غوروفکر میں کامیابی کا راز 

115
تحریر: مدیحہ مدثر(کراچی)
کیا آپ نے کبھی کائنات پر نظر ڈالی ہے ایک اتنا بڑا نظام  کیسے اتنے منظم انداذ سے چل رہا ہے الحمدللہ ہم مسلمان ہیں ہمارا یہ ایمان ہے کے اللہ ہی اس پورے نظام کو چلارہا ہے لیکن صرف یہ سوچ لینے سے کام پورا نہیں ہوجاتا اللہ نے ہمارے لیے پوری کائنات سجادی اور ہمارے پاس اتنا وقت بھی نہیں کے اسکو دیکھیں !! سوچیں اسکے بارے میں کیونکہ جب ہم سوچیں گے توہی ہم اللہ کی تمام نعمتوں کے شکرگزار بنیں گے اور ساتھ ہی سیکھیں گے کے اللہ ہم سے کیا چاہتاہے-
ارشاد باری تعالہ ہے:
پھر ذرا اُس وقت کا تصوّر کرو جب تمھارے رَب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانےوالا ہوں“_اُنھوں نے عرض کیا:”کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اُس کے اِنتظام کو بگاڑدےگا اور خوں ریزیاں کرے گا؟ آپ کی حمدوثنا کے ساتھ تسبیح اورآپ کی تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں“فرمایا:”میں جانتا ہوں،جو کچھ تم نہیں جانتے“_(البقرة  آیت نمبر30)
  اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کیا خاص مقصد تھا کے انتی بڑی کائنات بنادی اور ہم انسانوں کو پیدا کرنے کا کیا خاص مقصد تھا کیونکہ عبادت کرنے والوں کی تو کمی نہیں اسکے پاس انسانوں سے زیادہ وفادار غلام موجود ہیں جو بہت اچھے انداز سے  عبادت کررہے ہیں، اور اُس کے ایک اِشارے پر کام کرتے ہیں -ہم انسان نہ اُنکے جیسی عبادت کر سکتے ہیں، اور نا ہی اُنکی طرح فرمابرداری- پھر آخر کیا مقصد تھا انسان کو پیدا کرنے کا! صرف عبادت! اللہ تعا لٰی فرماتیں ہیں:
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے_ تم نیکی کا حکم دیتے ہو،بَدی سے روکتےہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو_ یہ اہلِ کتاب ایمان لاتے تو انھی کے حق میں بہتر تھا_اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایمانداربھی پائے جاتے ہیں مگر اِن کے بیشترافراد نافرمان ہیں_ (اٰل عمرٰن آیت نمبر 110)
یعنی صرف عبادت مقصد نہیں تھا ہمیں تو ایک خاص کام دے کر دنیا میں بھیجا گیا اور خلیفہ بنایا گیااور وہ کام اقامتِ دین تھا اللہ کی سرزمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا تھا دین کی دعوت پوری دنیا میں پھیلانا ہمارا کام تھا  حق کو فریب سے الگ کرنا سچ کو جھوٹ سے پاک کرنا ہمارا کام تھا_ لیکن! ہم کیا اپنی زمہ داری پوری کر رہے ہیں  پوری تو دور کی بات ہمیں تو اپنی زمہ داری کے بارے میں معلوم ہی نہیں _ کیا اسلام کے بنیادی اُصول نماز، روزہ،حج،  زکوٰة بس یہ چار فرائض پر عمل کرنا مکمل اسلام ہے؟ جبکہ جہاد بھی بنیادی اصول کی فہرست میں شامل ہے لیکن ہم دین کو اپنے حساب سے لے کرچلنا جانتے ہیں . لیکن آخرت میں نجات اسی صورت ملے گی جب مکمل اسلام ہمارے دلوں میں اُترے گا ہم سّچے مومن نہیں بن سکتے اللّٰہ تعالہ  فرماتے ہیں
” اے ایمان لانے  والو،تم  پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کروکہ تمہاراکھلا دشمن ہے”
(البقرة آیت نمبر 208)
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ فرمانِ الٰہی کو ماننے والے مومن بندو کی فہرست میں شمار ہونا ہے کے نہیں لیکن اس بات کا خیال رکھیں وقت بہت کم ہے سوچیں غوروفکر کریں. اللّٰہ اور اسکے رسولﷺ کے بتائے ہوئے رآستے کو اپنالیں.
1 تبصرہ
  1. SIDRA کہتے ہیں

    GREAT MESSAGE FOR ALL MUSLIMS …I LIKE UR ALL SCRIPTS.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.