رات کی خاموشی میں

38

اس اندھیر نگری میں،
جب ظلم حد سے بڑھتا ہے
جب سب در بند ملتے ہیں
تب مظلوم کی فریاد سننے
اک ہی در کھلا ملتا ہے
دل اک ہی دہائی دیتا ہیں
آنکھ میں دریا دکھائی دیتا ہے
جب لب، لب کشائی نہیں کرتے
ہر زخم رحم کی دہائی کرتا ہے
اسکی لاٹھی بےآواز جب پڑتی ہے
بدلتی ہیں سب پھوٹی تقریریں
ٹوٹتی ہیں ظالم کی سب زنجیریں
تحریکوں میں چلنے لگتے ہیں دیے
آسمان روشنیوں میں ڈالتے ہیں
مظلوم کی دعا سے عرش لرزتے ہیں
آسمان سے بجلی کڑکتی ہے
روح زمین پہ ابر رحمت برستی ہے

عائشہ طارق

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.