امید صبح

49

تحریر:عائشہ طارق۔۔۔
صبح کا وقت تھا. سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا. سب اپنی ہی دوڑ میں لگے ہوئے تھے۔ سڑک پر گاڑیاں رواں دواں تھیں. ایسے ہی ایک گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھی ایک لڑکی جو دیکھنے میں اٹھارہ انیس سال کی لگ رہی تھی. وہ اپنی سوچوں میں گم تھی. دنیا کی چہل پہل سے بے خبر اپنی زندگی کے غموں اور پریشانیوں کے بارے میں سوچنے میں مصروف تھی . پچھلے کچھ مہینوں سے وہ کھوئی کھوئی اور اداس رہنے لگی تھی. بات بات پر اللہ سے شکوہ کرنے لگی تھی. وہ آج بھی شکوہ شکایت کرنے میں مصروف تھی. اس کو ایسا لگتا تھا کہ علیزه سلیمان دنیا کی سب سے بے چاری اور غمزدہ لڑکی ہے. اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اس کے پاپا کے ایکسیڈنٹ اور ڈیٹھ کے بعد سے اس کو اس بات کا احساس بار بار کروایا جاتا تھا. وہ جب لوگوں کو اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے اور پیارا کرتے دیکھتی تو اس کا شدت سے دل کرتا تھا کہ اس کے پاپا بھی اس کے پاس ہو مگر جو انسان چاہتا ہے وہ ضروری تو نہیں ہے ویسا ہی ہو. اس کو لگتا ہے کہ اس دنیا میں صرف وہ ہی ہے جس کے پاپا نہیں ہے باقی سب کے پاس تو ہے. پھر اس کے رب نے اس سے ہی کیوں اس کے پاپا اتنے جلدی لے لیے.۔۔۔۔۔۔ آخر کیوں ۔۔۔۔۔ اس کا دل کرتا تھا کہ سب کی طرح اس کے پاپا بھی اس کے پاس ہو، اس کے ساتھ ہو،
آج سے چھ ماہ پہلے علیزه ایک بہت خوش اخلاق ، امید رکھنے والی اور اللہ کا شکر ادا کرنے والی شکر گزار لڑکی تھی. اس کے اندر کی امید کی کرینوں سے دوسروں کی زندگیاں بھی روشن ہوتی تھیں. وہ اپنی چھوٹی سی فیملی جس میں اس کی ماما، پاپا اور وہ شامل تھی کے ساتھ رہتی تھی. یہی اس کی کل دنیا تھی. اپنی ماما سے بھی وہ بہت پیارا کرتی تھی مگر اس کے پاپا میں تو اس کی جان تھی. ایک دن ایک ایسا حادثہ ہوا جس میں اس کا سب کچھ تباہ ہو گیا تھا. ایک کار ایکسیڈنٹ میں اس کے پاپا کی ڈیٹھ ہو گئی تھی. اس حادثہ نے علیزه سلیمان کی روح تک کو بکھیر کر رکھ دیا تھا۔ اس کو مکمل طور پر توڑ دیا تھا. اس نے اس دن زندگی میں پہلی دفعہ بہت شدت سے کچھ مانگا تھا. اپنے پاپا کے ایکسیڈنٹ کی خبر سن کر وہ بہت پریشان ہوگئی تھی. ہر پل اپنے رب سے اپنے پاپا کی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھی. اس نے اس دن بہت دعائیں کی تھی. اس کو اس بات کا ناز تھا کہ اس کا رب اس کی کوئی دعا رد نہیں کرتا مگر اس دن پہلی دفعہ اس کی دعا رد ہوئی تھی اس کو ایسا لگ رہا تھا کہ اس کی دعائیں آسمان سے ٹکرا کر واپس آ گئیں ہیں.اس دن اس کی دعاؤں کا اثر ہی نہیں ہو رہا تھا. وہ اس دن بہت روئی تھی. اپنے پاپا کی ڈیٹھ کے بعد وہ ٹوٹ کر بکھر گئی تھی. اس نے سب کچھ چھوڑ دیا تھا. اب وہ دعا بھی نہیں مانگتی تھی. اس نے اب نمازیں پڑھنا بھی چھوڑ دیا تھا. اب وہ ہر وقت صرف شکوہ کرتی رہتی تھی. وہ لڑکی جس نے ہمیشہ دعا کی تھی، ہر چیز کے لیے اپنے رب پر امید رکھتی تھی. اب وہ آہستہ آہستہ اپنے رب سے دور ہوتی جارہی تھی. اب وہ صرف شکوہ و شکایت کرتی تھی . ایک حادثہ نے اس کی زندگی کو مکمل بدل دیا تھا.
”آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا” وہ سوچ رہی تھی کہ ایک جھٹکا لگا اور گاڑی رک گئی. اس نے فوراً سے اپنی بند آنکھیں کھولی اور ڈرائیور سے پوچھا.
”گاڑی کو کیا ہوا بند کیوں ہوگئی ہے؟”
”پتا نہیں میڈیم شاید کوئی مسئلہ ہو گیا ہے. میں چک کرتا ہوں. ” ڈرائیور نے اس کی بات کے جواب پر فوراً کہا .اور یہ کہہ کر وہ گاڑی سے باہر نکل گیا اور گاڑی چک کرنے لگا. کچھ دیر بعد اس نے آکر بتایا کہ ”میڈیم گاڑی کا انجن گرم ہو گیا ہے اور گاڑی میں پڑی بوتلوں میں بھی پانی نہیں ہے. میں پاس کی مسجد سے پانی لے کر آتا ہوں” وہ یہ کہہ کر چلا گیا.
وہ گاڑی سے نکل کر چہل قدمی کرنے لگی. وہ گاڑی سے کافی دور آ گئی تھی. اتنے میں دو بچے جن کی عمر تقریباً گیارہ اور بارہ کے قریب تھی. اس کے پاس کھڑے ہوگئے اور اس میں سے ایک نے کہا. ”باجی! یہ پھول لے لو بہت اچھے ہیں. ” اس نے ایک نظر پھولوں پر ڈالی اور دوسری ان معصوم اور ننھے بچوں پر. پهول دیکھنے میں ہی بہت خوبصورت اور تازے لگ رہے تھے. مگر آج اس کا ان کو خریدنے کا دل نہیں تھا. پهول دنیا کی وہ واحد چیز تھی جو اس کو بچپن سے بہت اٹریکٹ کرتے تھے. مگر آج وہ بھی اس کو اٹریکٹ نہیں کر رہے تھے.

دل کا موسم زرد ہو تو کچھ بھلا لگتا نہیں
کوئی منظر کوئی چہرہ خوش نما لگتا نہیں

وہ آگے جانے لگی تھی کہ پتا نہیں وہ کیا سوچ کر روکی. اور بیگ میں سے کچھ پیسے نکلا کر ان بچوں کو دیئے مگر انہوں نے انکار کر دیا.
”باجی ہم مانگنے والے نہیں ہے ہم میں خودداری ہے۔ اگر ہم نے مانگ کے کھانا ہوتا تو اس کڑکتی دھوپ میں یہاں پهول نہ بیچ رہے ہوتے بلکہ مانگ کر کھاتے. ہمیں نہیں چاہئے آپ کی بھیک.” شاید وہ تھوڑا بڑا تها دوسرے والے سے بہت غصے میں بولا اور منہ موڑ کر کھڑا ہو گیا.
”تمہیں کس نے بولا ہے کہ میں بھیک دے رہی ہوں میں تو تم سے پهول خریدنے لگی تھی اور تم نے مجھے اتنی باتیں سنا دی” اس کو پتا نہیں اس بچے کا اندز بہت اچھا لگا تھا.
”مجھے آپ کو پهول بھی نہیں دینے” اس نے اتنے ہی غصے سے کہا. علیزه نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا.
”آپ کو کتنے کے چاہیے. آپ مجھے بتاؤ. اس کا تو دماغ خراب رہتا ہے. ہر کسی سے لڑتا رہتا ہے” وہ دوسرا لڑکا اپنی ہی معصومیت کی دھن میں بول رہا تھا.
”مجھے تو بہت سارے پهول چاہیے. اچھا ایک بات بتاؤ تمہارا نام کیا ہے” پتا نہیں کیوں اس کو ان دونوں سے بات کر کے مزه آ رہا تھا.
”میرا نام حماد ہے” اس نے پھولوں کو شاپڑ میں ڈالتے ہوئے بتایا.
”اور تمہارا کیا نام ہے؟” جو ابھی تک انجان بنا کھڑا تھا اس کے مخاطب کرنے پر اس کی طرف دیکھنے لگا.
