دہشتگردی کا دوسرا نام RSS

25

تحریر: انشال راؤ۔۔۔۔۔دہشتگردی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ، دہشتگردی کی ابتک کوئی متفقہ تعریف یا تشریح سامنے نہیں آسکی، اس کے پیچھے کوئی سوچ یا نظریہ ہوسکتا ہے میرے نزدیک دہشتگردی کا دوسرا نام راشٹریہ سویم سیوک س?نگھ RSS ہے، ابتک RSS کے دہشتگردانہ نظریات اس کی پرتشدد سرگرمیوں پہ کتابوں کی کتابیں لکھی جاچکی ہیں، راشٹریہ سویم سیوک س?نگھ 1925 میں ناگپور میں قائم کی گئی جس کی بنیاد نظریہ ہندوتوا پر رکھی گئی, ہندوتوا کا لفظ اور نظریہ سب سے پہلے ساورکر نے استعمال کیا اور اسے ایک خاص معنی پہنائے، یہ اتنا مبہم نظریہ تھا کہ مصنف بھی اس سے مطمئن نہیں تھا اسی لیے اس کا پہلا ایڈیشن مصنف کے نام کے بغیر شایع ہوا اور پھر 1923 میں ساورکر کے نام سے شایع ہوا، سنگھ اسی سے بھرپور استفادہ کرتا ہے اسی نظریہ کی بنیاد پہ گلواکر جوکہ مہاراشٹرین برہمن تھے ایک تنظیم بنائی جسکے لیے تین نام پیش ہوے مگر زیادہ ووٹ راشٹریہ سویم سیوک س?نگھ کو پڑے تو متفقہ طور پر یہ نام قرار پایا، دنیا آگے بڑھنے کے لیے جدیدیت کو اپناتی ہے اور ترقی و معاشرے کے استحکام کے لیے روایات و اداروں تک کی قربانی دیتی آئی ہے جیسا کہ یورپ، جاپان وغیرہ کیونکہ ترقی ہمیشہ آگے کی جانب دیکھتی ہے جبکہ نظریہ ہندوتوا وہ واحد نظریہ ہے جو آگے کی بجائے پیچھے کی جانب دھکیلتا ہے، ہندوتوا کا ٹارگٹ بھارت کو ہندو راشٹر دیس بنانا ہے جسکے لیے وہ ہندو ماضی کے مخصوص زمانے کی مثال پیش کرتے ہیں ساتھ ساتھ کچھ کتب اور شخصیات کو شامل کرتے ہیں، بھنڈارکر کے مطابق تقریباً 400 تا 200 ق۔م تک بھارت میں بدھ مت کا دور دورہ تھا چنانچہ س?نگھ لٹریچر کے مطابق اس کے بعد برہمنوں اور سنسکرت کو پذیرائی ملنا شروع ہوئی اور یہ سلسلہ مسلمانوں کی آمد سے قبل تک چلتا رہا اسی کو س?نگھ گروہ شاندار ہندو ماضی قرار دیتے ہیں, ہندوتوا آئیڈیولوجی کے اہم اجزاء ریاست، نسل پرستی اور ہندو راشٹر ہیں، س?نگھ اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو نظریہ ہندوتوا پر یقین رکھتے ہیں سنگھ پریوار کے جھنڈے تلے تقریباً 52 تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جن کا نیوکلیئس RSS ہے، سنگھ پریوار کے جھنڈے تلے چند اہم تنظیموں میں بجرنگ دل، شیو سینا، راشٹریہ سیوکا سمیتی، ون بندھو پریشد، ویشوا ہندو پریشد، سیوا بھارتی، ونیاسی کلیان آشرم، بھارتیہ مزدور س?نگھ، خواتین ونگ، تاجر ونگ وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ ودیا بھارتی ان کی تعلیمی ونگ ہے اور حکمران جماعت BJP س?نگھ پریوار کی سیاسی ونگ ہے, سنگھ پریوار کی ماں کا درجہ رکھنے والی RSS ایک شدت پسند مسلح تنظیم ہے جس کی بنا پر متعدد بار پابندیوں کا سامنا بھی رہا اور مقامی سطح سے لیکر عالمی سطح تک زیر تنقید رہتی آرہی ہے گاندھی جی کے قتل کے بعد RSS پر بھارت سرکار کی جانب سے پابندی لگائی گئی اور اعلان کیا کہ ” آر ایس ایس کے کارکنان ملک کے 19 حصوں میں آگ زنی، لوٹ مار، ڈاکے، قتل اور پوشیدہ طور پر گولا بارود و اسلحہ یکجا کرنے میں ملوث ہیں اور دہشتگردانہ سوچ و فکر پہ مبنی لٹریچر کے زریعے انتشار و منافرت پھیلانے میں پیش پیش ہے” اس کے علاوہ سردار پٹیل نے پارلیمینٹیرینز کو کانفیڈینشیل بریفنگ دی جوکہ ”انڈین نیشنل آرکائیو میں مائیکروفلم کی صورت موجود