شناختی کارڈ کی لازمی شرط :سیلز پروفیشنل فورم کے زیراہتمام مختلف شہروں میں مباحثے

26

اسلام آباد(نیوزنامہ) سیلز پروفیشنل فورم پاکستان بھر میں بزنس کمیونٹی اور ایف بی آر کے مابین جاری شناختی کارڈ کی لازمی شرط کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل اور اُن کے ممکنہ حل کیلئے مباحثوں کا انعقاد کر رہاہے تاکہ اس اہم مسئلے پر بزنس کمیونٹی اور ایف بی آر ایک صفحے پر آ سکیں۔
فنانشل بل 2019ء میں پاکستان میں بزنس ٹو بزنس سیلز اور ڈسٹری بیوشن کی صنعت کیلئے نئے قوانین متعارف کروائے گئے ہیں،جس سے حکومت پاکستان ایک طرف ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف بڑھانا چاہتی ہے تو دوسری جانب معیشت کو بھی دستاویزی شکل دینا چاہتی ہے۔ تاہم اس بل کے بعد قیاس آرائیاں بھی گرم ہیں۔تجارتی ادارے، ڈسٹری بیوٹرز اور دکاندا ر اس بل کے خلاف متحد ہیں اور اس بل کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے تک کئے جا چکے ہیں۔دکاندار اور ہول سیلرز اپنے قومی شناختی کارڈز ڈسٹری بیوٹرز کو دینے سے انکاری ہیں۔یہ مزاحمت زیادہ تر چھوٹے دکانداروں کی جانب سے دیکھنے میں آ رہی ہے جن کی مجموعی تعداد کاروبار کا بڑا حصہ بناتی ہے۔اس بل کے بعد کمپنیاں بھی شش و پنج کا شکار ہیں جبکہ نقصان کا تخمینہ 25سے 30فیصد حجم میں جبکہ 60سے 70فیصد کوریج میں لگایا جا چکا ہے۔بل کی بابت عمل کیلئے حکومت نے ابتدائی مدت طے کی تھی تاہم محدود وسائل، ساخت کی کمی اور کسی باضابطہ باڈی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملک بھر سیلز کمیونٹی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکی ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں ایف بی آر، حکومتی نمائندوں اور ٹریڈ باڈیز کے مابین مذاکرات ہوتے رہے ہیں تاہم اِس تمام گفت و شنید کے بعد بھی دونوں جانب سے کوئی قابل عمل حل سامنے نہیں آیا ہے۔
پاکستان کے سب سے پہلے اور بڑے سیلز پلیٹ فارم، سیلز پروفیشنل فورم کی جانب سے پاکستان بھر میں اس مسئلے پر مباحثوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے،جس کا مقصد شناختی کارڈ کے مسئلے کی وجہ سے بزنس کمیونٹی کو در پیش مسائل اور ممکنہ حل کیلئے قابل عمل تجاویز کا اکٹھا کرنا ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ کیسے اس بل کو قابل عمل بناتے ہوئے اس کا نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔
ان مباحثوں کا آغاز 5ستمبر کو کراچی سے ہوا تھا، جس کے بعد 13ستمبر کو لاہور میں اسی موضوع پر ایک مباحثہ کیا گیا تھا۔ان سیشن میں پاکستان میں سیلز کے نامور ادارے نیسلے، شان فوڈز، یونی لیور، نیشنل فوڈز، شیل پاکستان، ایبٹ وغیرہ کی جانب سے شرکت کی گئی تھی۔
ان سیشن میں اہم نکات
ایف بی آر کو ٹیکس کے قوانین کے بارے میں وضاحت دینی چاہئے: دکاندار اس خوف کا شکا رہیں کہ اگر انہوں نے اپنے شناختی کارڈز ڈسٹری بیوٹرز کو دینا شروع کر دیے تو اس کے بعد ایف بی آر کی جانب سے نیا ٹیکس لگا دیا جائے گا۔
شفاف طریقہ کار کی ضرورت: طریقہ کار شفاف نہ ہونے کی وجہ سے بھی دکاندار عدم اعتماد کا شکار ہے جبکہ اُس کی دستاویزات بھی اس عمل میں شامل ہیں۔شفاف سسٹم کو بناتے ہوئے دکانداروں کو اپنی دستاویزات، رسیدیں وغیرہ جمع کروانے کیلئے قائل کیا جا سکتا ہے۔
