لابنگ کامیاب ۔سرفراز احمد کی قیادت اور ٹیم سے چھٹی

10

بد قسمتی تو یہ ہے کہ پاکستان میں ڈھنگ سے کوئی کام کرنے کا نہ تو طریقہ ہے اور نہ سلیقہ ،یہاں جسے بھی کوئی اختیار نصیب ہوا اس نے اپنا آپ ضرور دکھایا،سری لنکن کی نا تجربہ کار ٹیم کے ہاتھوں مسلسل 11ٹی ٹونٹی سیریز کی کامیابی کے بعد ذلت آمیز شکست پر کرکٹ سے لگائو رکھنے والا ہر پاکستانی رنجیدہ تھا،ورلڈ کپ اور اس سے قبل قومی ٹیم میں بری طرح گروہ بندی کا شکار تھی کوئی ایک د وکے علاوہ تمام کھلاڑی یوں کھیلتے نظر آئے جیسے ٹیم نہیں صرف اپنی ذات کے لئے گرائونڈ میں آئے ہوں،گروہ بندی کی بڑی تردیدیں آئیں مگر یہ ایک حقیقت تھی ،دنیا کی ہر ٹیم میں اور قیادت میں تبدیلیاں کوئی نہیں بات نہیں ،ایسا ہونا روٹین کی بات ہے کوئی سینئرکھلاڑی جونئیرزقیادت کے ساتھ کھیلتے نظر آتے ہیں مگر جو سرفراز احمد کے ساتھ ہوا ایسا کبھی نہیں ہونا چاہئے تھا،الراقم کو2اکتوبر کو باوثوق ذرائع سے خبر ملی کہ سرفراز احمد کو ہٹانے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے،کراچی کے سرفراز احمد خطرہ بھانپ چکے تھے تبھی فیصل آباد میں بھی سندھ ٹیم کی قیادت سے انکار کر دیا،سرفراز احمد عرف سیفی کی جگہ اظہر محمود ٹیسٹ اور بابر اعظم T20 میچوں کے لئے کپتان مقرر کر دئیے گئے ہیں ون ڈے ٹیم کے کپتان کا اعلان دورہ ہالینڈ میں ون ڈے سیریز سے قبل کیا جائے گا جو 4سے9جولائی تک جاری رہے گی،سرفراز احمد کی کپتانی کا اختتام ڈرامائی انداز میں ہوا جب چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے استعفیٰ طلب کیا مگر سرفراز ڈٹ گئے مگر پاکستان میں جیت ہمیشہ طاقتور کی ہوتی ہے چند منٹ بعد ہی سرفراز نہ صرف کپتانی سے فارغ بلکہ دورہ آسٹریلیا سے بھی باہر ہو گئے ،سرفراز نے یہ ضرور کہا کیا صرف میری ہی پرفارمنس بری ہے ؟مصباح الحق اس دوران بابر اعظم سے ملاقات کرتے رہے،پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز حاصل کرنے والے کو ہٹانے پر پی سی بی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں کھلاڑی جشن مناتے نظر آئے اور ٹریننگ سیشن کے ایک رکن نے تو انہیں گرائونڈ سے باہر جانے تک کا اشارہ کر دیا،اسی دھڑے بندی نے ہمیں شکستوں کی صورت میں ہزیمت سے دو چار کیا،یہ کیسے گندے اور گھٹیا کردار ہیں جو قومی وقار کو بھی اپنے وقار یا مفاد پر ترجیح دے دیتے ہیں اور پھر سر خرو بھی وہی ہوتے ہیں،پی سی بی اعلامیہ کے مطابق اظہر علی آسٹریلیا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کے بعد سیزن2020۔2019میں کپتان ہوں گے اسی طرح بابر اعظم نہ صرف آسٹریلیا کے ساتھ T20سیریز بلکہ آئندہ سال T20ورلڈ کپ تک کپتان مقرر،قومی ٹیم3سے8نومبر تک 3ٹی ٹونٹی اور21نومبر سے3دسمبر تک برسین اور ایڈلیڈ میں کھیلے گی، چیر مین پی سی بی احسان مانی کے مطابق سرفراز احمد کو ہٹانے کا فیصلہ مشکل تھا مگر اس سے ٹیم میں بہتری آئے گی،سابق کپتان شاہد آفریدی نے ٹیسٹ ٹیم سے اظہر علی کی کپتانی کو درست اور بابر اعظم کے فیصلے کو نا