آزادی مارچ اورحکومتی پھرتیاں

8

جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے آزادی مارچ کااعلان کررکھاہے،اکثراپوزیشن جماعتیں جوپہلے’ تیل دیکھو،تیل کی دھاردیکھو‘کے اصول پرعمل پیراتھیں،اورآزادی مارچ کے حوالے سے کسی قسم کی حمایت یامخالفت کی پالیسی وضع کرنے سے گریزاں تھیں،اب مولاناکی ہم نواہوچکی ہیں۔شایداس لیے کہ اب ان کوآزادی مارچ کے ممکنہ ثمرات نظرآناشروع ہوچکے ہیں،اوران ثمرات میں اپناحصہ پانے کے لیے ان کامخمصے کی کیفیت سے نکل کردوٹوک موقف اپناناضروری تھا۔مزیدجماعتیں بھی مولاناکی ہم نوابن سکتی ہیں۔
حکومت بھی پہلے اس مارچ کومحض ایک سیاسی چال اورروایتی دھمکی کے طورپرلیتی رہی،کہ’ ’نہ نومن تیل ہوگا،نہ رادھاناچے گی‘‘۔لیکن اب اسے بھی صاف نظرآرہاہے کہ اگریہ لاکھوں افرادسڑکوں پرآگئے،تواس عوامی ریلے کوروکنااس کے لیے ناممکن ہوجائے گا۔اس لیے ماضی قریب میں کنٹینرفراہم کرنے کی آفردیتے وزیراعظم اب طاقت استعمال کرنے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ایک طرف مذاکرات کاڈول جارہاہے اوردوسری طرف طاقت استعمال کرنے کی دھمکیاں اورمدارس وعلماکومارچ سے روکنے کی کوششیںجاری ہیں۔ معلوم ہوتاہے کہ حکومت کوبھی اس مارچ کی طاقت کااندازہ اب ہونے لگاہے۔وہ اس سیل رواں کوبہرصورت روکناچاہتی ہے،ورنہ اسے ڈرہے کہ کہیں وہ خود اس سیلاب میں خس وخاشاک کی طرح بہہ نہ جائے۔
سینئرسیاست دان میرحاصل بزنجونے ایک موقع پر کہاتھا:اس حکومت کوکسی اپوزیشن کی ضرورت نہیں،اس کے وزراومشیرانِ بے تدبیرخوداس کی بدنامی کے لیے کافی ہیں۔وزراومشیران،بلکہ خودکپتان کے بیانات بھی اس بات کی تصدیق کرتے نظرآتے ہیں۔
آزادی مارچ کے ناخداؤں نے مذاکرات کے لیے’ مائنس عمران‘ کی شرط لگادی ہے،جس کے لیے نہ حکومت تیارہوسکتی ہے اورنہ مقتدرہ،اس کاصاف مطلب یہ ہے کہ اپوزیشن مذاکرات کرناہی نہیں چاہتی۔اس کے خیال میں اب فائنل راؤنڈکاوقت ہے،اورحکومت کے پلوں کے نیچے سے کافی بلکہ بہت ساراپانی بہہ چکاہے۔اب ’ہتھیلی پرسرسوں جمانے‘ کی حکومتی خواہش کی کسی طرح حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔
اندریں حالات مولانافضل الرحمن کا’یہودی ایجنٹ‘ والابیانیہ بھی زورپکڑتاجارہاہے،اوروہ کافی حد تک اس مارچ کوحق وباطل کامعرکہ باورکرانے میں کام یاب ہوچکے ہیں۔کئی غیرجانب دارعلماکی طرف سے بھی اس مارچ کی کام یابی کے لیے روزے رکھنے،اعتکاف کرنے اوردعائیں مانگنے کی ہدایات اس کابین ثبوت ہیں۔مولانافضل الرحمن مذہبی حلقوں کویہ بھی باورکرانے میں کام یاب ہوچکے ہیںکہ اس مارچ کی ناکامی کانتیجہ خاکم بدہن مذہب کودیس نکالادینے کی خواہش رکھنے والے عناصرکی کام یابی کی صورت میں نکل سکتاہے۔دوسری جانب تاجروں اورمیڈیاکے برزجمھہروں کی حمایت سے بھی آزادی مارچ کونئی توانائی ملتی نظرآرہی ہے۔
حکومت نے اس مارچ کوروکنے کے لیے کئی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے۔اپنے مقرب علماسے اس کے خلاف بیانات دلوائے۔وفاق المدارس وتنظیمات مدارس دینیہ کے راہ نماؤں کواستعمال کرنے کی کوشش کی۔مدارس کے اربابِ اہتمام اوانصرام کی تھانوں میں طلبی اورانھیں اپنے طلبہ کومارچ میں نہ بھیجنے کامطالبہ بھی اب کوئی سربستہ رازنہیں رہا۔اس کے ساتھ ساتھ رائے عامہ کوگم راہ کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈابھی عروج پرہے کہ مولاناکے ساتھ کون ہے ؟صرف مدارس کے طلبہ وعلما،یہ راگنی کبھی کسی سمت سے،تو کبھی کسی سمت سے چھیڑی جاتی ہے۔آئیے!اس تاثرکوحقائق کی میزان میں پرکھیں۔