ہے” اس میں بتایا گیا کہ ”راشٹریہ سیم سیوک سنگھ ناگپور میں بوائے اسکاوٹ موومنٹ کے طور پر قائم ہوئی جو کچھ عرصے بعد پیراملٹری گروہ میں تبدیل ہوگئی، یہ خالصتاً مہاراشٹرین برہمن تنظیم ہے جس کا مقصد فقط و فقط پیشوا راج کا بھارت میں نفاذ کرنا ہے ان کا جھنڈا بھگوا پرچم ہے جوکہ آخری مہاراشٹرین برہمن بادشاہ کا جھنڈا تھا جسے برطانیہ نے شکست دیکر مہاراشٹر پر قبضہ کیا، آر ایس ایس کے نظریات فاشزم پہ مبنی ہیں، یہ گروہ خفیہ، مشکوک اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے جن کے زریعے فسطائیت کو پروموٹ کرتے ہیں”، RSS اپنے وجود کیساتھ ہی ہندو مسلم فسادات کا باعث بنی اور 1930 کے پرتشدد واقعات میں پیش پیش رہی جس سے ہندو مسلم میں فاصلے بڑھے، 1937 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کو ووٹ دینے پر ہندوتوا مائنڈسیٹ نے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں متعدد شہادتیں اور زخمی ہوے، بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، پیرپور رپورٹ اور شریف رپورٹ آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں، دنیا بھر میں نازیوں کے ظلم کا شکار ہونے والے یہودیوں کو لیکر ہمدردیاں پائی جاتی ہیں یہودیوں نے اپنے قتل عام کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ساٹھ لاکھ یہودی کے قتل ہونے کا دعوہ کیا جوکہ ہولوکاسٹ کے نام سے مشہور ہے جبکہ RSS جوکہ نازی طریقے کے ہی پیرو ہیں ان کے ہاتھوں مسلمان یہودی ہولوکاسٹ سے زیادہ متاثر ہوے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، تقسیم ہند کے وقت ہندوتوا مائنڈسیٹ نے مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا جس میں بیس لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوے، لاکھوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی، لاکھوں افراد لاپتہ ہوے، کروڑوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوے، یہ تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی تھی، جانی نقصان کے علاوہ اربوں نہیں کھربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا، اسی کے ساتھ ساتھ RSS کے دہشتگردوں نے ڈوگرا فوج کے ساتھ مل کر جموں کے علاقے میں مسلمانوں کی نسل کشی شروع کردی جوکہ اکتوبر کے وسط سے نومبر کے اوائل تک جاری رہی جسکے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمان قتل کیے گئے اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہزارہا افراد لاپتہ ہوے، سات لاکھ سے زائد مسلمانوں کو مجبوراً ہجرت کرکے پاکستان آنا پڑا، جموں جو کبھی مسلم اکثریتی علاقہ تھا صرف تین ہفتوں بعد ہندو اکثریتی علاقے میں بدل گیا، بالکل ایسا ہی ایجنڈا BJP نے کشمیر کے لیے سیٹ کررکھا ہے جہاں کرفیو کو پچاس روز سے زیادہ ہوگئے ہیں اور مکمل مواصلات کو معطل کررکھا ہے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں جن پر بھارتی میڈیا پردہ پوشی کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، سنگھ پریوار اپنے آپ کو غیرسیاسی تنظیم کے طور پر پیش کرتے ہیں RSS کو ثقافتی و سماجی تنظیم قرار دیتے ہیں، کھلے عام RSS کے دہشتگردوں کی فوجی ٹریننگز اور خنجر پر حلف کو یوگا و معمول کی ورزش قرار دیتے ہیں جسکی نفی RSS سربراہ موہن راو بھاگوت کے بیان سے ہی ہوجاتی ہے جس نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ ”بھارتی فوج کو بارڈر پر پہنچنے میں وقت درکار ہوگا مگر RSS کے تربیت یافتہ کئی ملین کمانڈوز تین دن کے مختصر ترین وقت میں بارڈرز پر پہنچ کر ڈیوٹیاں سنبھال سکتے ہیں” بھارتی میڈیا ڈھٹائی کیساتھ ہندوتوا کی دہشتگردانہ سوچ و سرگرمیوں پہ پردہ پوشی کرنے کیساتھ ساتھ ثقافتی و سماجی تنظیم کے طور پر پیش کرنے میں مصروف عمل ہے بھارتی میڈیا اپنے مذموم مقاصد کے لیے کسی اخلاقی ضابطے کو نہیں مانتے اور نہ ہی بروئے کار لانا چاہتے ہیں، بھارت میں ہندوتوا دہشتگردوں کے ہاتھوں اقلیتوں پر بالعموم مسلمانوں پر بالخصوص تشدد و ناروا سلوک پر مبنی امریکہ و اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹ کوئی نئی بات نہیں، RSS کی تاریخ فسادات و مسلم نسل کشی سے بھری پڑی ہے، تقسیم ہند کی مسلم نسل کشی کے بعد 1948 میں حیدرآباد دکن پر بھارتی سرکار نے چڑھائی کردی آپریشن پولو میں فوج کیساتھ ساتھ ہندوتوا دہشتگرد بھی پیش پیش تھے سندر لعل رپورٹ کے مطابق صرف دو دن میں ہی چالیس ہزار سے زائد نہتے مسلمانوں کو بیدردی سے شہید کردیا گیا، سرکاری رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی شہادتوں کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ آزاد زرائع سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کی شہادتوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، گاندھی کے قتل کے بعد RSS پر پابندی لگی تو کچھ عرصے کے لیے اقلیتوں کو سکھ کا سانس ملا لیکن اس پابندی کے کوئی خاطر خواہ اثرات اس جماعت پر نہیں پڑے، پابندی کے دوران ہی سنگھ پریوار نے اپنے سیاسی ونگ کا بھارتیہ جن سنگھ کے نام سے آغاز کیا جس کا نام 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی رکھ دیا گیا اور اندرون خانہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، 1964 میں وشنو ہندو پریشد کی بنیاد رکھی جسے ورلڈ ہندو کونسل بھی کہا جاتا ہے یہی وہ ونگ ہے جو RSS کی پروپیگنڈہ بریگیڈ ہے اور میڈیا و سنگھ لٹریچر کو یہی ونگ کنٹرول کرتی ہے، 1998 میں BJP نے اقتدار میں آکر ہزاروں کی تعداد میں VHP ورکرز کو ٹیکسٹ بک بورڈ اور اطلاعات و نشریات میں بھرتی کیا جس کے بعد سے بھارتی میڈیا BJP کی پروپیگنڈہ مشین بن کر رہ گیا ہے، سنگھ پریوار کے ہاتھ بلکہ سنگھ پریوار پورا کے پورا مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے خون میں دھنسا ہوا ہے، جنوری 1964 میں مغربی بنگال، بہار اور اڑیسہ میں شدید فسادات گرم ہوے جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان قتل و زخمی ہوے، لاکھوں گھرانوں کی ساری جمع پونجی لوٹ لی گئی، 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمانوں کے گاوں کے گاوں کو آگ لگادی، 1967 کے انتخابات کے موقع پر رانچی بہار میں اردو کیخلاف مظاہرے شروع ہوے جو جلد ہی مسلم مخالف فسادات میں تبدیل ہوکر پورے بہار میں پھیل گئے نتیجتاً ہزاروں مسلمان گھرانے اجڑ گئے، ستمبر 1969 میں RSS نے منصوبہ بندی کے ساتھ احمدآباد میں مسلم کش فسادات شروع کردئیے جس نے پورے گجرات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس بار بھی نتیجہ مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی نکلا، 1971 میں ریاستی سرپرستی میں ہندوتوا دہشتگرد مشرقی پاکستان میں