بے بسی کی انتہا اور شرمناک گورنس

35

تحریر:صابر مغل۔۔۔۔۔چند نا گزیر وجوہات اور نجی مصروفیت کی بنا پر گذشتہ کئی ماہ سے بزم قارئین کرام میں حاضری کا شر ف حاصل نہ کر سکا،ممکن ہے کچھ روز مزید اسی طرح گذر جاتے مگر ایک ہفتہ قبل ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے آبائی شہر لاڑکانہ کے کمشنر آفس کے باہر جو کربناک لمحات دیکھے انہوں نے میری سوچ کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ،جھنجھوڑکر رکھ دیا ،تڑپا کر رکھ دیا،ہلا کر رکھ دیا ،رلا کر رکھ دیا،دکھ تکلیف ،بے یقینی ،بے حسی ،بے بسی اور اشرافیہ کی جانب سے بے غیرتی کے سونامی نے نیند تک چھین لی ،ایک معصوم بچے کی ہیبت ناک موت اور بے بسی کے ناقابل فراموش مناظر ہمہ وقت میرے من میں کربناک نوعیت کی مصوری کرتے رہتے ہیں اس انتہائی تکلیف دہ مصوری پر ہم دکھوں کے مزید بھنور میں پھنس جاتے ہیں مگر ہم بھی انہی کی طرح بے بس ہیں ،تڑپ سکتے،کلبلا سکتے،مگرکچھ کر نہیں سکتے ہیں بہت مجبور مقہور ،بے بس، لاچار انہی کی اپاہج ،انہی کی طرح مفلوج ،اشرایہ کی زندگی سے کوسوں دور زندگی گذارنے والے،سوچا کہ اس اندوہناک واقعہ پر رو لوں گا مگر لکھوں گا نہیں مگر رہا نہیں گیا،دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا کوئی اور راستہ نہ ملا، درد دل رکھنے والے متعدد اور بہترین قلمکاروں نے اس پر لکھا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اپنا اپنا کردار ادا کیا،سوچتا ہوں دور جدید میں پاکستان کے اکثریتی عاقوں کا یہ عالم ہے توآج سے کئی دہائیاں قبل یہاں کے حالات کیا ہوں گے تب تو لعنت زدہ طبقے کے کرتوتوں کا علم ہی نہیں ہوتا تھا ،ظلم و جبر کی کتنی داستانیں ہوں گی جن سے ہم بے خبر رہے ہوں گے،صحاتی زندگی کے میدان میں جہاں ایک صحافی کو بہتر سے بہتر مقامات پر جانے ،نامور شخصیات سے ملنے کا موقع ملنا عام سی بات ہے وہیں مگر بعض اوقات اسے وہ کچھ بھی دیکھنے کو ملتا ہے جہاں سینہ شل ہو جاتا ہے دل کلیجے سے نکل کر منہ تک آن پہنچتا ہے،ایک بہترین ماحول میں بیٹھا تھا کہ اچانک الیکٹرانک میڈیا پر ایک بد نصیب اور دکھڑی ماں کی ممتا آہ و بکا اور کلبتی ہوئی نظر آئی جس کا لخت جگر اس کی گود میں اکھڑے اکھڑے سانس لیتے اور تڑپتے ہوئے ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قائم حکومتوں ،ایوان اقتدار میں رہنے والوں اوربا اثراشرافیہ کی انسان دشمنی کا ماتم ماتم کرتے کرتے دنیا سے کوچ کر گیا، ضلع شکار پور کے گائوں دائود کے10سالہ میر حسن ابڑو کو عید الاضحیٰ سے دو روز قبل کتے نے کاٹ لیا،میر حسن کی موت سے قبل وہ نہ جانے کتنے نجی و سرکاری طبی