عمران خان کا جنرل اسمبلی میں تاریخی خطاب ۔بھارتی مکروہ چہرہ بے نقاب

25

تحریر:صابر مغل ۔۔۔۔وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے جنرل اسمبلی کے 74ویںاجلاس کے دوران میں ایک تاریخی تقریر کرتے ہوئے نہ صرف بھارتی مکروہ چہرہ نقاب کیا بلکہ اسلام فوبیا اور مغرب کی دوغلی پالیسی کو بھی فی البدیہ تقریر میں اجاگر کیا،عمران خان نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور جگانے کے لئے بہت کچھ کہا،انہوں نے 27فروری کے بعد پھر انڈین جارحانہ پالیسی ،کشمیر کامقدمہ بہترین انداز میں پیش کرتے ہوئے مودی کے چہرے سے نقاب اتار پھینکا،مودی کی دہشت گردانہ سوچ اور حکومت کا پردہ چاک کر ڈالا،ان کی مجموعی طور پر کشمیر پر فوکس رہی بھارتی مظالم پر شیم شیم واضح کرنے اور اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے پرہال تالیوں سے گونجتا رہا، عمران خان کی تقریر پر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی توجہ مرکوز تھی ،وہ پوری مسلم امہ کے بہترین لیڈر کے طور پر سامنے آئے تقریباً40منٹ کی طویل تقریر جو بلا شبہ ایک تاریخی تقریر تھی جو مغربی دنیا کی غلط فہمیوں اور آنکھیں کھولنے کے لئے تھی انہوں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا نام دنیا کے سب سے فورم پر لیا، یہ تقریر دنیا کے ہر فردجن میں بھارتی عالمی غنڈہ گردی پر خاموش رہنے والوں کے منہ پر تھپڑ اور بولنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا ،انسانی حقوق کے علمبرداروں کی خاموشی اور مغربی دنیا کی جانب سے منی لانڈرنگ جیسی لعنت کی حوصلہ افزائی پر سوال اٹھا دئیے،مسلم امہ کی اس حوالے سے پر اسرار خاموشی پر حیرانگی کا اظہار کیا دنیا کو بتا دیا کہ ایسے حالات پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیں گے کوئی بھی نہیں بچ پائے گا،عمراں خان نے اس خطے کی،انصاف کی بات کی بتایا کہ کیا ہوا ،کیا ہو رہا ہے اور کیا ہو سکتا ہے،کشمیر کا مسئلہ کسی بھی عالمی ورم پر اس سے بہتر انداز میں پیش نہیں کیا جا سکتا عمران خان وائس آف کشمیر کے حوالے سے تقریر کے ساتھ ہی دنیا میں ٹاپ ٹرینڈ بن گئے،ان سے 3درجے قبل مودی نے خطاب کیا تھا محض پانچ منٹ کی تقریر میں آئیں بائیں شائیں کرتے رہے اور عمران خان کی تقریر سے قبل ہی وہاں کھسک گئے ان کی خالی کرسی شرمناکی کو عیاں کر رہی تھی دیگر بھارتی شرکاء محض ادھر ادھر دیکھتے اور پریشان کن اور مرجھائے رہے عمران خان سے قبل سنگا پور کے وزیر اعظم لی ہیسن لونگ اور بعد میں جمیکا کے وزیر اعظم اینڈرولیولس نے خطاب کیا،جنرل اسمبلی کے باہر بھی ہزاروں افراد نے کشمیریوں اور مودی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی،نیوزی لینڈ بھی سخت احتجاج ہوا،ان کی تقریر میں مسئلہ کشمیر کو بڑی کامیابی سے اجاگر کرنے کو ہر شخص نے سراہا سوائے ان کے جو لوٹ مار بچائو کے حوالے سے اپنے لیڈران کی چمچہ گیری کرتے ہیں اور وہ نام نہاد مبصرین جو بولی لگوانے میںشہرت یافتہ ہیں،ایک ٹی وی ٹاک شو میں اسی لمحے پی پی پی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عارف حسن نے کہا یہ کریڈٹ عمران کا نہیں بلکہ مودی نے دیا ہے ،شرم مگر تم کو نہیں آتی ،وزیر اعظم پاکستان نے اپنی تقریر کا آغاز قرآنی آیات سے کیاان کی فی البدیہ تقریر چار اہم ترین نکات پر مبنی تھی جن میں موسمیاتی تبدیلی ،منی لانڈرنگ،مسلم مخالف جذبات اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم،انہوں نے کہا دنیا میں تیزی سے گلیشیرپگھل رہے ہیں ایک اندزے کے مطابق5ہزار گلیشیر پگھل چکے ہیں اگر ہم نے اس مسئلہ پر توجہ نہ دی تو دنیا ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو گی اس حوالے سے ہم ٹاپ ٹین میں شامل