ترقی کی قیمت

2,159

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔۔,,پاکستان میں جب کوئی تبدیلی آتی ہے تو نیچے (زمین میں)بیتابی ہوتی ہے ۔ یہ تبدیلی کی نشانی ہے کہ زمین نے بھی کروٹ لی ہے ۔ اسکو بھی اتنی جلدی یہ تبدیلی قبول نہیں،،
یہ بیان ہے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان صاحبہ کا۔ ان زریں الفاظ کا استعمال انھوں نے اس وقت کیا جب منگل کی شام ایک gatheringمیں بات کرنے کے دوران زلزلہ آگیا جس کے نتیجے میں اب تک 50کے قریب افراد ہلاک اور سینکڑوںزخمی ہو گئے جان ومال کی تباہی کیساتھ ساتھ جانور اور لوگوں کے مال مویشی بھی بڑی تعدادمیں مارے گئے۔ بربادی اور موت کی وجہ بننے والی ایسی آفت کیلئے فردوس صاحبہ نے جو کہا وہ اس سوچ کی ہلکی سی عکاسی کرتا ہے جو as a largeہمارے ہاں اہل اقتدار کی ہے جو وہ قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے رکھتے ہیں یعنی کہ مضحکہ خیز حد تک غیر سنجیدہ اور غیر منطقی ۔ ویسے تو وہ تمام ایشوز جو برا ہ راست عام انسانوں کی زندگیوں پر منفی اور جان لیوا اثرات مرتب کرتے ہوں ان سب کے حوالے سے اہل حکمران ایسی ہی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔لیکن جب بات موسمی اور ماحولیاتی disastersکی ہو تو جس مجرمانہ غفلت اور چشم پوشی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اس کی تو بات ہی نہ پوچھیں۔ اب نام نہاد ترقی کے نام پر یہاں آب و ہوا اورEnvironmentکی تباہی کے جو سامان کئے گئے ہیں ان کی فہرست بہت لمبی ہے۔ زیادہ دور جانے کی بجائے لاہور کی اورنج ٹرین کے پروجیکٹ کو لیں لالچ اور منافع کی حرص میں محض 27کلومیڑ لمبی ٹرین لائن کیلئے شہر اور اس کی آبادی کو اتھل پتھل کرکے اسکی آب و ہوا کو جسطرح pollutedکیا گیا ہے اس کے سدباب کیلئے کوئی تد بیر یا عملی قدم اٹھانا تو دور کی بات ، اس زمرے میں کسی رسمی پروگرام یا planکی طرف توجہ دینے کی زحمت نہیں کی گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں میچور اور تنا آور درختوں کی بے رحم کٹائی کیساتھ ساتھ جس طرح تاریخی ورثے کی حامل عمارات کو نقصان پہنچایا گیا اس کو عدالتوں میں چیلنج کر نے کے باوجود turn aroundنہیں کیا جا سکتا ۔ جہاں جہاں سے لائن گذری وہان زمانوں سے آباد لوگوں کے گھروں اور کاروبار کو ختم کر دیا گیا اور کوئی compensationبھی ادا نہیں کی گئی۔ چند لوگوں اور بیرونی کمپنیو ںکی ترقی کیلئے عام شہریوں اور آنے والی نسلوں کی well-beingکو دائو پر لگانے والی تبدیلیاں کچھ بھی ہو سکتی ہیں لیکن Progressنہیں گردانی جا سکتی۔
اس بات کا ثبوت اقوام متحدہ کے سیکڑیری جنرل کا بیان ہے جوانھوں نے یو این کے حالیہ اجلاس میں انتہائی غربت اور افلاس میں کمی کے ایجنڈے پر اظہار خیال کرتے ہوئے دیا۔ سیکڑیری جنرل نے اعتراف کیا کہ ترقی پذیر ممالک نہ صرف بھوک اورغربت کا شکار ہو رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی بھی ان ممالک کو بر ی طرح متاثر کر رہی ہے ۔ یو این کے بنائے گئے sustainable development goals(SDGs)کے حوالے سے بھی ان ملکوں میں تا حال کوئی خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آرہی۔