مناسب قرار دے دیا،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر اس فیصلے پر مایوسی اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا مسلسل 11سیریز میں کامیابی صرف ایک میں ناکامی پر ہٹانا نا انصافی ہے(مسلسل گیارہT20سیریز میں کامیابی ورلڈ ریکارڈ ہے )،پی سی بی کے مطابق سرفراز احمد کو ہٹانے کا فیصلہ چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کی سفارشات پر ہوا، سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے بھی اس فیصلہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا اس فیصلہ سے ٹیم کی کارکردگی متاثر ہو گی انہوں نے سرفراز کو فون بھی کیا،سابق کپتان معین خان نے اس فیصلے کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہااگر اسی طرح میرٹ کا قتل عام ہوتا رہا تو کرکٹ کی تباہی ہی ہو گی،سابق کرکٹر باسط علی نے اسے اندرونی سیاست قرار دیا ،مجموعی طور پر سابق قومی کھلاڑیوں نے پی سی بی کی جانب سے اچانک اور غیر اخلاقی طریقہ سے سرفراز احمد کو ہٹانے پر حیران کن قرار دیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ سرفراز احمد ان دنوں مصباح الحق اور وقار یونس کے رحم و کرم پر تھے جو ان کی قیادت کے ذاتی طور پر خلاف تھے، اظہر علی نے کہاسرفراز احمد نے بہترین انداز میں ٹیلنٹ کو تجربہ کار کھلاڑیوں میں تبدیل کیاان تجربہ کار کھلاڑیوں سے ٹیسٹ چیمپئین شپ میں بہترین نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گے،بابر اعظم نے کہا انہیں دنیا کی نمبر ون ٹیم کی کپتانی کرنے پر فخر ہے ،اظہر علی نے 25ٹیسٹ میچز میں صرف ایک سینچری بنائی،جنوبی افریقہ کے ساتھ آخری ٹیسٹ سیریزمیں دو مرتبہ 0پر آئوٹ ہوئے اب تک انہیں صرف ایک میچ میں کپتانی کا تجربہ ہے اور اس میں بھی شکست ہوئی،دنیا کے نمبر ون بیٹسمین بابر اعظم کو33ٹی ٹونٹی کھیلنے کا تجربہ ہے جن میں ان کی 10ففٹیاں شامل ہیں،کراچی سے تعلق رکھنے والے 32سالہ سرفراز احمد نے اپنی کرکٹ کا آغاز کراچی سے کیا ان کے والد کا تعلق اتر پردیش سے تھاجو2016میں انتقال کر گئے،وہ اب تک کراچی ڈولفن ،کراچی ہاربر،PIA،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز،یارک شائرکی نماندگی کر چکے ہیں ،2007میں ٹیسٹ کیپ ملی تاہم تین سال بعد14جنوری کو آسٹریلیا کے خلاف وہ اس وقت ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنے جب کامران اکمل زخمی ہوئے اس میچ میں بھی انہیں بیٹنگ کا موقع نہ ملا،8نومبر2007میں انڈیا کے خلاف پہلا ون ڈے اور19فروری کوسری لنکن سیریزمیں آخری انٹرنیشنل T20کھیلا،سرفراز احمد اب تک 49ٹیسٹ ،116ون ڈے،188ٹی ٹونٹی اور150فرسٹ کلاس میچوں میں حصہ لے چکے ہیں،سرفراز احمد5اپریل2016کو T20فارمیٹ کے کپتان مقرر ہوئے پہلے ہی میچ میں انگلینڈ کو 9وکٹ سے ہرایا،پھر ورلڈ چیپمئن ویسٹ انڈیز کو 0۔