مراکز میں گئے،غریب لوگ تھے نہ بچے کا علاج نہ کروا سکے نہ اس کا علاج کسی نے کیا،بالآخر کچھ آس امید لئے لاڑکانہجا پہنچے شاید بے نظیر بھٹو شہید کے شہر میں انہیں انسانیت نظر آ جائے ، لیکن وہاں بھی بیٹے کو علاج تو میسر نہ ہوا مگر موت اسے ضرور مل گئی ،ایسی کربناکی ،ایسی بے بسی اور ممتا کی گود اور باپ کے سینے سے لگی موت الراقم نے آج تک نہیں دیکھی ،سوچتا ہوں دعوے داروں کے دعوے چلے کہاں جاتے ہیں ،ان کی عوام دوست تقریریں،پریس کانفرنسیں،عوامی جلسہ جات میں عوامی اور جذباتی تقریرں کا متن کس مخلوق کے لئے ہوتا ہے،وہ بے وقوف عوام ،اپنے حقوق سے نا آشنا اور گندے ،بوسیدہ ،بدبودار ،تعفن زدہ گلے سڑے نظام کو مزید دلدل میں دکھیلنے سے کب باز آئیں گے،اس اسلامی جمہوری مملکت اور نظریہ اسلام پر بنی ریاست کو کس مخلوق کے باسیوں نے یر ْغمال بنا رکھاہے؟ ،جہاں شاہی محلات،اقتدار واختیار،شاہانہ پروٹوکول،اعلیٰ حکومتی عہدے ،مراعات ہی مراعات،دنیا جہان کی ہر سہولت چاہے ا س کا تعلق تعلیم، صحت ،اعلیٰ سرکاری عہدے ،سرمایہ ، گاڑیاں سبھی کچھ تو انہی کے لئے ہے،یہ کسی عام آدمی کا علاج تو بہت دور کی بات ہے انہیں تو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ،یہاں کی نصف آبادی کو وہ خوراک تک میسر نہیں جو انسان نما کتوں کے کتوں کو میسر ہے بلکہ کتوں کو ملنے والی خوراک پھر بھی بہتر ہے ،یہ موسم کی سختیاں برداشت کرتے ہیں ان کے کتوں کو موسم کے لحاظ سے تمام آسائشیں میسر ہیں، یہاں کتے بھونکتے اور کاٹتے ہیں مگر انسان نما کتے انہیں مارکر قلبی سکون حاصل کرتے ہیں،ان کی جبلت میں کسی کی موت اور وہ بھی جتنی بے بسی پر ختم ہو میں اتنی ہی زیادہ راحت پوشیدہ ہے،گذشتہ سال میرے ایک دوست نے بتایا تھا کہ ان کے ایک بچے کو کتے نے کاٹ لیا ہے مگر ویکسین نہیں مل رہی ،جب ویکسین نہ ملنے کی کچھ تحقیق کی تو پتا چلا پنجاب سمیت ملک بھر میں ایسی ویکسین نایاب اور غرباء کی پہنچ سے باہر ہے،اس حوالے سے قائم کردہ ادارے سمری بھیج کر خانہ پری کر دیتے ہیں مگر عملاً وہی ہے جو ہمیں میر حسن ابڑو کی تڑپڑاہت اور منوں مٹی تلے جانے کی شکل میں دیکھنے کو ملا،اس دہلا دینے والے واقعہ پر وزیر اعلیٰ نے رپورٹ طلب کی سعید غنی کا بیان بھی سامنے آیا مگر ہوا کیا؟میر حسن کی موت کے بعد بھی سندھ سمیت ملک بھر میں عملی اقدامات ہوئے ؟کسی کوفرائض سے غفلت برتنے پر برخاست کیا گیا؟کوئی ایک بھی حکومتی شخصیت میر حسن کے گھر گئی ؟