دہشتگردی میں براہ راست ملوث رہے جس کا اعتراف مودی خود کرچکے ہیں اس کے علاوہ بھارتی صحافی سدھیر چودھری جذبات میں متعدد بار اس کا اعتراف کرچکے ہیں کہ مکتی باہنی میں ہندوتوا دہشتگرد پیش پیش تھے، 1979 میں منظم طریقے سے ہندوتوا تخریبکاروں نے جھاڑکھنڈ میں مسلم کش فسادات کو ہوا دی جس میں ہزارہا مسلمان شہید و زخمی ہوے اور ہندوتوا کے روز روز کے دنگوں کی وجہ سے علاقہ پسماندگی کا شکار ہوتا گیا، لوٹ مار و فسادات سے تنگ آکر صنعتیں مسلم علاقوں سے دوسرے علاقوں کی طرف شفٹ ہوگئیں، اگست نومبر 1980 میں مرادآباد اترپردیش میں ایک دلت لڑکی کے قبول اسلام کے بعد مسلم نوجوان سے شادی کرلینے کو ہندوتوا دہشتگرد ہضم نہ کرپائے اور پروپیگنڈہ کرکے پولیس کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر چڑھائی کردی جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان مرد و خواتین کو سرکاری سرپرستی میں قتل کردیا گیا، فروری 1983 الیکشن کے دوران نیلی آسام کے علاقے میں منظم طریقے سے ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمانوں کی نسل کشی شروع کردی جسکے نتیجے میں کئی ہزار مسلمان لقمہ اجل بنے لاکھوں گھرانوں کو لوٹ لیا گیا، موجودی عدم شناخت کرنے کا بل ان ہی کیخلاف لایا گیا ہے آسام کے مسلمان ایک عرصے سے ہندوتوا دہشتگردوں کے ظلم کا نشانہ بنتے آرہے ہیں اور اب آکر نریندر مودی نے تقریباً ستر لاکھ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کردیا ہے، ہندوتوا دہشتگردوں کی بربریت سے سکھ بھی محفوظ نہ رہ سکے اندرا گاندھی قتل کو جواز بناکر ہندوتوا دہشتگردوں نے سکھوں کا قتل عام شروع کردیا بہت سے گوردواروں کو تباہ کردیا مشہور گوردوارہ اکالی تخت بھی مسمار کردیا اس لہر میں بیسیوں ہزار سکھ قتل ہوے جبکہ سرکاری رپورٹ میں تعداد کو بالکل ہی چھپا لیا گیا اور محض چند سو ظاہر کی گئیں اس کے علاوہ آپریشن گولڈن ٹیمپل میں بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ ہندوتوا دہشتگرد بھی پیش پیش تھے سکھ زرائع کے مطابق چھ لاکھ سے زائد سکھ اس آپریشن کی بھینٹ چڑھے، مئی 1984 میں س?نگھ دہشتگردوں نے بھوانڈی اور بمبئی میں مسلمانوں کیخلاف منظم اشتعال انگیز مہم شروع کی جو پورے مہاراشٹر میں پھیل گئی مسلمان آبادیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا، مسلح دہشتگردوں نے حملے کیے، گھروں اور املاک کو نذر آتش کردیا نتیجتاً ہزاروں مسلمان شہید ہوے، مارچ سے جون 1985 تک احمدآباد گجرات کے پسے ہوے مسلمانوں کو ایک بار پھر ہندوتوا کے ظلم کی چکی میں پسنا پڑا، پولیس نے بھی ہندوتوا دہشتگردوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملے کیے اور فائرنگز کیں جسکے نتیجے میں کئی ہزار مسلمان شہید و زخمی ہوے، مئی 1987 میرٹھ UP میں ایک ہندو برہمن اور مسلمان کے زمین کے تنازعہ کو ہندوتوا پروپیگنڈہ بازوں نے ہندو مسلم فسادات میں بدل دیا، پولیس نے بھی ہندوتوا دہشتگردوں کا ساتھ دیا جس کی سرپرستی میں مسلمان آبادیوں کو جلایا جاتا رہا، املاک کو لوٹا جاتا رہا، مرادآباد پولیس نے فائرنگ کرکے سو سے زائد مسلمانوں کو ایک ہی دن میں شہید کردیا کئی سو افراد زخمی ہوے، ریاست نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہندوتوا کے ظلم پر پردہ پوشی کی اور پولیس کو بجائے سزا دینے کے مزید تھپکی دی، بھاگلپور فسادات اکتوبر 1989 میں اس وقت پھوٹ پڑے جب ہندوتوا دہشتگردوں نے تیاری کے ساتھ بہانہ بناکر نہتے مسلمانوں پر مسلح حملے شروع کردئیے یہ فسادات آگ کی طرح پھیلے اور بھاگلپور سے نکل کر دور دور تک پھیل گئے جسکے نتیجے میں آزاد زرائع کے مطابق کئی ہزار مسلمان شہید ہوے، ان واقعات میں پولیس براہ راست شامل رہی، پولیس کے ملوث ہونے کے جرم میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا مگر وزیراعظم راجیو گاندھی نے اسے بحال کردیا، اپریل 1990 میں VHP نے بابری مسجد کیخلاف اشتعال انگیز مہم لانچ کی جوکہ دسمبر تک جاری رہی اس مہم کے نتیجے میں پورا بھارت متاثر ہوا، کئی ہزار مسلمان شہید کیے گئے کئی ہزار زخمی ہوے، ویشوا ہندو پریشد نے 1992 میں وسیع پیمانے پر رام جنم بھومی کے نام پر ہندو موبیلائزیشن کی مہم چلائی اور ماہ دسمبر میں ایل کے ایڈوانی و دیگر س?نگھ لیڈروں کی قیادت میں ہندوتوا دہشتگردوں نے تاریخی ورثہ و عظیم بابری مسجد کو شہید کردیا جسکے ردعمل میں پورے بھارت میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے نتیجتاً بیسیوں ہزار افراد لقمہ اجل بنے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، ہزاروں خواتین کی عزتیں پامال ہوئیں، اربوں کھربوں کا مالی نقصان ہوا، 2002 میں گجرات میں مودی سرکار کی سرپرستی میں منظم مسلم کش فسادات شروع ہوے جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان شہید ہوئے بیسیوں ہزار زخمی ہوے، ہزاروں مسلم خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہزاروں لاپتہ ہوے، لاکھوں مسلمان نقل مکانی پہ مجبور ہوے جسکے بعد اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندرمودی نے بیان دیا کہ ”یہ آبادی بڑھانے والے طبقے کو سبق سکھانے کے لیے کافی ہے” اشارہ مسلمانوں کی طرف تھا، اگست 2008 اڑیسہ میں عیسائیوں کو منظم طریقے سے ٹارگٹ کیا گیا جس میں ہزارہا عیسائی گھرانے اجڑ گئے، ستمبر 2013 میں مظفر نگر و شاملی میں پروپیگنڈہ گھڑ کر ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمان آبادیوں پر حملے شروع کردئیے نتیجتاً سینکڑوں مسلمان شہید ہوے ہزاروں زخمی ہوے لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے، ہزاروں خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی، ہندوتوا دہشتگردوں کو سرکار نے مکمل تحفظ فراہم کیا، اس کے علاوہ BJP کے اقتدار میں آنے کے بعد سینکڑوں افراد کو ہندوتوا دہشتگرد گائے ذبیحہ کا الزام لگاکر نشانہ بناچکے ہیں جبکہ ہندوتوا کے نزدیک مستند مفکر سوامی وویکانند کے مطابق ”وہ اچھا ہندو نہیں بن سکتا جو گوشت نہیں کھاتا اور اہم موقع پر اسے بیل کی قربانی دینا چاہئے اور اسے کھانا چاہئے (لیکچر شیکسپئیر کلب پساڈینا، کیلیفورنیا)، ہندوتوا کے نزدیک ہندومت کا شاندار دور ویدک دور ہے جبکہ ویدک دور کے ماہر محقق سی کنہن راجا کی تحقیق کے مطابق ”ویدک دور میں ہندو مچھلی، گوشت حتیٰ کہ بیف بھی کھاتے تھے، مہمان نوازی کے طور پر بیف پیش کیا جاتا تھا البتہ دودھ دینے والی گائے ذبیحہ معیوب تھا جبکہ بیل، بانجھ گائے، بچھڑے وغیرہ ذبح کیے جاتے تھے”، ہندوتوا دہشتگرد ایک نمبر کے جھوٹے ہیں اور اب ان کی دہشتگردی کی وجہ سے نہ صرف خطے کے امن کو خطرہ ہے بلکہ پوری دنیا اس کی زد میں آئیگی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.