روحانیت کا سمندر دربار عالیہ پیر ثنا ء محمدچشتی رحمتہ اللہ علیہ

76

تحریرصابر مغل ۔۔۔۔۔ فیصل آبا د سے تقریباً70کلومیٹر دور موضع گڑہ فتح شاہ کے علاقہ میں ماضی کی ویران مگر اب کی مصروف ترین سڑک سمندری فیصل آباد روڈ کے ساتھ فرید پور جیسی ایک نئی دنیا آباد ہو گئی ہے ،یہاں سے کم از کم30مربع کلومیٹر دور شام ہوتے ہی ویرانی ،سنسانی ،بیا بانی کا آغاز ہو جاتا یہاں کی ٹوٹی پھوٹی راہوں پر جن میں سے بیشتر پکی مگر انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، اکثریت اور بے آباد راہوں کی تھی تب تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ علاقہ بھی کبھی یوں آباد ہو گا کہ یہاںدن رات میں تفریق ختم ہو جائے ،حویلی لکھا کے علاقہ بائل گنج سے حضرت پیر ثناء محمدؒ زندگی کی آخری بہاروں میںساہیوال کے علاقہ نورشاہ کے قریب پڑائو ڈالا مگر جلد ہی ایک رات اچانک پیر صاحب نے مریدین کو حکم دیا اٹھو چلیں ہماری اصل منزل یہ نہیں ہے ، تمام مریدین حیران پریشان کہ اچانک ہوا کیا ہے؟آپؒ ـ نے فرمایا مجھے کسی سے کوئی گلا نہیں مگر مجھے اصلی منزل کی طرف جانا لازم ہے،تب تک کسی کو کچھ علم نہیں تھا کہ کوچ کس جانب ہے،یہ اکتوبر1997کی بات ہے آپ ؒ کے قصبہ نما گائوں گڑہ فتح شاہ سے شمالی جانب اس مقام پر پہنچ گئے اس آمد پرلوگ خوشی سے نڈھال ہوئے یہاں کی کثیر تعداد پہلے ہی ان کے ہاتھوں بیعت یافتہ تھی،قیام پاکستان سے پہلے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کے خانوادے سے قریبی تعلق رکھنے والے آپؒ کے والد گرامی حضرت پیر جلا ل چشتی ؒگھوڑے پر اس علاقہ سے گذرے گھوڑے کی باگ جانی فتیانہ نے سنبھال رکھی تھی آپ نے اسی جگہ رکنے کا اشارہ کیا اور چند لمحے رک کر مسکرائے اور آسمان کی طرف منہ کرتے ہوئے دعا فرمائی تب جانی فتیانہ نے کہا یا حضرت یہ کیا ماجرا ہے،تب پیر صاحب نے فرمایا جانی آپ نہیں جانتے مجھے لگتا ہے کوئی دور آئے گا جب یہاں آسمان سے نور اترے گا یہ جگہ اس قدر آبادہو گی جس کا ابھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،جانی فتیانہ بتاتا ہے کہ میرے ذہن میں تھا ساتھ آپؒ کے پاس شاید جن ہوتے ہیں اسی لئے آپ رکے ہیں پھر کہا یا حضرت مجھے پتا ہے آپ کے جن بھی مرید ہیں میں بھی انہیں دیکھنا چاہتا ہوں ،تب پیر جلا چشتی نے فرمایا بولے میں جنوںکی وجہ سے نہیں رکا بلکہ اس دھرتی پر نور بسرتے دیکھا تھااور وہ وقت آئے گا جب تم بھی اس رنگ و نور،روحانیت،اس علاقے کی تعمیرو ترقی ،بہار اور دن رات کی ختم ہوتی تفریق اپنی آنکھوں سے دیکھو گے پھر جانی فتیانہ نے یہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے جب ان کے صاحبزادے حضرت پیر ثناء محمد چشتی ؒ نے اس جگہ کا انتخاب کیا،اور پاکستان کے طول و عرض سے مریدین اور معتقدین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا،اس وقت وہ سنسان ترین راستہ ایک ایسی گذر گاہ کی شکل اختیار حاصل کر گیا ہے کہ جہاں24گھنٹے ٹریفک کا لائنیں نظر آتی ہیں در حقیقت ولایت کو عرف عام میں دوستی سے تعبیر کیاجاتا ہے اور جب ولایت مل جائے تو ولی اللہ کہا جاتا ہے اس اعتبار سے معنی اللہ کا دوست ہوا،الراقم بچپن میں اکثر والد محترم کے ساتھ پیر ثناٗء محمد ؒ کے پاس جاتا رہا اور وہ مجھے پیار سے اپنی گود میں بٹھا لیتے ،حضرت پیر ثناء محمد ؒاپنے نام کی نسبت کے عین مطابق اس قدر عاشق رسولﷺ تھے جس کا تصور تو کیا جا سکتا ہے مگر سمجھا نہیں جا سکتا، ہوش سنبھالتے ہی وہ اپنے نام کی طرح عشق محبوب الہٰی میں محوہو گئے ان کے بچپن کا واقعہ ہے جب آپ ابتدائی تعلیم کے لئے مدرسہ جاتے تو دیگر کلاس فیلوز کی نسبت انتہائی قلیل وقت میں سب کچھ یاد کر لیتے ،ایک بار ایسے ہی حسد میں کسی لڑکے نے آپ ؒ کا بستہ چوری کر لیا، بستہ تو مل گیا مگر جس لڑکے سے ملا اس کا نام احمد یار تھا تب آپ نے اپنے استاد محترم سے کہا جس کا نام احمد یار ہو میرا بستہ چورہو ہی نہیں سکتا، ایک مرید ماسٹر ظفر علی اساتذہ کے ساتھ کسی محفل میں بیٹھے تھے کسی نے عظیم عاشق رسول ﷺ اور حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یہ شعر سنایا ۔کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں ،یہ جہاں کیا چیز ہے لوح و قلم تیرے ہیں تب ماسٹر ظفر علی جھٹ بولے اگر کسی نے علامہ اقبال کے اس شعر کا اصل رنگ دیکھنا ہے تو آئو میرے پیر صاحب کے پاس تب پتا چلے گا جیسے علامہ اقبال نے یہ شعر لکھا ہی انہی کے لئے تھا،پیر حضرت ثنا ء محمد ؒ کی یہ عام عادت تھی کہیں گذرتے ہوئے زمین پر کوئی کاغذ نظر آتا جس پر اسم ۔محمدﷺ۔لکھا ہوتا تو اسے فوراً منہ میں ڈال کر کھا جاتے ،ایک مرتبہ ایسا ہی کاغذ کر منہ میں ڈالا تو ساتھ کھڑے مرید نے کہا یا حضرت اس کاغذپر تو بہت مٹی لگی تھی تب اس حقیقی عاشق رسولﷺ نے فرمایادنیا کی جس چیز کے ساتھ بھی اسم محمدﷺ لگ جائے وہ پاک ہو جاتی ہے اور اس تو ذائقہ ہی الگ ہے سبحان اللہ ، آپ ؒ کا خاتم النبین ﷺ کی تعلیمات اور ان سے عشق قابل رشک تھا،پیر حضرت ثناء محمد ؒ اپنی اس منزل پر پہنچنے کے بعد حسب معمول بہت بڑی محفل جشن عید میلاد النبی ﷺ کے حوالے سے منائی اور 1998میں وصال فرما گئے آپ ؒ نے اپنے مریدین کو تاکید فرمائی تھی کہ کہیں میرے عرس یا میلے ٹھیلے میں نہ پڑھ جانا یہاں سب سے بڑی تقریب صرف جشن عید میلا النبی ﷺ کے حوالے سے ہی ہو گی ،پاکستان میں شاہد یہ واحد خانقاہ اور درگاہ شریف ہے جہاں پیر صاحب یا صاحبان کے حوالے سے تو کوئی تقریب کا انعقاد نہیں کیا جاتا البتہ جشن عید میلا د النبی ﷺ کے حوالے ہر سال بہت بڑی تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے ،دو روز قبل الراقم حضرت پیر ثنا محمد چشتیؒ کے اکلوتے صاحبزادے ،سجادہ نشین دربار عالیہ پیر سید احمد جمال چشتی کے پاس حاضر ہوا،سالانہ محفل میلاد کے حوالے سے تیاریاں زورو شور ے جاری تھیں،پیر احمد جمال چشتی حقیقی معنوں میں روحانی شخصیت اور انتہائی صاف شفاف اور نور جھلکتے چہرے کے مالک ہیں ، ان کی قربت میں دنیا جہان کی کوئی بات یاد ہی نہیں رہتی دل چاہتا ہے انہی کے پاس بیٹھے رہیں ان کی مٹھاس بھری زبان میں شان رسالت سے سنتے رہیں،مریدین اور معتقدین کو ان کی نصیحتوں لاجواب ہوتی ہیں ،وہ ہر وقت،ہر بات کا آغاز ہی عشق رسول اور محبت رسول ﷺ سے کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ اپنے ہر نیک عمل کا آغاز محمد عربی ﷺ کی تعریف سے ہی آغاز کیا جائے ان کے ذکر کے بغیر کچھ بھی نہیں نہ کوئی برکت نہ کوئی بہتری اور نہ ہی جنت کا حصول ممکن ہے کیونکہ وہی کامل ترین ہستی دنیا کی تمام تر مخلوقات کے لئے رحمت کا دائمی سر چشمہ ہے،اس دھرتی (بر صغیر )میں انگریز نے اپنی ناپاک چال سے ہمارے اندر بظاہر مسلمانوں کے لبادے میں ناسور گھسا دیئے اب کئی گستاخان رسول ﷺ قادیانی اور مرتدہماری صفوں میں بھی شامل ہیں ایسے مکروہ عناصر کی ناپاک سازش کو ناکام بنا نا ہی ہم سب کا اولین فرض ہے اس کے بغیر عشق رسول ﷺ کے تمام درجات مکمل ہی نہیں ہوتے اور ان سے تعلق رکھے والا عاشق رسول ہو ہی نہیں سکتا بلکہ اس کی مسلمانیت پر بھی شک ہے ،انہوں نے بتایاایک مرتبہ حضور نبی مکرم ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول ﷺ جنت کی اتنی