بلاول بھٹوکو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ کچھ تو اس حکومتی بر بریت پر اپنا فرض ادا کرتا،یہاں ایک طرف اربوں روپے کے ناجائز اثاثوں کی گونج ہے ایک مالی بھرتی ہونے والے کو ستارہ امتیاز پاکستان سے نوازاز جاتا ہے جس نے کرپشن میں ملوث بڑے بڑے شاہکاروں کو شرمندہ کر دیا،تھر میں اموات نہ رک سکیں،پاکستان کا اقتصادی حب کچرے کے ڈھیر میں بدل دیا گیا،اندرون سندھ پسماندگی محو رقص ہے، پنجاب کی گڈ گورنس بھی کئی گل کھلا رہی ہے (اس عظیم گورنس کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میرے آبائی ضلع میں میں بر سر اقتدار پارٹی کے بعض لوگ ضلعی انتظامی مشینری کو مٹھی میں لئے ہوئے ہیں کچھ عرصہ قبل محکمہ ہیلتھ اوکاڑہ کے سی او ملازمتوں کے لیٹرز ایک سیاسی شخصیت کے ڈیرے پر تقسیم کر تے رہے اسسٹنٹ کمشنر بھی وہاں ہاتھ باندھے پیچھے کھڑے نظر آئے۔یہی سیاسی شخصیت اوکاڑہ میں چینی ذخیرہ اندوزی میں نمبر ون ہے،اے سی اوکاڑہ کسی بھی دورہ پر نجی گاڑی میں سیر کرتے ہیںایسی قباحتوں سے افسران کا کیا امیج ہوگا اور انتظامی امور کی حالت کس قدر بد تر ہو گی؟ یہ عثمان بزدار ہی بتا سکتے ہیں) ،وفاق نے خزانہ کھالی ہونے کا رونا روتے روتے مشیران خاص اور وہاں تک رسائی حاصل کرنے والے مافیاز کی وجہ سے عوام کو مزید کنگال کر دیا ،اس وقت پاکستان کی اکثریتی آبادی فاقہ کشی کا شکار ہے،چینی قبضہ اور کرپٹ مافیا اپنے عزائم میں کامیاب ہو گیا،اربوں روپے کے جعلی اکائونٹس ،ناجائز اثاثہ جات میں ملوث افراد سیاسی قیدی ہیں ،جیلوں میں انہیں ہر قسم کی آسائشیں حاصل ہیں انہیں زکام بھی ہو جائے گا تو حکومت لمحہ بھر میں لاکھوں روپے جھونک دیتی ہے،یہ دنیاکا کون کا قانون ہے جہاں کرپشن زدہ لوگوں کو مراعات دی جائیں؟حکومت روزانہ فرمان جاری کرتی ہے کہ کسی کو این آر او نہیں دیا جائے گا دوسری جانب خود NABکو اپاہج کرنے پر تلی ہوئی ہے،حکومت کا تو فرض ہے کہ نیب کو بہتر Back Up دے اور اعلیٰ پراسیکیوشن دے،نظام انصاف کو بہتر بنائے،؛وٹا ہوا قومی خزانہ نکلوائے مگر الٹا انہیں باندھا جا رہا ہے ایک پہلے بھی کئی کالی بھیڑیں NABکا حصہ ہیں بجائے سب کچھ درست کرنے درستگی کی سمت ہی بدلی جا رہی ہے،بہرحال کئی دنوں بعد یہ تحریر شکار پور کے میر حسن کی حکومت کے ہاہتھوں دہ دہلا دینے والی موت کے حوالے سے تھی مجھے تو میر حسن کی آخری ہچکیاں،ماں کا ان ہچکیوں سے ڈر کر بیٹے اور اپنے درمیان دوپٹہ حائل کر لینا ،بد قسمت باپ کا اس دوران بیٹے کو تسلی کے انداز میں اٹھانا اور پھر اس کی موت پر سر راہ ماں کی آہ و بکا مرتے دم تک یاد رہے گی مگر جنہیں یہ سب یاد رکھنا چاہئے وہ قوم کے مجرم ہیں اور مجرم اپنے سوا کسی کے نہیں ہوتے۔

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کامتفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.