مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947

20

تقسیم ہند کے فوراً بعد جموں میں لاکھوں کشمیری مسلمانوں کا منظم قتل عام تاریخ کے ان واقعات میں سے ہے جس کے تحریری و زندہ ثبوت ہونے کے باوجود اس ہواقعے کے زکر کو دباکر ہندوتوائی ظلم کی اس بھیانک تصویر سے دنیا کو لاعلم رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، نامور امریکی انسانی حقوق و سول رائٹس ایکٹیوسٹ میلکم ایکس کا کہنا ہے کہ ”The Media is the most powerful entity of earth, have power to make the innocent guilty & the guilty look innocent” کے تحت ایسا ہی مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کیا گیا، بھارتی ظلم و جبر کو جائز قرار دینے کے لیے ہمیشہ سے مظلوم کشمیریوں کو دہشتگرد بنا کر دکھانے کی کوشش کی گئی، تقسیم ہند کے بعد 1947 میں ماہ اکتوبر کے وسط سے نومبر تک منظم طریقے سے جموں کے علاقے میں لاکھوں نہتے مسلمانوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا جسے بھارت کیساتھ ساتھ اہلیان مغرب نے بھی دبانے کی کوشش کی جبکہ چند پنڈت خاندانوں کا زکر اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ دنیا سمجھتی ہے ظلم ان کے ساتھ ہوا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ظالم مظلوم بنادئیے گئے اور مظلوم کو ظالم بنادیا گیا، بلا جواز انسانیت کا قتل کیا گیا جس کا مقصد مسلمانوں کو ختم کرنا تھا، ادریس کانتھ کی تحقیق کے مطابق اکتوبر 1947 کے وسط میں ڈوگرا مہاراجہ نے RSS کی مدد سے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے نتیجے میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار کشمیری مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور سات سے آٹھ لاکھ افراد کو جان بچا کر بھاگنا پڑا نتیجتاً تین ہفتے بعد مسلم اکثریتی جموں میں مسلمان اقلیت میں رہ گئے، اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اس واقعے کو دبانے کے لیے میڈیا کو پابند کیا کہ وہ اس کی کوریج نہ کرے، ادریس کانٹھ کے مطابق یہ قتل عام قبائلیوں کے حملے سے پانچ روز پہلے شروع کیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ قبائلی پشتونوں نے ردعمل کے طور پر کشمیر کا رخ کیا، جواہر لعل نہرو نے اس واقعے کا ذمہ دار ڈوگرا مہاراجہ اور RSS کو قرار دیا انہوں نے 17 اپریل 1949 کو ولبھ بھائی پٹیل کو لکھے گئے خط میں اس کا زکر کیا جسے فرنٹ لائن میگزین نے شایع کیا اس کے علاوہ Horace Alexander نے اپنے آرٹیکل میں انسانی تاریخ کے اس المناک سانحے کو تفصیلی ڈسکس کیا جوکہ 16 جنوری 1948 کو The Spectator میں شایع ہوا، اس سانحہ سے قبل جموں کی 61% آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی معروف بھارتی دانشور و قانون دان AG Noorani نے اپنی کتاب Kashmir Dispute Vol-1 میں لکھا ہے کہ جموں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے ایک منظم پلاننگ مرتب کی گئی جسکے لیے RSS کی مدد لی گئی جس نے باہر سے ہزاروں کی تعداد میں ہندوتوا دہشتگردوں کو جموں بھیجا اس کے علاوہ سنگھ پریوار کی ایک شاخ جموں پرجا پریشد بھی اس میں پیش پیش رہی جو بعد میں RSS کی سیاسی ونگ بھارتیہ جن سنگھ سے منسلک ہوگئی اور BJP بننے کے بعد اس کی اہم ونگ ہے، آرٹیکل 370 ختم کرکے جموں کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا مطالبہ اسی جماعت کا تھا جوکہ گولولکر کی آئیڈیولوجی ”ایک ودھان، ایک نشان، ایک پردھان” پہ مشتمل تھا جسے گذشتہ بھارتی یوم آزادی کے موقع پر نریندر مودی نے اپنی اعلانیہ پالیسی و منزل ہونے کا اظہار کردیا ہے”، دس اگست 1948 میں The Times لندن نے تاریخی کمینہ پن اور سفاکیت کے اس المناک واقعہ پر رپورٹ شایع کی جس میں واضح کیا گیا کہ اس سے بڑھ کر دہشتگردی، حیوانیت، ظلم کی نظیر نہیں ملتی، RSS اور ڈوگرا مہاراجہ جیسے انسان نما حیوانوں نے وہ سفاکیت دکھائی کہ اگر کتّوں اور بھیڑیوں پر اس کا الزام تھونپا جائے تو وہ بھی اسے اپنی توہین سمجھیں گے یہ محض چند بدمعاشوں کا کام نہیں تھا بلکہ RSS کے ہزاروں بیرونی درندوں، جموں پرجا پریشد کے حیوانوں اور ڈوگرا کی فوج کے زریعے اسے منظم طریقے سے کیا گیا، اس رپورٹ میں The Times نے شایع کیا کہ ”Over 237000 Muslims were systematically exterminated unless they escaped to Pakistan along the border by Dogra forces & Hindu extremists, this happened in the mid October, five days before the pathan invasion & nine days before Maharaja’s accession to India” یہ تاریخ کی وہ سفاکیت تھی کہ گاندھی بھی اسے دہشتگردی کہنے پہ مجبور ہوگئے گاندھی نے 25 دسمبر 1947 کو ریمارکس دئیے کہ ”جموں کے ہندو، مہاراجہ ڈوگرا اور وہ ہندو جو باہر سے گئے جموں میں مسلمانوں کے قتل عام اور مسلمان عورتوں کی عصمت دری کے کے ذمہ دار ہیں” (Vol-90 of Gandhi’s work) یہ محض اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ منظم اور سرکاری سرپرستی میں ظلم و جبر کا عظیم واقعہ ہے، امریکہ میں ہولوکاسٹ میموریل میوزیم میں ایک نقشہ عیاں کیا گیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مختلف علاقوں سے یہودیوں کو مشرق میں نئی آبادکاری کے نام پر اپنے مقبوضہ جات سے یہودیوں کو پولینڈ میں لا لا کر قتل کیا، بالکل اسی طرح نومبر میں ہزاروں مسلمانوں کو پاکستان شفٹ کرنے کے بہانے RSS کے دہشتگردوں نے اجتماعی طور پر ایک جگہ جمع کر کر کے شہید کیا، افسوس کہ ہولوکاسٹ کی طرح تاریخ کے اس بڑے قتل عام پر بات نہیں کی گئی نہ ہی اس پر زیادہ لکھا گیا، جموں کی 61 فیصد مسلمان آباد محض تین ہفتوں میں اقلیت بلکہ ختم ہوکر رہ گئی حتمی تعداد تو شاید کہیں زیادہ ہو البتہ اس وقت کے مغربی اخبارات، محققین اور تاریخ دانوں نے شہید ہونے والوں کی تعداد 237000 دو لاکھ سینتیس ہزار جبکہ ہجرت کرنے پہ مجبور ہونے ہوالوں کی تعداد ایک ملین کے قریب لکھی ہے، اگرچہ AG Noorani, Khalid Bashir, Arundhati Roy سمیت دیگر بہت سے رائٹرز نے اس پہ بہت کچھ لکھا مگر میڈیا و دیگر ڈبیٹس میں اس واقعہ کو وہ توجہ نہ ملی جو ملنی چاہئے تھی چنانچہ دنیا کی اکثریت اس سے لا علم ہے لہٰذا انسانی حقوق کی تنظیمیں ان سے وابستہ افراد، تمام کشمیری اور پاکستانیوں کو چاہئے کہ اکتوبر و نومبر میں اس سانحے پر زیادہ سے زیادہ سیمینارز، ڈبیٹس کروائیں، آرٹیکلز لکھیں تاکہ دنیا ہندوتوا دہشتگردوں کے ظلم اور کشمیریوں کی مظلومیت سے آگاہ ہوسکے۔
تحریر: انشال راؤ۔۔۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.