ایک بلیک کامیڈی۔۔۔۔۔۔

2,515

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔حاضرین میںجو جوش و ولولہ تھا اس کی تو بات ہی نہ پوچھیں، یو ں محسوس ہو تا تھا کہ ایک نیا ورلڈآڈر تیار ہو رہا ہے اور سب کو ایک یقینی فتح نظر آرہی ہے۔ ما حول کی گر ماہٹ نے مقررین کی تقاریر میں بھی بارود بھر دیا تھا ، منہ سے آگ بر ساتے ہو ئے وہ اپنے پیروکاروں کو دیوار کو آخری دھکا دینے کا مشورہ دے رہے تھے خود کو سب سے بالاتر اور عظیم ترین ہونے کا دعوی کر نے والے دشمن کو دھمکا رہے تھے کہ اس کے دن گنے جا چکے ہیں۔ تقاریر کے درمیانی وقفوں میں نوجوان شرکا جو شیلی آوازوں میں اپنے لیڈروں کی تعریف و ثنا میں گیت گانے لگتے اور سٹیج پر بیٹھی سیئنر قیادت فخریہ انداز میں اپنے درمیان بیٹھے مہمان خصوصی کے کان میں سرگوشیاں کرنے لگتے ۔ موسم برسات کا اختتام ہو چکا ہے اور آنے والے مہینوں کیلئے اپناپلان آف ایکشن سب کیساتھ shareکرنے کیلئے یہ خصوصی اجلاس بلایا گیا جسمیں ہر رنگ، نسل، عمر اور صنف کا مچھر موجود ہے مچھروں کے اس سالانہ اجلاس میں مقررین باری باری حضرت انسان کو ناکوں چنے چبوانے کے دعوی کر رہے تھے جس پر اجلاس کے شرکاء اپنی خوشی اور تعریف کا اظہار تیز ترین بھنبھناہٹ سے کر رہے ہیں ۔ ایک سیئنر مچھر نے اپنی شارپ آواز میں حاضرین کو بتایا کہ اپنے کو اشر ف المخلوقات سمجھنے والے انسان کو ہم تگنی کا ناچ نچا رہے ہیں ۔ اپنی بد نظمی اور غفلت کی وجہ سے اس نے آبادیوں کو گندگی اور کوڑے کے ڈھیر میں بدل دیا ہے سوائے poshعلاقوں کے گندے پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ جوہڑ بن گئے ہیں ۔ صفائی کا کوئی باقاعدہ اور منظم نظام کام نہیں کر رہا ہے جسکا فائدہ سب سے زیادہ ہماری نسل کو ہو رہا ہے اور ہماری تعداد میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔ لوگوں کی اکثریت خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہاتھ پیٹنے، اپنے کو کھجانے اور بے زاری میں ایک دوسرے کو برابھلا کہنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہی۔ یہ سننا تھا کہ حاضرین اجلاس نے جذبہ ستائش میں سارے ماحول کو اپنے سر پر اٹھا لیا اور لگے ایک دوسرے کو مبارکیں دینے اور انسان کی کم عقلی پر جگتیں مارنے ۔جب شور رکنے میں نہ آیا تو سٹیج سیکرٹری کو مداخلت کرنی پڑی کہ حاضرین !مچھروں کے اصل کارنامے تو ابھی آپ نے سنے ہی نہیں ، دل تھام لیں کہ اب باری آتی ہے ہمارے مہمان خصوصی مسٹر ڈینگی کے انقلابی خیالات سے استفادہ اٹھانے کی۔ یہ اعلان سنتے ہی سب خوشی سے جھوم اٹھے اور لگے آفرین آفرین گانے۔ اس پر جوش ماحول میں جب مسٹر ڈینگی ڈائس پر آئے تو سب نے کھڑے ہو کر فلک شگاف نعروں سے مسٹر ڈینگی کا استقبال کیا۔ مسٹر ڈینگی نے سرپرستانہ انداز میں سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیںخاموشی سے بیٹھ جانے کو کہا ۔ یہ سننا تھا کہ ہر طرف مکمل خاموشی چھا گئی۔