”اس کا نام جی حسن ہے” اس سے پہلے کے وہ خود بولتا حماد بول پڑا.
”ایک بات بتاؤ تم لوگ سکول نہیں جاتے کیا؟ ”اس نے نیا سوال کردیا.
”باجی! اگر ہم سکول جائے گے تو جی اپنا گھر واپس کیسے لے گئے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اپنی ہی ٹیون میں بول رہا تھا. جب بڑے بھائی نے اس کو روکا.
”کتنی دفعہ میں نے منع کیا ہے تم سے ہر ایک کے ساتھ مت شروع ہو جایا کرو. ”
”ایک منٹ تم کیا کہہ رہے تھے” اس نے حماد سے پوچھا.” گھر کیا مطلب؟ ……” اس کو کچھ حیرت ہوئی.
”وہ جی….” حماد بتانے لگا مگر حسن کے آنکھیں نکالنے پر روکا. ”مجھے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نہ دیکھوں” اس کی بات پر علیزه کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی.
”میں بتاتا ہوں باجی!”حماد نے بولنا شروع کیا ”اصل میں ہمارے اب کا انتقال ہوگیا ہوا ہے.” یہ الفاظ اس کے جسم سے اس کی روح کو کھنچ رہے تھے. ”ہمارے ابا ایک فوجی تھے ان کو کینسر ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ان کو وقت سے پہلے نوکری چھوڑنی پڑی تھی. ان کی پینشن بہت تھوڑی تھی. اس میں ہمارے گھر کا گزر بہت مشکل سے ہوتا تھا. اور ابا کا علاج تو ممکن ہی نہ تھا. اس لئے اماں نے چاچے سے قرض لیا اور اس سے ابا کا علاج کروایا مگر پھر بھی ابا نہ بچ سکے. ان کی وفات کے بعد چاچا بھی بدل گیا اس نے ابا کے مرتے ہی اپنے پیسوں کا تقاضا کردیا. پیسے تو ہے ہی نہیں تھے تو اس نے ہمارے گھر پر قبضہ کر لیا. کہتا تها کہ یا تو پیسے دو یا اپنا گھر۔ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا. انہوں نے ہمیں بے گھر کردیا. اماں نے بہت منت کی مگر انہوں نے ایک نہیں سنی.” یه سب بتاتے ہوئے اس بچے کے تاثرات بالکل نارمل تھے. مگر وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی. اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے.
” باجی آپ کہتی ہے ہم سکول کیوں نہیں جاتے. جن کے سر پر اپنی چھت نہ ہو۔ ان سے پڑھ کہاں جاتا ہے. اس پیٹ کو بڑھنا آسان نہیں ہوتا” اس سارے میں حسن پہلی دفعہ بولا تھا. اس کے ہر لفظ سے اس کی تکلیف کا اندازہ ہو رہا ہے. ”ماں کی خواہش ہے کہ ہمارا اپنا گھر ہو. اور ابا کی پینشن اتنی تھوڑی ہے کہ اس میں گھر کا خرچہ مشکل سے پورا ہوتا ہے. اس لئے ہم دونوں چھوٹے چھوٹے کام کرکے کچھ پیسے جمع کرتے ہیں. جس سے گھر کا کرایہ ادا کرتے ہیں. پہلے ہم نے اپنا گھر واپس لینا ہے اور پھر ہم دونوں سکول جائے گے. ” حسن کے یہ الفاظ علیزه سلیمان کو بہت تکلیف دہ رہے تھے. وہ اپنے جذبات پر کنٹرول نہ کر پائی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے. اس نے اپنا رخ بدل لیا اور گاڑی کی طرف چل دی. اچانک حماد اس کے سامنے آیا اور اس کو پهول اور باقی پیسے دیئے. وہ کچھ کہہ بھی رہا تھا. مگر اس کو کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی. وہ آگے بڑھ گئی.