ڈسٹری بیوٹرز کو طریقہ کار سمجھائیں : ڈسٹری بیوٹرز موجودہ حالات میں دکانداروں کو قائل کرنے کیلئے اپنے طور پر مختلف اقدامات کر رہے ہیں، اِن میں سے کچھ قابل عمل ہیں، جبکہ کچھ کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ ایف بی آر کو ایک سیدھا سادہ سا سسٹم وضع کرنا چاہئے جوکہ ڈسٹری بیوٹر پر بھی بوجھ نہ ہو اور جہاں باآسانی رجسٹریشن کروائی جا سکے۔
موجودہ مسائل کے حل کیلئے راستوں کی تلاش: کچھ ڈسٹری بیوٹرز اپنے معاہدے ذیلی ڈسٹری بیوٹرز کو فراہم کر رہے ہیں جواِن پیچیدہ پروٹوکول کے پابند نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈسٹری بیوٹر نے تو خود کو بامطابق قانون رجسٹر کروا لیا ہے، لیکن سب ڈسٹری بیوٹر سیلز ٹیکس کے نیٹ ورک میں نہیں ہے اور نہ ہی رسیدوں کے ساتھ شناختی کارڈ کی کاپی جمع کرنے کے عمل میں شامل ہے۔اس سے بھی جہاں ایک جانب معیشت کو نقصان ہے تو دوسری جانب اس تحریک کے خلاف مزاحمت بھی ہے۔
ہول سیلرز کا ریٹیلرز کا اثر: شناختی کارڈ کی شرط کے حوالے سے بہت سے ہول سیلرز اس کے بالکل خلاف ہیں، اس وجہ سے چھوٹے دکاندار بھی اُن کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ رجسٹریشن اور گفتگو کیلئے کی جانے والی کوششوں پر بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
ہمیں ٹیلی کام اور بینکنگ انڈسٹری کے نقش قدم پر چلنا چاہئے: ٹیلی کام اور بینکنگ کا طریقہ کار آزمودہ ہے اور نتائج سامنے لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس ضمن میں سیلز پروفیشنل فورم کے بانی محمد آصف خوشنود کا کہنا تھا اس مسئلے پر سیلز کمیونٹی کی جانب سے حوصلہ افزا شرکت دیکھنے میں آئی ہے اور ہمیں اس پر مثبت درعمل اور آراء دیکھنے میں آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے بعد باقی شہروں میں اپنے پروگرامات سے حاصل ہونے والے نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے ایف بی آر کو قابل عمل مربوط لائحہ عمل دیا جائے گا۔پاکستان ٹریڈ اینڈ ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن آنے والے سیشن میں ساتھ ہوگی اور ہم کوشش کریں گے کہ ٹریڈرز،ریٹیلرز،سیلز اور ڈسٹری بیوشن سے وابستہ افراد کو ایک صفحے پر اکٹھا کیا جا سکے تاکہ قابل عمل مربوط حل پیش ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ڈسٹری بیوٹر اور دکاندار میں اس بابت ابہام اور اعتمادکی کمی دیکھی ہے۔اُن کا ایک بڑا مسئلہ ساخت کی عدم موجودگی اور معلومات کی کمی ہے۔ انہیں نہیں معلوم ہے کہ اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد کیا ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے طریقہ کار کی وجہ سے ڈسٹری بیوٹر دیگر ذرائع سے دکاندار کو مستفید کر رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ایف بی آر کے ساتھ اس مسئلے پر ہماری گفتگو ہونی ہے اور اس سے قبل پورے پاکستان میں اس مسئلے کی بابت مباحثے کروا کر مسائل اور اُن کا حل تلاش کر رہے ہیں تاکہ جب ہم ایف بی آر کے ساتھ بیٹھیں تو کوئی ہمارے پاس صرف مسائل کی نہیں بلکہ اُن کا قابل عمل حل بھی موجود ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.