مسٹر ڈینگی نے طاہرانہ نظروں سے شرکا ء کا جائزہ لیتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ اگرچہ میر ے پاس سال کے بارہ مہینوں میں سے صرف چند مہینے ہوتے ہیں اپنی نسل کی خدمت کرنے کیلئے لیکن اس مختصر وقت میں بھی میں دشمن کی صفوں میں گھس کر وہ تباہی مچاتا ہوں کہ اپنے کو عقل ودانائی اور کا ئنات کو سر کرنے کا دعوی کرنے والا انسان بے بس ہو کر رہ جاتا ہے ۔ جب میںکسی کو کاٹتا ہوں اور ڈاکٹراس کو بتاتا ہے کہ تمھیں ڈینگی بخار ہے تو آدھی جان اس کی تبھی نکل جاتی ہے ۔ مجھ پر قابو پانے میں اپنی ناکامی کو انسان یوں چھپاتا ہے کہ اب وہ ہماری فتح کو undermineکرنے لگا ہے اور کہا جانے لگا ہے کہ ڈینگی مچھر انسان کو نہیں مارتا بلکہ ڈینگی کے کاٹنے سے فر د کو لاحق دوسری بیماریوں کے جراثیم حرکت میں آجاتے ہیں جس سے موت واقع ہو جاتی ہے ورنہ ڈینگی اس قابل کہاں؟
یہ سننا تھا کہ چاروں طرف سےshame shameکے نعرے بلند ہونے لگے ۔ ہاتھ کے اشارے سے سب کو خاموش رہنے کا کہہ
کر ڈینگی نے مسکراتے ہوئے کہا جسم کے ساتھ ہم انسانی دماغ پر بھی کاری ضرب لگا رہے ہیں ۔ انسان کی بے بسی دیکھیں کہ میری پیدائش سے افزائش تک ہر مرحلے سے آگاہ ہونے کے باوجود وہ میرا سدباب کرنے میں بری طرح سے ناکامی کا شکار ہے سمجھتا تھا کہ دنیا سے ملیریا ختم کر دیا ہے لو اب ڈینگی بخار ختم کر کے دیکھاو۔دنیا مجھ پر ریسرچ کر رہی ہے۔لیکن ابھی تک کوئی ویکسنیش نہیں بنا پائے۔جب میں کسی فرد کو دینگی بخار میں مبتلا کر دیتا ہوں تو پھر اس شخص کے ذریعے میں عام مچھر کو بھی ڈینگی کا سفارتکا ر بنا دیتا ہوں۔ اس پر شرکاء نے ڈینگی ڈینگی کے نعرے لگائے۔ ڈینگی نے فاتحانہ انداز میں کہا کہ یہ سب باتیں جانتے ہوئے بھی یہ انسان کچھ نہیں کرتے ،صرف چند افسروں کو عہدوں سے ہٹا کر ، عام لوگوں پر ایف آئی آر کروا کر ، میڈیا کے ذریعے میرے کنٹرول اور سدباب کے دعووں کے علاوہ کچھ نہیں کرتے ۔ سارا سال غفلت کی نیند سوتے ہیں میر ے الارم پر جاگتے ہیں ایک دوسرے کو موردالزام ٹھراتے اور کوستے ہیں اور پھر موسمی تبدیلی کے باعث میرے خاتمے پر ایک بار پھر بے خبری کی گہری نیند سو جاتے ہیں۔میں دنیا کے 100سے زائد ممالک میں پایا جاتا ہوں زیادہ تر ملکوں میں میرے تدارک کیلئے سارا سال اقدامات کئے جاتے ہیںلیکن پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں میر ے کہر ڈھانے کے بعد بھی کوئی موثر حکمت عملی نہیں اپنائی جاتی۔رنگ، نسل ، زبان، علاقے، قوم اور مذہب کی بنیاد پر حکمران ایک دوسرے کو فتح کرنے اور اپنی حفاظت کے نام پر خطرناک ہتھیاروں کی تیاری پرکھربوں صرف کرنے میں مصروف ہیں لیکن عوام کو ایک مچھر سے نہیں بچا سکتے۔
ان بے حیثیت ، خود غرص ، مفاد پرست اور دولت کے پجاری انسانوں سے مقابلہ کرنے میں کچھ خاص مزا تو نہیں پر عقل کل کہلانے والے ان انسانوں کو ہرانا اچھا لگتا ہے اور ہماری جیت کا سفر تب تک جاری رہے گا جب تک چاند پر زندگی کی تلاش میں زمین پر زندگی کے خاتمے کا انتظام کرنے، ادویات بنانے والی کمپنیاںاپنا منافع دگنا کرنے، امیر اور غریب کے فرق کو بڑھانے اور انسان ایک دوسرے کی فلاح و بہبود کی بجائے ایک دوسرے کی تباہی میں مگن ہیں۔ مہمان خصوصی کی تقریر کے ساتھ ہی تالیوں کی گونج میں مچھروں کے کامیاب اجلاس کا اختتام ہو گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.