آج اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس زمین میں دفن ہو جائے. اس کو لگ رہا تھا کہ وہ اب اپنے رب کا، اپنے اللہ کا سامنا کبھی نہیں کر پائے گی. اس نے اپنے رب کو کیا کیا نہیں کہا تها. اس کو لگتا تھا کہ وہ ہی اس دنیا میں سب سے زیادہ دکھی ہے مگر یہاں پر لوگ اس سے بھی زیادہ دکھوں اور پریشانیوں سے گزر رہے ہیں. پھر بھی سب ٹھیک ہونے کی امید رکھے ہوئے ہیں. ہر حال میں شکر کرتے ہیں. صبر کرتے ہیں اور میں۔۔۔۔۔۔ ” اس نے مجھے ایک امتحان میں ڈالا اور میں نے اس کی تمام تر نعمتوں کو فراموش کر دیا” اس کی آنکھیں سے آنسو کی بارش ہو رہی تھی.
”میڈیم. ” ڈرائیور کی آواز نے اس کو چونکا دیا وہ کچھ کہے بغیر گاڑی میں بیٹھ گئی. آج اس کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا. اس نے اپنے رب کی نافرمانی اور ناشکری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی. اپنے دکھوں کے ماتم میں اتنا مصروف تھی کہ اس کو اپنے آس پاس کے لوگوں کے پرابلمز نظر ہی نہیں آئے اس کو اللہ نے ہر نعمت دی تھی مگر وہ پھر بھی نا شکری کر رہی تھی. پہلے اس کی آنکھوں سے آنسو اپنی محرومیوں کے لیے نکلتے تھے مگر آج آنسو اس کی خطاؤں کے لیے تھے.
گاڑی ان بچوں کے پاس سے گزری تو اس نے کچھ سوچ کر ڈرائیور سے کہا” گاڑی روکوں” اس کے دماغ میں کچھ چلا رہا تھا. ڈرائیور نے فوراً گاڑی روک دی اور سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا. وہ اس کی سوالیہ نظروں کو نظرانداز کر کے گاڑی سے اتر گئی. وہاں پر صرف حماد موجود تھا. حسن نظر نہیں آ رہا تھا. ”حماد حسن قدر ہے؟” اس نے حماد سے پوچھا. اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتا وہ پیچھے سے آگیا.
”جی آپ میرے بارے میں پوچھ رہی تھی؟ ” اس نے قریب آکر کہا ”لیکن آپ تو چلی گئی تھی؟ ” ساتھ ہی اس نے دوسرا سوال کردیا.
” ہاں چلی تو گئی تھی مگر ایک کام ره گیا تھا. ” اس پر دونوں نے اس کو حیرت سے دیکھا
”تم دونوں سکول جانا چاہتے ہو؟ ” اس نے ان دونوں سے پوچھا
”کیا مطلب؟ ”حسن نے حیران ہو کر پوچھا
” یہ کے اب سے تم دونوں سکول جاؤ گے. اور رہی بات سکول کی فیس کی اور باقی خرچے کی تو آج سے بلکہ ابھی سے وہ سب میری ذمےداری ہے.”اس نے فصیلہ کن انداز میں کہا
” ہمیں کسی کا احسان نہیں چاہئے.” یہ کہہ کر اس نے منہ موڑ لیا
”حسن میں جاتی ہوں کہ تم دونوں بہت خوددار ہو ، محنت کر کے حلال کی روزی کماتے ہو مگر ابھی تم دونوں بہت چھوٹے ہو. ابهی تم دونوں کے پڑھنے لکھنے کی عمر ہے” وہ سانس لینے کے لئے روکی.
”آپ ہمیں خوددار بھی کہہ رہی ہو اور ہماری خودداری کا مذاق بھی اڑا رہی ہو” اس نے افسوس بھرے انداز میں سخت لہجے کے ساتھ کہا.
”میں تم لوگوں پر کوئی احسان نہیں کر رہی اور نہ ہی تم لوگوں کی خودداری کا مذاق اڑا رہی ہو. میں جتنا بھی تم لوگ کی پڑھائی پر خرچ کروں گی وہ میرا تم لوگوں پر قرض ہو گا. جب تم لوگ پڑھ لکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاؤ گے تو مجھے واپس کردینا” حماد نے اس کی بات کاٹ دی ”اگر ہم نہ ادا کر پائے تو کیا آپ بھی چاچا کی طرح ہمارے ساتھ کرو گی. ” اس پیاری آنکھوں والے محصوم بچے نے اپنے خوف کا اظہار کیا.
” نہیں میں ایسا کچھ نہیں کروں گی اور ویسے بھی تم لوگ جب پڑھ لکھ جاؤ گے تو میرا قرض کیا اپنے لیے بڑا سا گھر بھی بنا لو گے” اس نے نیچے بیٹھ کر اس کے ننھے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا.