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی کے نام پر کی جانے والی developmentعام لوگوں کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں لا رہی البتہ ماحولیات پر منفی اثرات مرتب کرنے میں اہم کر دار ادا کر رہی ہے جس کی وجہ سے دنیا کو شدید ترین موسموں کا سامنا ہے۔ پوری دنیا میں آنے والے خوفناک سمندری طوفان، پگھلتے گلیشیئر، تباہ کن بارشیں ، سیلاب ، جھلسا دینے والی گرمی ، جنگلات میں لگنے والی آگ ، پھیلتے صحراوں نے انسانی ترقی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ UKکی ایک تنظیم overseas development instituteکی ایک رپورٹ کے مطابق آئندہ سالوں میں بدترین غربت کا شکار لوگوں کی تعداد میں 430ملین افراد کا اضافہ ہو گا جو کہ گذشتہ اعدادوشمار کے مقابلے میں 7.5فیصد زیادہ ہے اور موجودہ دہائی کے ختم ہونے تک مذید 30ملین افراد ایک دن میں1.90ڈالر سے کم آمدن والی افرادی قوت کا حصہ ہوں گے۔ غربت اور افلاس میں اس اضافے کی کئی وجوہات ہیں لیکن ان میں سے اہم ترین وجہ climat crisisہے ۔ پاکستان میں صورتحال کا جائزہ لیں تو بلاتفریق تمام بڑے شہروں میں مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ہر جگہ زرعی زمینوں پر رہائشی کا لو نیاں ، سیوریج اور صفائی کے ناقص ترین انتظامات، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے نام پر درختوں کا خاتمہ، گندے نالوں کے کیمیکل شدہ پانی سے سبزیوں اور فصلوں کی کاشت، تیزی سے بڑھتی آبادی ، پارکوں اور کھیلوں کے میدانوں پر شاپنگ پلازوں کی تعمیر، شہر میں فیکٹریوں کی موجودگی، سالانہ لاکھوں گاڑیوں میں اضافہ، پینے کا گندا پانی، کوڑے کے پہاڑ اور بیماریوں میں اضافہ ہر شہر کی کہا نی ہے ہمارے خشک ہوتے دریا ، ختم ہوتے جنگلات اور جانور سب خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں لیکن حکومت اپنی نااہلی اور عوام اپنی لاعلمی اور عدم دلچسپی کے باعث اس خطرے بے پرواہ ہیں۔ موسموں کی شدت میں ہونے والے اضافے کی وجوہات اور ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے راکٹ سائنس کا علم ہونا ضروری نہیں ۔ہر فرد اپنے اردگرد کے ماحول میں ہونے والی تبدیلی کو محسوس کر سکتا ہے لیکن جس طرح سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسی طرح جدید ترقی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانوں کے احساسات اور ماحول سے محبت کے جذبے کو بھی ختم کیا جا رہا ہے اور یہ سب کون اور کیوں کر رہا ہے ؟ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہونے والے مسائل سے کون فائدے اور کون نقصان میں ہے۔ مہلک بیماریوں سے عام لوگ sufferکر رہے ہیں اور ادویات تیار کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں خوب منافع کما رہی ہیں۔ ایسے ہی زراعت میں کیمیکل کھادوں کا استعمال بڑھا کہ کسانوں کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا البتہ کھاد تیار کرنے والی کمپنیاں لامحدود profitسے مستفید ہو رہی ہیں۔تباہ کن اور مہلک ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے سمندروں ، پہاڑوں اور صحراوں میں تجربوں کے ذریعے ناقابل تلافی نقصان پہچانے والے اب environoment protectionکے نعرے لگارہے ہیں اور ترقی یافتہ مما لک میں بین ہونے والی پروڈکٹس تیسری دنیا میں بھیج کر دوگنا منافع کمایا جا رہا ہے climat crisis کے لیے بظاہر فکر مند عناصر نے ترقی پذیر ملکوں کوGarbage bin بنا رکھا ہے ۔ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مغرب یا دیگر ممالک کی ترقی کے ماڈل ضروری نہیں ہمارے حالات و ماحول کیلئے سودمند ہوں ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کیلئے ہمیں مقامی wisdomکا استعمال کرتے ہوئے اپنے معاشی، سماجی اور ماحولیاتی ڈھانچے میں بہتری لانی ہو گئی تب ہی ہم آئندہ نسلوں کو غربت، بے روزگاری ،بیماری اورماحولیاتی تباہی سے بچا پائیں گے۔

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریںلکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.