3سے وائٹ واش کیا،اسی سال پاکستان ان کی قیادت میں T20کا عالمی چیمئین بن گیا،ان کی کپتانی میں آسٹریلیا،نیوزی لینڈ،انگلینڈ اور زمبابوے سے نہ صرف سیریز جیتیں بلکہ وائٹ واش بھی کیا،فروری2017میں اظہر علی کے بعد ون ڈے جبکہ مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیسٹ فارمیٹ کا بھی کپتان بن گئے ،سرفراز احمدتقریباًدو سال قومی ٹیم کے تینوں فارمیٹ کے کپتان رہے ،انگلینڈ میں ہونے والی چیمپئین ٹرافی بھی انہی کی قیادت میں جیتی گئی ،فرسٹ کلاس میں ان کی کارکردگی دیکھ کر انہیں انڈر19ٹیم میں شامل پھر کپتانی اور اسی قیادت میں ٹیم نے مسلسل دو مرتبہ عالمی کپ جیتا،ورلڈ کپ2015کے ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل ہوئے پہلے چار میں موقع نہ ملا پانچویں میں شامل ہوئے تو 49رنز اور6کیچز کے ساتھ مین آف دی میچ ٹھہرے ،وکٹ کیپر کی طرف سے6کیچز کا ریکارڈ اس میچ میں مکمل کیا،دوسرے میچ میں آئر لینڈ کے خلاف101بنا کر بھی مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیاامتیاز احمد کی طرح تیز ترین 1000رنز بنانے والے دوسرے وکٹ کیپر بیٹسمین ہیں،2015میں ہی انہیں اظہر علی کے ان فٹ ہونے پرزمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پہلی بار کپتانی کا موقع ملا اور بطور پہلا ہی ٹیسٹ میچ جیت لیا،ان کی قیادت میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز (متحدہ عرب امارات) میں پہلی بار وائٹ کا سامنا کرنا پڑا پاکستان کو ہوم سیریز میں مجموعی طور دوسری بار وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا اس سے قبل 2000ء میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ایسی شکست ہوئی تھی ، ان کی قیادت میں قومی ٹیم نے37ٹی ٹونٹی میں 29میں کامیابی 8میں شکست،50ون ڈے میں 29جیتے،20اہرے ایک بے نتیجہ ،13ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی ٹھیک نہ رہی صرف4میں جیت 8میں شکست مقدر بنی ایک ڈرا ہوا،سرفراز احمد آئوٹ سٹینڈنگ پلئیر آف2017ایوارڈ،2018میں سپرٹ آف کرکٹ کا ایوارڈ اور ستارہ ہلال کے حق دار ٹھہرے،ان کی قیادت میں جیت کا تناسب 78فیصد رہاجو کرکٹ کی تاریخ میں تیسرے نمبر پر ہے ،گرین شرٹس کو نمبر ون بنایا، انہیں ورلڈ کپ میں قیادت کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے تاہم عالمی نمبر ون کو سری لنکا کی انتہائی نا تجربہ کار ٹیم جس میں 10انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باعث ذلت آمیز شکست سے ان کے ستارے گردش میں آگئے،اس شکست نے شائقین کو بے حد مایوس کیا جس نے ان کی قیادت میں بھی آخری کیل ٹھونکی ،البتہ یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ ورلڈ کپ سے ہی ٹیم میں گروہی بندی کی خبریں گردشیں کرنے لگی تھیں جس کا اندازہ کئی اہم کھلاڑیوں کی انفرادی شرمناک اور حیرت انگیز ناقص کرکردگی ہے بورڈ بلی کی طرح ایسی باتوں سے صرف نظر کئے ہوئے ہے،بہر حال کسی اہم ترین کھلاڑی کو یوں گھر بھیجنا انتہائی شرمناک ہے فیصلے ہوتے رہتے ہیں ،قیادت بدلتی رہتی ہے یہ کوئی انہونی بات نہیں مگر اس بھونڈے طریقے سے نہیں۔
تحریر:صابر مغل۔۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.