ہیں ہم نے بہت درخت لگائے مگر صرف ایک مملکت کچھ نہیں کر سکتی،دورسا اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہر سال غریب ممالک سے اربوں ڈالر نکل کر امیر ملکوں میں پہنچ جاتے ہیں جس سے غریب ممالک تباہ جبکہ امیر ممالک مزید ترقی کر جاتے ہیںمنی لانڈرنگ پر شور مچانے والے ہی منی لانڈرنگ کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ہم نے مغربی دار لحکومتوں میں کرپشن سے لی گئی جائدادوں کا سراغ لگایا مگر ہمیں رقم واپس لینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ایسے ممالک لٹیروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں،غربت کے خاتمہ میں سب سے بڑی رکاوٹ منی لانڈرنگ ہے، اسلام فوبیا سے متعلق عمراں خان نے کہانائن الیون کے بعدمسلم دشمنی میں یہ پروان چڑھایا گیا،دنیا میں کوئی ریڈیکل اسلام نہیں اسلام میں دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں بلکہ دہشت گردی کا تو کوئی مذہب ہوتا ہی نہیں،صرف ایک اسلام ہے جس میں کوئی درجے نہیں جو ہمارے نبی اکرم ﷺ لے کر آئے،چند مغربی ممالک کے رہنمائوں کی متضاد باتوں سے غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں اور اسلامو فوبیا پھیل رہا ہے،مسلمانون میں مایوسی ہے کہ انہیں دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے ،نائن الیون کے بعد کہا گیا خود کش بمبار مسلمان ہیںمگر کسی نے یہ تحقیق نہیں کی کہاس سے قبل خود کش حملے سری لنکن تامل کرتے جن کا مذہب ہندو تھا لیکن کسی نے ان کو نہیں جوڑا، مگر یہ بھی بنیاد نہیں بلکہ جنگ عظیم میں جاپان کے طیاروں نے خود کش حملے کئے تھے،انگلینڈ سمیت مغربی ممالک ان معاملات کو نہیں سمجھتے مغرب میں مذہب اسلام کو بالکل الگ نظر سے دیکھا جاتا ہے انہیں معلوم ہی نہیں کہ ہمارے لئے مذہب کی کیا اہمیت ہے لہٰذا جب ہمارے نبی اکرم ﷺ کی توہین کی گئی تو اس کا رد عمل سامنے آیااس کے نتیجہ میں یہ تصور کر لیا گیا کہ اسلام عدم برداشت پر مبنی مذہب کا نام ہے،چند ممالک میں حجاب کو ہتھیار سمجھا جاتا ہے وہ اس لئے کہ اسلام فوبیا ہے وہاں حجاب پر پابندی ہے اور انہیں اس سے مسئلہ ہے کچھ ممالک میں کپڑے اتارنے کی تو اجازت ہے لیکن پہننے کی نہیں ہے،دنیا میں پہلے فلاحی ریاست کی بنیاد مدینہ منورہ میں ڈالی گئی جس میں کمزور کے حقوق کا خیال اور امیروں پر ٹیکس عائد کر کے غریبوں کو سہولیات فراہم کی گئیں اسلام میں سب برابر ہیں غلاموں نے بادشاہت کی ہم چاہتے ہیں کہ آزادی اظہار کو ہمارے نبی ﷺ کی تضحیک اور توہین کے لئے استعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس سے ہمیں بے حد تکلیف ہوتی ہے اعتدال پسند اور انتہا پسند کی اصلاحات سے ہم متفق نہیں،تقریر کے آخری حصہ میں عمران خان نے کشمیر پر کھل کر بات کی اور کہا یہ معاملہ بہت سنجیدہ ہے اورمیرا یہ اہم مقصد ہے،مگر واضح کر دوں کہ میں جنگ کے بہت خلاف ہوں،ہم پہلے ہی دہشت گردی کا شکار ہیںجس میں ہماری70ہزار جانیں قربان اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا،امریکہ کی معاونت سے افغانستان میں پہلے مجاہدین تیار ہوئے بعد میں انہی مجاہدین کو مدد فراہم کر کے ہمارے دشمن ممالک نے ہمارے خلاف بطور دہشت گرد استعمال کیا،ہم بھارت کے ساتھ باہمی تعلقات چاتے تھے مودی سے بھی ایسا کہا مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا،پاکستان میں کوئی شدت پسند تنظیم نہیں مگر بھارت ہم پر الزام لگاتا ہے،ہم نے اقتدار میں آکر مزید اقدامات کئے یہ ثابت کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو دعوت دی،دہشت گرد گروپ کسی کے حق میں نہیں کیونکہ اس سے ہمارے خلاف جنگ اور کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے،مودی نے ہم پر