” میں کیسے یقین کرلو آپ کی بات پر آپ سب امیر لوگ ایک جیسے ہوتے ہو” اس دفعہ حسن نے کہا تها.
"حسن اس دنیا میں سب ایک جیسے نہیں ہوتے سب کو ایک ہی قطار میں مت کھڑا کرو. میں نہیں جانتی کہ میں دوسروں سے کتنی مختلف ہوں مگر میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ میرے پاس جو کچھ ہے اس میں کسی کا حصہ ضرور ہے جو مجھ پر قرض ہے” علیزه یہ کہہ کر خاموش ہو گئی.
” اگر ہمارے رب نے ہمارا پڑھنا لکھنا لکھا ہو تو ہمارا رب ہمارے لیے بہترین انتظام کر دےگا” وہ خاموش ہو گیا.
” ایک بات بولو تم بھی بہت امیر ہو تمہارے پاس وہ ہے جو کسی کے پاس نہیں ہے. تمہارے پاس انسانیت ہے، خودداری ہے اور سب سے بڑی بات تمھارے پاس یقین ہے سب ٹھیک ہونے گا, اپنے رب پر بھروسہ ہے اور جس کے پاس یہ سب ہوتا ہے وہ غریب کیسے ہوسکتا ہے.” وه سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی.
”مگر باجی ان سب سے پیٹ نہیں بڑھتا” اس نے علیزه کو لاجواب کرنے کے لیے کہا تھا مگر علیزه تو علیزه ہے.
” تو پیٹ امیروں کے کب بھرے ہیں” اس کی اس بات نے حسن کو خاموش کردیا. ”میں تمہاری اس تلخی کو سمجھ سکتی ہوں. تمہارے ساتھ بہت بڑا ہوا۔ میں مانتی ہوں کہ تم سے تمہارا بچپن چھین لیا گیا. تمہارا شعور وقت سے پہلے بڑا ہوگیا. مگر تم میں ایک چیز ہے وہ ہر کسی میں نہیں ہوتی وہ ہے امید سب کچھ ٹھیک کرنے کی. یقین تھا اللہ پر کے اگر اس نے امتحان میں ڈالا ہے تو وہ ہی نکلے گا. ایک بات بتاؤں یہ امید تم نے مجھے بھی دی ہے” وہ دونوں بھائی اس کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے.
” اور ایک بات تو پکی ہوگئی کہ اب کل سے تم دونوں سکول جاؤ گے. اپنی امی سے پوچھا کر مجھے بتا دینا اور یہ میرا نمبر ہے” اس نے بیگ میں سے ایک کاغذ نکلا اور اس پر اپنا نمبر لکھ دیا.
” مگر باجی کوئی کب تک کسی کے لیے کرتا ہے” حسن بے اختیار پھر سے بول پڑا.
” دوسروں کا تو پتا نہیں مگر میں جب تک زندہ ہوں ضرور کروں گی” اس نے یہی بات پیپر پر لکھ دی اور اس کے نیچے اپنے سگنچر کر دئیے اور وہ پیپر حسن کے ہاتھ میں تھما کر. خدا حافظ کہتی گاڑی کی طرف چل دی. وہ دونوں بھائی اس کو جاتا ہوا دیکھ رہے تھے.
آج وہ اپنے کندھوں پر سے بہت سارا بوجھ یہی اتار کر جارہی تھی آج اس کو واپس پلٹ کر جانے کا موقع مل گیا تها . آج اس کو اپنے غم کم لگنے لگئے تھے. یہ انسان کی فطرت ہے جب تک وہ دوسروں کی تکلیف کو جان نہیں لیتا تب تک اس کو اپنے غم بہت بڑے لگتے ہیں۔ آج وہ خالی دامن اپنے رب کی طرف لوٹ کر جا رہی تھی. اذان کی آواز سن کر اس نے ڈرائیور کو گاڑی کو قریبی مسجد کی طرف لے جانے کے لیے کہا. آج وہ ایک لمبے سفر سے فارغ ہو کر واپس اپنے رب کی طرف لوٹ رہی تھی. اس امید کے ساتھ کے اس کا رب اس کو معاف کر دے گا۔۔۔۔۔۔۔

میری دنیا کے پہرے اک دنیا اور بھی ہے. …
میرے غموں سے پہرے غم اور بھی ہے. ….

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.