مولانافضل الرحمن کی جماعت کانام جمعیت علمائے اسلام ہے،اس کی صف اول کی قیادت ایک خاص مسلک ومکتبہ فکرسے تعلق رکھتی ہے،عہدے داروں میں اکثریت کاتعلق مدارس سے ہے۔یہ تمام باتیں اپنی جگہ درست ہیں۔بایں ہمہ مولاناکی جماعت ایک بڑی سیاسی جماعت ہے،جس کے کارکنوں میں صرف علماوطلبہ ہی شامل نہیں،عوام کی بہت بڑی تعداداِس جماعت سے وابستہ ہے۔جمعیت کے رجسٹرڈکارکنوں کی تعداد15لاکھ بتائی جاتی ہے۔یہ سب علماوطلبہ نہیں۔بلکہ اس میں غالب اکثریت جمہوریت پسندعوام کی ہے۔مرکزی قیادت میں سینیٹرطلحہ محمود،اکرم خان درانی سمیت کئی عہد ے دارایسے ہیں،جوعصری تعلیم یافتہ ہیں۔جمعیت کاوکلاونگ بھی ہے،خواتین ونگ بھی ہے،منارٹی ونگ بھی ہے۔غرض یہ جماعت کسی بھی سیاسی جماعت کی طرح لاکھوں کارکنوں پرمشتمل جماعت ہے،جس کی مرکز،سینیٹ اوردوصوبوں میں واضح نمائندگی ہے۔جس کا ووٹ بینک ایک ناقابل ِتردید حقیقت ہے۔جس کی جڑیں عوام میں ہیں۔
یہ محض اورمحض پروپیگنڈاہے کہ مدارس اپنے طلبہ کومارچ میں بھیج رہے ہیں۔پروپیگنڈاکرنے والے عناصرکویہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ مدارس کے طلبہ کے بغیربھی مارچ کام یابی سے ہم کنارہوگا۔اگرمدارس اپنے طلبہ کواس مارچ میں شرکت سے روک بھی دیتے ہیں،تواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔15لاکھ توبہت بڑی تعدادہے،اگر2لاکھ افرادبھی اسلام آبادپہنچنے میں کام یاب ہوگئے،توحکومتی مشینری کوبریک لگانے کے لیے کافی ہوجائیں گے۔
رہی یہ بات،کہ شرکاکی اکثریت علماپرمشتمل ہوگی،جومدارس کے تعلیم یافتہ ہیں،تویہ کوئی انوکھی بات نہیں۔جس طرح کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن کواِس زاویے سے ہدف ِتنقیدنہیں بنایاجاسکتا،کہ اس نے کسی اسکول،کالج یایونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے،اسی طرح کسی مدرسے سے تعلیم حاصل کرنابھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔پھرمدارس کی سندکی قانونی حیثیت تسلیم شدہ ہے،اورہرعالم صرف ایک عالم دین نہیں،ایم اے عربی واسلامیات کاڈگری ہولڈرہے۔علماکاباقاعدہ عصری تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنااس پرمستزاد۔آپ کسی بھی مدرسے کاسروے کیجیے،آپ کوطلبہ کاایک بڑاطبقہ میٹرک،انٹرسے ماسٹرزوڈاکٹریٹ تک کاڈگری ہولڈرنظرآئے گا۔
دانش مندی یہ نہیں کہ منفی پروپیگنڈے کیے جائیں،یہ حکومتی شکست کااعتراف ہے۔حکومت کوچاہیے کہ بامقصدمذاکرات کرے،اپوزیشن کے مطالبات کوسنے،ان کے تحفظات پرکان دھرے۔کاش!عمران خان اوران کے وزراومشیران اس بات کوسجھ سکتے کہ مولاناکوتمام دینی جماعتوں کامتفقہ لیڈربنانے اورتمام اپوزیشن جماعتوں کومتحدکرنے کابنیادی سبب آپ خودہیں۔آپ کی پالیسیاں،طاقت کے نشے میں مست تعلی آمیزبیانات،آئی ایم ایف کے ایماپرکمرتوڑمہنگائی،ٹیکس کے عفریت کوبے مہارچھوڑدینا۔اللہ نہ کرے،ملک رول بیک ہوا،تومارچ کی وجہ سے نہیں،آپ کی ان ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہوگا۔
تحریر:مولانامحمدجہان یعقوب۔۔۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.