تفریق بذریعہ تعلیم

2,733

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔دنیا میں کوئی معاشرہ ایسا نہیں جو ترقی و خوشحالی کی منازل تک پہنچنے کے لیے تعلیم کی بنیادی اہمیت سے انکاری ہو۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ایجوکیشن نہ ختم ہو نے والی ایسی تحریک ہو سکتی ہے جو اقوام کو تایکی سے نکال کر اجالوں کی طرف لے جاتی ہے اگر برصغیر کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو صدیوں سے یہ خطہ ثقافت ، تہذیب و تمدن اور تعلیم کا گہوارہ رہا ہے تاہم شہنشاہ اکبر کے زمانے میں اس حوالے سے ایک باقاعدہ اور منظم نظام ترتیب دیا گیا۔ جس کے تحت رسمی اور غیر رسمی تعلیم دی جاتی تھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے برصغیر پر مکمل قبضے کے ابتدائی 60سالوں میں مقامی لوگوں کیلئے تعلیم کے حوالے سے کوئی عملی اقدامات نہیںاٹھائے گے لیکن جب انگریز سرکار کو حکومتی کاروبار چلانے کیلئے لوگوں کی ضرورت پیش آئی تو 1813میں اس کے بارئے میں پالیسی بنانے کیلئے سنجیدگی سے غور شروع ہوا۔ غلام قوم کیلئے کس قسم کی تعلیمی اصلاحات کی جائیں؟ زبان اور سیلبس جیسے سوالات کے جواب تلاش کئے جانے لگے ۔ 1835میں یہ طے پایا کہ سائنس اور انگریزی ادب انڈین کو پڑھایا جائے۔ مقامی زبانوں کے ساتھ انگریزی زبان بھی سیکھائی جائے ۔ ایسٹ انڈین کمپنی کی یہ اصلاحات صرف اور صرف امراء اور بااثر طبقات کیلئے رکھی گئیں کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے جب تک با اثر طبقہ فارن حکمرانوں کے طورو اطوار نہیں سمجھتا اور ان کی پیروی نہیں کرتا عوام کو اپنے قابو میں رکھنا مشکل ہو سکتا ہے اس سوچ کو Infiltration theoryکا نام دیا گیا اس تھیوری پر عمل کرتے ہوئے ایک ایسا طبقہ پیدا کیا گیاجو رنگ اور نسل میں تو انڈین تھے لیکن سوچ اور مفادات کے حوالے سے مکمل طور پربرطانوی غلام۔
1854میں پہلی تعلیمی پالیسی ترتیب دی گئی جس کے ذریعے کلرکوں اور دیگر انتظامی امور کی انجام دہی کیلئے مقامی افراد کی ایک پود تیار کی گئی کیونکہ انگلستان سے ان کاموں کیلئے گوروں کو لانا حکومت کو مہنگا پڑتا تھا۔ انگریز دورحکومت میں شرح تعلیم کم تھی اور خواتین کی تعلیم پر توجہ نہ ہونے کے برابر تھی خواتین کی ملازمت پر مکمل پابندی تھی اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے انگریز سرکار نے بھی اس حوالے سے اصلاحات پر کوئی توجہ نہ دی اورخواتین کو علم سے محروم رکھنے میں اپنا کردار با خوبی نبھایا۔ اس مختصر جائزے کے بعد اگرہم پاکستان میںگذشتہ 72سالوں کے نظام تعلیم کا سرسری جائزہ لیں تو آئین کا آرٹیکل 25-Aحکومت کو پابند بناتا ہے کہ وہ 5سے 16سال تک کے ہر بچے اور بچی کو مفت تعلیم فراہم کرئے۔لیکن آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھنے والے آمر حکمرانوں نے پاکستان میں انگریز سرکار کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے طبقاتی نظام تعلیم کو جاری رکھا بلکہ اس کی جڑیں اور مضبوط کرنے کے لیے ایسا نصاب تعلیم بنایا جس کے ذریعے لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کا زبر دست بندوبست کیا گیا ہے۔اس وقت وطن عزیز میں کئی نظام تعلیم رائج ہیں پرایئویٹ سکولوں ( جن میں مذید تین طرح کی تقسیم ہے ) سرکاری سکول اور مدرسے وغیرہ ۔ پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں کے مطابق درجہ بندی کی جاتی ہے ان میں lower، middleاور upperکلاس کی نمائندگی ہوتی ہے لیکن سرکاری سکولوں اور مدرسوں میں پاکستان کے 80فیصد غریب آبادی کے بچے پڑھنے لکھنے کا ہنر سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن تعلیم اور علم ان کی پہنچ میں کبھی نہیں آتا۔ اپنے بچوں کو مدرسوں میں داخل کروانے والے والدین خود کو بچوں کی دیکھ بھال کے تمام فرائض سے آزاد کروا کے اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
روایتی تعلیم کے علاوہ فنی تعلیم کی اہمیت کو اپنے انگریز حکمرانوں کی پیروی کرتے ہوئے یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے ہماری موجودہ تعلیمی پالیسی قابص حکمرانوں کی تعلیمی پا لیسوں کا تسلسل ہی ہے اور انھیں کی سازشوں اور سوچ کی عکاسی کرتی ہے اس وقت ملک میں 75000سے زائد عام تعلیم ادارے ہیں لیکن فنی تعلیم و تربیت کیلئے فقط 1500کے قریب انسٹی ٹیوٹ چل رہے ہیں لیکن ان کی کار کردگی اور معیار پر کئی سوالیہ نشان ہیں۔ پاکستان دنیا کے کم ترین خواندگی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ظلم نائیجیریا نے ہم سے پہلے نمبر پر آنے کا عزاز چھین لیا ورنہ ہماری حکومت توفسٹ آنے کے لیے دوڑ میں شامل تھی۔ اسی نظام تعلیم کے ساتھ 5اکتوبر کو انٹرنیشنل ٹیچر ڈے منایاگیا ۔ یہ دن 1994سے یونیسکو اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کی تجویز پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد اساتذہ کی recuitment، تربیت وتعلیم کے مواقعے، کام کے حالات کار کا جائزہ لینا، اساتذہ کی تحسین و ترقی کے ذریعے دنیا کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور teachingکے نئے اور منفرد طریقوں پر غورو فکر کرنا ہے ۔ لیکن پاکستان میں اساتذہ کا عالمی دن مناتے ہوئے ہمیں ان تمام teachers کو نہیں بھولنا چاہیے جو شاگردوں کی اصلاح کے لیے کئے جانے والی کاوشوں کے صلے میں اپنی جان سے گئے اور مذید ستم یہ تھا کہ یہ ظلم ڈھانے والے اپنے کئے پر شرمندہ بھی نہیں ۔ استاد کے احترم کا یہ عالم ہے کہ کرپشن کے بے بنیاد الزام پران کو ہتھکڑیوں کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تنخواہ میں اضافے اور بہتر ورکنگ کنڈیشن کیلئے احتجاج کرنے والے مرد اور خواتین اساتذہ پر لاٹھی چارج کرتی پولیس ، ہماری اخلاقی اقدارکی زبوں حالی کی بھر پور نشاندہی کر رہی ہے۔ ان حالات کو بدلنے کے لیے بہت کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے صرف ایک نظام تعلیم کا نعرہ کافی نہیں۔ تعلیمی پالیسی ، تعلیمی نصاب اور teachersکی تربیت کے حوالے سے موثر اور قابل عمل حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو اکیسویں صدی کے چیلنجز کومدنظر رکھتے ہوئے بنائی جائے۔جسے کوئی جاب نہیں ملتی وہ ٹیچر بن جاتا ہے اس سوچ اور رویے کو بدلنا ہو گا ۔تعلیم و تربیت کے روایتی طریقوں کوترک کرتے ہوئے جدید نصاب اور جدید تعلیمی ادارے بنانے ہوں گے تب ہی ہم ایک نظام تعلیم اپناتے ہوئے اپنے اساتذہ کو حقیقی خراج تحسین پیش کر پائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.