نااہلی کیس،عدالت کا راجہ بشارت کیخلاف دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم

11

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر) صوبائی وزیر قانون و سوشل ویلفئیر و بیت المال محمد بشارت راجہ کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کی اہلیہ و سابق رکن پنجاب اسمبلی سیمل راجہ کیجانب سے دائر کردہ نا اہلی کیس میں دائر دو متفرق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ سیمل راجہ اپنے وکیل راجہ رضوان عباسی ایڈوکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے متفرق درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے فاضل عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ راجہ بشارت لاہور کینٹ میں واقع ایک کنال کے ڈبل سٹوری گھر مالیت ایک کروڑ چالیس لاکھ، راولپنڈی کے موضع دھمیال، حیال، جھاوڑے، موہری غزن و دیگر کے مالک و قابض ہیں مگر انہوں نے کاغذات نامزدگی میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے متذکرہ بالا جائیدادوں و اثاثوں کو چھپایا۔ ان کا کہنا تھا کہ راجہ بشارت نے نہ صرف اپنی پہلی بیوی ریاض بیگم مرحومہ کے نام پر راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں موجود اراضی کو بھی چھپایابلکہ اپنی دوسری بیوی پری گل آغا کی سیٹلائٹ ٹاون کوئٹہ کی رہائش گاہ، کلفٹن کراچی میں واقع فلیٹ، لبرٹی مارکیٹ لاہور کی دوکانوں کو بھی چھپایا ہے۔ رضوان عباسی ایڈوکیٹ نے کہا کہ کاغذات نامزدگی اورعدالت عظمی کی ہدایت پر جمع کروانے والے بیان حلفی میںمکمل معلومات ظاہر نہ کرنے اور اثاثہ جات کو چھپا کے راجہ بشارت نہ صرف آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 1/Fبلکہ الیکشن قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔درخواست گزار کیجانب سے مخفی رکھے جانے والے اثاثہ جات و جائیدادوں کے دستاویزی ثبوت بھی منسلک کئے گئے۔ سیمل راجہ کے وکیل کیجانب سے متفرق درخواست کے زریعے راجہ بشارت کے مذید چھپائے گئے اثاثوں کی دستاویزات ریکارڈ پر لانے کی استدعا کی گئی جسے عدالت عالیہ نے منظور کرتے ہوئے بشارت راجہ کیحلاف دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم صادر فرمایا۔عدالت عالیہ کی جانب سے مذکورہ دستاویزات کی کاپیاں فریقین کو بھیجوانے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب جمع کروانے اور مذید التواء نہ دینے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7نومبر تک ملتوی کر دی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.