خوبصورتی کی وجہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس راز کو تو میرا مالک ہی جانتا ہے اسی وقت جبریل امین ؑ آپ کے پاس تشریف لائے اور کہااے نبی اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ انہیں کہ و د صرف جنت ہی کیا بلکہ زمین و آسمان کی چیز میں حسن ،خوبصورتی ،نکھار اور شادابی آپ کی وجہ سے ہی ہے، جو وجہ تخلیق کائنات ہو ان کے بغیر کائنات خوبصورت ہو بھی کیسے سکتی ہے،پیر احمد جمال ؒ نے بتایا کہ چند دن پہلے اس علاقہ کے اساتذہ کرام کاوفد دربار شریف پر آیا اور کہاکہ ہم کئی مہینوں سے سوچ رہے تھے ہمارے پسماندہ ترین علاقے میں ترقی کیسے ہو گئی پھر ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہاں حضرت پیر ثناء محمد ؒکی آمد نے ہی اس علاقہ کو بدل کر رکھ دیا،پیر احمد جمال چشتی ؒ کی سخاوت،حسن سلوک،نورانیت،ان کے چہرہ مبارک سے ہمہ وقت جھلکتی ہے ،یہ حقیقت ہے کہ جو جتنا اللہ کے نزدیک پیارا،محبوب الہٰی کا عاشق اور خلق خدا کے ساتھ ہر وقت محبت ہی بانٹتے رہیں انہیں ہی روحانیت اور نورانی جیسے چہرے والی صفات ہی حاصل ہوتی ہیں،دور دراز اور وہ بھی روزانہ کی بنیاد پر وہاں وگوں کا تانتا بندھا رہنا بھی ایسے تو نہیں ہو جاتا، الراقم اپنی صحافتی زندگی میں کئی درباروں پر گیا،کئی پیر صاحبان سے ملا ،درجنوں کی تعداد میں میرے دوست بھی ہیں مگر وہاں اگر کسی ولی اللہ کا مزار مبارک ہے تو وہاں رونق اور قلبی سکون تو ضرور ملتا ہے مگر ان کی جانشینوں پر بات کرنا مناسب نہیں بلکہ وہ بیان سے بھی باہر ہے وہاں صرف جاہلیت ملتی اور نظر آتی ہے مگر یہاں کی تو دنیا ہی اور ہے ،کہتے ہیں پیر کامل ہو تو یقیناً انسان صراط مستقیم پر ہی گامزن ہوتا ہے اور وہاں اس کا عملی نمونہ نظر آتا ہے ہر وقت حضور اکرم ﷺ پر درود پاک کا سلسلہ جاری رہتا ہے یہاں آکر سکون قلب اور ایمان کی تازگی کا احساس ہوتا ہے،پیراحمد جمال چشتی سے عوام کی والہانہ محبت اور عقیدت اپنی مثال آپ ہے ،سجادہ نشین دربار عالیہ حضرت پیر ثناء محمد چشتی ؒ کے سجادہ نشین پیر احمد جمال چشتی کے دو صاحبزادے سید حسن فرید چشتی اور سید نور مصطفیٰ چشتی ہیں جو اپنے آبائو اجداد کی طرح عوام سے محبت کرنے والے اور عاشق رسول ﷺ ہیں،وہاں آنے والے مریدین کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں، دربار شریف پر آنے والے تمام زائرین کو تین وقت کا بہترین کھانا (لنگر)دیا جاتا ہے ، ہر سال کی طرح اب بھی فرید پور شریف تحصیل تاندلیانوالا میں جشن عید میلاد نبی ﷺ کی بہت بڑی محفل کا انعقاد19اور20اکتوبر کیا جارہاہے ،19اکتوبر کو بعد از نماز عشاہ محفل پاک کا آغازعالمی ایوارڈ یافتہ قاری کرامت علی نعیمی تلاوت کلام پاک سے کریں گے،سید زنیب مسعود،اظہر امین برادران ساجد علی اور غلام مرتضیٰ ہدیہ نعت بحضور کونین ﷺ کا شرف حاصل کریں گیلاہور سے تعلق رکھنے والے نامور خطیب اہل سنت علامہ محمد اقابل چشتی خطاب فرمائیں گے،20اکتوبر کو صبع9بجے نصر حیات معینی تلاوت پاک،ہدیہ نعت شریف اظہر امین برادران ،محمد اکرم دردی،محمد عثمان رانجھا اور علامہ جمال الدین بغدادی (راولپنڈی )کے خطاب کے بعد ملک کے نامور قوال محمد آصف منظور حسین المعروف سنتو خان محفل سماع کا سماں باندھیں گے دونوں محافل پاک میں نقابت کے فرائض صابر حسین ساغر کے ذمہ ہیں جس میں نہ صرف اندرون بلکہ بیرون ملک سے بھی ہزاروں مریدین اس محفل پاک میں شرکت کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں اور ان کی آمد کا سلسلہ کئی روز سے شروع بھی ہو چکا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.