں تا کہ اُس کو بھی ثواب مل جائے ‘ اولیاء اللہ فطری طور پر انسانوں سے محبت کر تے ہیں اِس لیے اُس کا دل توڑنا مناسب خیال نہ کیا اور کھا نا رکھ لیا تو وہ بندہ چلا گیا اُس کے جانے کے بعد اُس کے لائے ہو ئے کھانے سے افطار کر لیا لیکن کھانے کے فوری بعد بابا فرید ؒ کو پیٹ میں شدید درد اٹھا درد کی شدت اِس قدر بڑھ گئی کہ سارا کھانا قے کی شکل میں معدے سے اِس طرح نکلا کہ ایک ذرہ بھی پیٹ میں نہ رہا اب بابا فرید ؒ نے پانی پی کر ساری رات عبادت کی صبح جب دربار مرشد میں حاضر ہوا تو سارا واقعہ سنا دیا تو خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے خلیفا اکبر بابا فرید ؒ کے مرشد خواجہ قطب الدین ؒ بولے اے فرید میںجانتا ہوں تین دن روزے کے بعد افطاری کے بعد اگر سارا کھانا پیٹ سے باہر نکل جائے تو کمزوری اور نقاہت جان لیوا ہو تی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جس خدا کو پانے کے لیے تم ایسی جسمانی کثافتوں کو زائل کر رہے ہو تو وہ تم سے بے خبر کیسے رہ سکتا ہے جو بندہ تمہارے لیے کھانا لے کر آیا تھا وہ اصل میں بد کار شرابی تھا جو عقیدت میں کھانا دے گیا لیکن حق تعالیٰ نے یہ برداشت نہ کیا کہ غلط غذا تمہارے پیٹ میں رہے یا تمہارے جسم کا حصہ بنے اِس لیے غلط غذا تمہارے جسم سے نکال دی کیونکہ تمہارا پہلا روزہ خراب ہو گیا ہے اب تم نے ایک اور روز ہ رکھنا ہے اِس بار کسی انسان کی خوراک پر تو جہ نہیں دیتی بلکہ عالم غیب سے جوملے وہ کھا لینا اب پھر بابا فریدؒ نے جسمانی کثافتوں کو دھونے کے لیے پھر طے کا روزہ رکھ لیا جب تیسرے دن افطاری کا وقت آیا تو آپ ؒ عالم غیب کے کھانے کا انتظار کر نے لگے کہ ابھی عالم غیب سے پھل اور کھانے آئیں گے جن سے وہ پیٹ کی بھوک بجھائیں گے لیکن جب کافی انتظار کے بعد غیبی کھانا نہ آیا تو پانی سے روزہ افطار کر لیا اور نماز میں مصروف ہو گئے نماز کے بعد بابا فریدؒ اب پھر اُس غیبی کھانے کا انتظار کر نے لگے جس کی خوشخبری مرشد کریم ؒ نے سنائی تھی انتظار کی گھڑیا ں طویل ہو تی گئیں عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا تو بھوک اور کمزوری سے شکستہ بابا فریدؒ اٹھے اور نماز کے لیے دربار حق میں کھڑے ہو گئے طویل فاقہ کشی کے بعد جسم کے انگ انگ پر کمزوری نقاہت کا راج تھا لڑکھڑاتے لرزتے جسم کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں نماز کی ادائیگی میںمصروف تھے نماز عشاء بھی ختم ہو گئی لیکن غیب سے کھانا ابھی تک نہ آیا بھوک اور کمزوری کے ہاتھوں جسمانی اعضاء سست پڑنے شروع ہو گئے اب حالت خراب ہو نے لگی تو بابا فریدؒ بار بار ادھر ادھر دیکھتے کہ کھانا آیا کہ نہیں لیکن وہاں کھانا نہیں تھا خاموشی اور سناٹے کی چادر تنی تھی بابا فرید تھے اور سناٹے کا راج کھانا نہیں تھا لیکن اپنے باکمال مرشد ؒ پر بھروسہ اور یقین تھا کہ مرشد کی بات تو حق تھی جو ہو کر رہنی تھی آدھی رات گزر گئی تو نقاہت کمزوری نقطہ عروج پر پہنچ گئی اضطراری حالت میں اٹھے تو کمزوری سے گر پڑے چھ دن کا فاقہ تھا جسمانی نظام شدید خطرے میں تھا ایندھن ختم ہو چکا تھا نبض سست روی کا شکار تھی بھوک اور بے قراری کے عالم میں مچل رہے تھے پہلو بدل رہے تھے جب بے قراری اضطراری عروج پر پہنچی تو زمین پر گر گئے بے قرار ی میں زمین پر ہاتھ مارنا شروع کر دئیے اِسی دوران ہاتھوں پر چبھن کا احساس ہوا دیکھا تو ہاتھوں پر سنگریزے چپکے ہو ئے تھے بے قراری کے عالم میں اُن سنگریزوں کو منہ میں ڈال لیا منہ میں جاتے ہی سنگریزے مصری کی ڈلیاں محسوس ہو نے لگے مٹھاس کا احساس ہو تے ہیں بابا فرید نے شرابی کے کھانے کا خیال کیا اور انہیں زمین پر تھوک دیا تھوڑی دیر بعد پھر بھوک نے تڑپایا تو پھر زمین پر ہاتھ مارے پھر سنگریزے چپک گئے منہ میں ڈالے تو پھر مٹھاس کی ڈلیاں محسوس ہو نے لگیں بابا فرید نے پھر حرام سمجھ کر زمین پر تھوک دیا تھوڑی دیر بعد پھر بھوک کی شدت سے زمین پر ہاتھ مارے تو سنگریزے نظر آئے انہیں منہ میں ڈالا تو پھر شیرینی کی نہریں بہتی محسوس ہو نے لگیں اب مرشد کی بات یاد آئی جو بھی غیب سے ظاہر ہو اُسی سے بھوک مٹا لینا اب بابا فرید ؒ نے سنگریزے شکر کی ڈلیوں کی صورت میں نگلنے شروع کر دیے جس کے بعد بھوک بھی ختم ہو گئی اور جسمانی کمزوری کو بھی قرار آگیاصبح دربار مرشد میںحاضری دی تو خواجہ قطب ؒبولے فریدؒ روزہ مکمل ہو گیا تو جوان فریدؒ نے سارا واقعہ بتا دیا تو خواجہ قطب ؒ تبسم دلنواز سے بولے میرے بیٹے یہ خدا کی نشانیاں ہیں وہ واقعی سنگریزے تھے لیکن تم سراپا نور بن چکے تھے حالت کن فیکون میں تھے تمہارے لبوں کو چھوتے ہی پتھر شکر کی ڈالیاں بن جاتے تھے جب بھی یہ پتلا خاکی کثافت کی الائشوں سے پاک ہو کر پیکر نور لطافت میں ڈھلتا ہے تو انسان حقیقی مٹھاس سے ہمکنار ہو جاتا ہے اللہ کا خاص فضل و کرم اب تمہارے ساتھ ہے اب تمہاری روح پاکی کی آخری حدوں سے بھی گزر گئی ہے اب تم پیکر لطافت ہو آج سے تم گنج شکر ہو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کے خلیفہ اکبر خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے ہونٹوں سے گنج شکر کیا نکلا کہ بابا فرید ؒ قیامت تک کے لیے بابا فرید گنج شکر ؒ کے نام سے تاریخ کے سینے پر نقش ہو گئے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.