الزام لگایا ہم نے کہا تمہاری سر زمین سے ہمارے بلوچستان پر حملے جاری ہیں جس کا ثبوت حاضر سروس بھارتی کمانڈر اور جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہے،بھارت میں ہٹلر اور آریہ نظریات کے حامیوں RSSکی حکمرانی ہے یہ نظریہ نسلی بالا دستی پر یقین رکھتا ہے جو انڈیا میں نسل کشی کرنا چاہاتا ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ہے یہ نظریہ نفرت کا نظریہ ہے کوئی بالادستی کی سوچ اپناتا ہے تو غرور اور تکبر کا شکار ہو اجاتا ہے اسی چیز نے مودی سے کشمیر والا یہ فیصلہ کروایا مودی نے پہلے کہا تھا ہم نے ٹریلر دکھایا ہے پاکستان کو فلم بھی دکھائیں گے، مہاتما گاندھی کا قتل بھی اسی نظریئے کے تحت ہوا تھا، مودی کی وزارت اعلیٰ کے نیچے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا،بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے 5اگست سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے وہاں کرفیو نافذ ہے،وہاں سینکڑوں سیاسی رہنمائوں اور 13ہزار سے زائد نوجوانوں کو اٹھایا گیا جن کا ان کے والدین کو بھی کچھ پتا نہیں ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ،کرفیو اٹھنے کے بعد وہاں خون کی ندیاں بہنے کا اندیشہ ہے،کسی نے سوچا انڈیا کے 18کروڑ مسلمان اس وقت کیا سوچ رہے ہوں گے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کیا ہوں گے عالمی برادی کی خاموشی پر اگر یہ لوگ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ کیا وہ کسی کم تر خدا کے بچے ہیں جب دل دکھتا ہے تب ہی بندوق اٹھائی جاتی ہے رونہگیا میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا اب کشمیر میں کیا ہو رہا ہے بین الاقوامی برادی کو چاہئے کہ وہ دو ارب کی آبادی والی مارکیٹ کو خوش کرنے کی بجائے ابڈیا کو کشمیر پالیسی بدلنے پر مجبور کریںمگر اسوس کہ مادیت پسندی انصاف پر غالب آ چکی ہے، بھارت الزام لگاتا ہے ہم نے 500دہشت گرد ان کی سرحد پر بھیج رکھے ہیں کیا اس کی وہاں تعینات9لاکھ فوج ان کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ،ہم خبردار کرتے ہیں کہ اگر بھارت نے کچھ کیا تو اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے،میں یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ یہ بہت نازک موقع ہے اس صورتحال پر رد عمل ہو گاکچھ بھی غلط ہوا تو اچھے کی امید نہ رکھی جائے ہم کسی بھی جارحیت سے نبٹنے کے لئے مکمل تیار ہیں،تصور کریں اگر سات گنا چھوٹے ملک پر حملہ کیا گیا تو پھر اس کے پاس کیا موقع ہو گا؟ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے بلکہ آخری سانس تک اپنی آزادی کے لئے لڑتے رہیں گے،کشمیریوں پر ظلم بہت بڑی آفت لائے گا،اگر برطانیہ میں80لاکھ جانوروں کو کشمیریوں کی طرح بند کر دیا جائے ،اگر لاکھوں یہودیوں کو اسی طرح محصور کر دیا جائے تو بھی مغرب خاموش رہتا،یہ سب روکنا اقوام متحدہ کی اولین ذمہ داری ہے کیونکہ یہی فورم ہے جو کشمیری عوام کو ان کے حق خود ارادیت کی ضمانت دے سکتے ہیں جن کے لئے وہ مشکلات کا شکار ہیں اگر کچھ غلط ہوا تو اچھے کی امید نہ رکھی جائے،یہی موقع ہے ایکشن لینے کا پہلا ایکشن یہ ہے کہ بھارت فوری کشمیر سے کرفیو اٹھا لے،عمران خان نے کہا میں یہ سوال خود سے پوچھتا ہوں کہ ایسے میں ہم کیا کریں گے تو جواب ملتا ہے میرا ایمان لا الہ اللہ (اللہ کے سوا کوئی نہیں ) ہے تو ہم لڑیں گے اور جب تک جوہری ہتھیار کا حامل ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے اس سے ہم ہی نہیں دنیا تباہ ہو جائے گی پاک بھارت جوہری جنگ دنیا کو نگل لے گی ،میں دھمکی نہیں دے رہا وارننگ دے رہا ہوں،عمران خان کی اس بات پر ایوان تالیوں سے گونج اٹھا،یہ اقوام متحدہ کے لئے ٹیسٹ کیس ہے انڈیا نے اقوام متحدہ کی قرادادوں کو تار تار کیا ہے اسی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اب تک لاکھوں کشمیریوں کو شہید کا جا چکا ہے،جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان نے پوری مسلم امہ کی ترجمانی کی بلکہ ان کا سر فخر سے بلند کر دیا،ترکی کے صدر طیب اردگان کی بھی مسئلہ کشمیر پر تقریر تاریخ میں امر رہے گی،عمران خان نے اپنے مصروف ترین 7روزدورہ کے دوران امریکہ میں نہ صرف مسئلہ کشمیر بلکہ بہت سے اہم معاملات جیسے افغان عم،ایران امریکہ تنازعہ،خلیج کی صورتحال سمیت ،ایشیا سوسائٹی ،دیگر اہم امور پر عالمی فورمز سے خطاب اور رہنمائوں سے ملاقات کی ، امریکی قانون ساز،اسکالرز،انسانی حقوق کا کراکنون،کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی تھواری ،زلمے خلیل زادہ،ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل کومی نائیڈو،عالمی بنک کے صدرڈیور میلپس،سوئاس کنفیڈریشن کے صدر اولی مرر،بل اینڈ میلنڈ گیٹس فائونڈیش کے سربراہ بل گیٹس،وال اسٹریٹ کی ادارتی بورڈ،ہیومن رائٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ،امریکی تھنک ٹینک فار فارن ریلیشنز،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،ایرانی صڈر حسن روحانی،ترکی صدر طیب اردگان،ملائشین وزیر اعظم مہاتیر محمد،برطانوی وزیر اعظم بروس جانسن،نیوزی لیند کی وزیر اعظم جیسنڈر آرڈن،چین کے نائب صدر سوانگ ژی اور اقام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت م ایک درجن سے زائدعالمی رہنمائوں سے بھی ملاقات کی ،اب عمران خان ایران ،امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا بھی کردار ادا کریں گے،تاہم ایران کے صدر حسن روحانی کی جانب سے تقریر میں مسئلہ کشمیر کا ذکر نہ کرنا معنی خیز ہے،دیگر اسلامی ریاستوں کی جانب سے بھی اس اہم مسئلہ پر پر اسرار سرد مہری ،خاموشی کے ساتھ تجارتی و اقتصادی معاہدات حیرت انگیز ہیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر مغربی طاقتوں کا دوہرا معیار عالمی انصاف میں بہت بڑی رکاوٹ ہے،ترکی کی طرح ایک بھی ایسا ملک نہیں جس نے واضح ترین انداز میں اپنا مئوقف پیش کیا ہو،چین اور روس کی حمایت ہمارے لئے قابل فخر ہے،انڈیا کی جانب سے بد ترین درندگی ،دہشت گردی اور ریاستی جبر و ظلم و ستم ایک انتہا ہے انڈیا پر عالمی دبائو کیوں نہیں یا وہ کسی کو خاطر میں لانے کو کیوں تیار نہیں یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے،شاید اس کی سب سے بڑی وجہ کوئی گھنائونی سازش ہے جس میں اسے امریکہ ،اسرائیل ،برطانیہ وغیرہ کی حمایت حاصل ہے ،ممکن ہے پاکستان کے کچھ اندرونی عناصر بھی ایسا ہی چاہتے ہوں یا اس کا حصہ ہوں،کچھ بھی ہو یا کوئی بھی ہو ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ وہ شہادت تو قبول کر لیتا ہے مگر خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جھکتا نہیں،سیاسی و مذہبی شخصیات ڈاکٹر طاہر القادری،ر الزمان کائرہ ،بابر اعوان،سردار عتیق،راجہ فاروق حیدر،مشعال ملک،اعجاز شاہ،حنا ربانی کھرسمیت متعدد رہنمائوں نے عمران خان کی تقریر کو عوام جذبات کی ترجمانی اور کشمیر کامقدمہ بہترین انداز میں پیش کرنے پر مبارکباد دی ہے،۔وزیر اعظم جنرل اسمبلی سے تقریر کے بعد ہی سعودی جہاز پر واپس وطن روانہ وہئے تاہم دو گھنٹے بعد ہی جہاز میں فنی خرابہ پر ہاسے اسے واپس نیویارک کے کینیڈی ائیر پورٹ پر اتار لیا گیا ،اگر طیارہ ٹھیک ہونے میں تاخیر ہوئی تو عمران خان کمرشل پرواز کے ذریعے واپس پاکستان پہنچ کر زلزلہ سے متاثر ہ علاقوں کا فوری دورہ کریں گے۔نصرو من اللہ و فتح ً قریب۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.