سیدنا امام حسین کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ ہے:محمد یوسف ہوتی

45

برلن( اکرام الدین) پاکستان مسلم لیگ ق سینٹرل سینئر نائب صدر محمد یوسف ہوتی،خیبر پختون خواہ کے جنرل سیکرٹری وجعی الزمان اور ترجمان خیبرپختونخوا صفدر خان باغی نے محرام الحرام کے یوم عاشور کے حوالے سے شہید کربلا حضرت امام حسین رضہ اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے خانوادے اور رفقاء کی عظیم قربانی کی یاد مناتے ہوئے کہا کہ اسکے مقاصد اور حکمت عملی کو پیش نظر رکھنا چاہیے کیونکہ اس عالم انسانیت اور بالخصوص ہمارے گوں نا گوں مسائل کا حل مضمر ہے خانوادہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی زات اور اس کے مفادات پر اجتماعی مقاصد اور معاشرے کی تہذیب اور پاکیزگی فوقیت رکھتی ہے۔جسے ہر کسی صورت میں کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی سانحہ کربلا کا دوسرا اور اہم ترین سبق یہ ہے کہ معاشرے اور ریاست کے معاملات چند افراد کسی گرو کی خواہشات کے تابع نہیں کی جا سکتی کیونکہ ان امور براراست تعلق شرف انسانی ،انسانی آزادی اور فلاح انسانیت کے عظیم مقاصد سے ہے جنہیں اسلام کے زریں اصولوں کے تحت مشاورت اور اجتماعیت کے زریعہ ہی حاصل کیا جا سکتا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کے شہادت حضرت امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی ملتی ہے دس محرام الحرام ہمیں سیدنا حضرت امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی عظیم شہادت کی یاد دلاتا ہے سیدنا حضرت امام حسین رضی تعالیٰ عنہ کا سیرت و کردار ہر ورق ہر اعتبار سے غیر معمولی ہے سیدنا حضرت امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو اس مہینے دس تاریخ کو کربلا کے مقام پر اپنے خانوادے کے بہت سے دیگر افراد کے ساتھ انتہائی مظلومانہ اور دردناک انداز میں شہید کردیا گیا سیدناحضرت امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس کی کسک آج تک آمت مسلمہ شدید محسوس کرتی ہے اور آپ کی سیرت و کردار اور سیدنا امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی عزیمت استقامت اور شہادت کا تزکرہ رقیق القلب مسلمانوں کے دلوں پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتا ہے پاکستان مسلم لیگ ق سینٹرل سینئر نائب صدر محمد یوسف ہوتی،جنرل سیکرٹری وجعی الزمان اور خیبر پختونخوا ترجمان صفدر خان باغی نے کہا کہ محرم الحرام کے مہینے میں بہت سے لوگوں کی غفلت سے چند ایک شہروں میں ناخشگوار واقعات رونما ہوتے ہیں ان کا سدباب کے لیے پاکستان میں تمام مکاتب فکر جید علمائے کرام اور حکومتی وزراء اعلیٰ سطح پر مشترکہ طور پر ضابطہ اخلاق بنائے اور اس ضابطہ اخلاق میں ان عظیم مقدسات امت یعنی خلفائے راشدین، امہات المؤمنین اہل بیعت عظام اور صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہ اجمعین کی تنقیص حرام اور تکفیر کرنا کفر ہے اگر اس ضابطہ اخلاق پر عمل کیا جائے تو نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا بھر میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور ناخشگوار واقعات پر قابو پایا جاسکتا ہے محرم الحرام کا مہینہ شروع ہو چکا ہے ہم یہ دعا اور امید کرتے ہیں کہ اسلامی سال کا یہ پہلا مہینہ مسلمانوں، پاکستان و کشمیر کی آزادی کا عروج و ترقی کا سال اور اسلام دشمن کے زوال اور تنزلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا انشاء اللّہ رحمن ہم دس محرم الحرام کے موقع پر حضرت امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اور ان کے عظیم خانوادے کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ یہ عہد بھی کرتے ہیں کے اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات خاندان رسالت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے نقوش قدم پر چلتے ہوئے دیں گے اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنوں میں قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.