میری سٹاپ سوسائٹی اور یو این ایف پی کےزیراہتمام پنجاب یونیورسٹی میں سیمینار

15

لاہور (نیوزنامہ ) ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے نوجوان نسل کو مانع حمل ادویات کے بارے میں آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے، اگر اس بارے میں بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کی آبادی 2050 میں 31 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میری سٹاپ سوسائٹی کے زیر اہتمام اور یو این ایف پی کے تعاون سے پنجاب یونیورسٹی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا۔اس موقع پر ٹیکنیکل ڈائریکٹر یو این ایف پی شعیب خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر ہے، ہمارے ملک میں روزانہ 20 ہزار بچے پیدا ہورہے ہیں اور اگر یہی صورتحال رہے گی تو ہمیں ان کو پڑھانے کیلئے ہر روز 2 سکول بنانا پڑیں گے ۔حکومت اور این جی اوز کے بروقت اقدامات سے پنجاب میں بچوں کی شرح پیدائش میں دیگر صوبوں کی نسبت کافی بہتری آئی ہے۔ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سارہ زمان نے کہا کہ آبادی کنٹرول کرنے کیلئے ہمیں اپنے تعلیمی نصاب میں تبدیلی کی ضرورت ہے، پرائمری کی سطح پر اس کو نصاب میں شامل کرنا چاہیے اور نوجوان نسل کو اس کے فائدے اور نقصانات بارے بروقت آگاہی ضروری ہے۔ معروف گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر نورین ظفر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم پچھلے برس آبادی کے حساب سے دنیا میں چھٹے نمبر پر تھے لیکن اب پانچویں پر آگئے ہیں جو ایک ترقی پذیر ملک کیلئے انتہائی پریشان کن ہے۔ ہمارے وسائل کم ہوتے جارہے ہیں اور حالات کہہ رہے ہیں کہ ایک ہزار لوگوں کیلئے بھی ایک ڈاکٹر دستیاب نہیں ہے، اسی طرح ایک ہزار افراد کیلئے ہسپتالوں میں آدھا بیڈ دستیاب ہے، ہر ایک سیکنڈ کے بعد ایک بچہ پیدا ہورہا ہے۔
قبل ازیں کرنل (ر) احسان الرحمان نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور میری سٹاپ سوسائٹی کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا ہم اپنی استطاعت کے مطابق چھوٹے خاندان کا تصور اجاگر کرنے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے، پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں ہماری ٹیمیں مصروف عمل ہیں ۔
سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر نائلہ اختر نے مہمانوں میں شیلڈز تقسیم کیں۔ سیمینار سے ڈاکٹر نعیم ماجد، ڈاکٹر سرفراز کاظمی، امجد فاروق، نوید شوکت ، پرویز رانجھا ، مس نائلہ اور جویریہ اعجاز نے بھی خطاب کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.